دور دراز پہاڑوں کے درمیان، جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی ایک خواب دکھائی دیتی ہیں، وہاں کچھ عورتیں ایسے خواب دیکھ رہی ہیں جو صرف ان کی اپنی زندگی نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے دشوار گزار علاقوں میں رہنے والی یہ خواتین جانتی ہیں کہ مواقع آسانی سے ان کے دروازے تک نہیں پہنچتے۔ محدود تعلیم، روزگار کے کم مواقع، مالی وسائل کی کمی اور تحفظ کے مسائل ان کے راستے میں بڑی دیواریں کھڑی کرتے ہیں، مگر ان دیواروں کے پیچھے ایک نئی کہانی جنم لے رہی ہے۔
یہ کہانی ہے حوصلے، ہنر، کاروبار اور روشنی کی۔ ان خواتین کے لیے بجلی صرف گھر روشن کرنے کا ذریعہ نہیں، بجلی کا مطلب ہے کہ آج ان کا کاروبار چلے گا یا نہیں۔ سلائی مشین چلانی ہو، چھوٹی دکان کھولنی ہو، موبائل چارج کرنا ہو یا کسی گھریلو کاروبار کو جاری رکھنا سب توانائی کی دستیابی سے جڑی ہیں۔
اگرچہ پاکستان نے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس کی تازہ ترین درجہ بندی میں 2025 کے 148 ویں نمبر سے پانچ درجے آگے بڑھ کر 145 ممالک میں سے 143 واں مقام حاصل کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا قدم اٹھایا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ملک ان تین ممالک میں شامل ہے جو سب سے نیچے ہیں۔ یہ صورتحال ہمیں ان عملی اقدامات کی یاد دہانی کرواتی ہیں، جن کا اثر خواتین کو روزمرہ زندگی میں میسر آنے والے مواقع میں نظر آنا چاہیے۔
تاہم، حاشیے پر دکھلائے گئے طبقات بالخصوص خواتین کے لیے امید کی ایک کرن نمودار ہو رہی ہے، جو نہ صرف اپنے لیے تمام تر رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں بلکہ دیگر خواتین کی آگے بڑھنے کی راہ بھی ہموار کر رہی ہیں۔
پاکستان مائیکرو فنانس انویسٹمنٹ کمپنی نے اپنی امپیکٹ رپورٹ 2025 میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے گلگت بلتستان تک اپنی فنڈنگ اور مالیاتی دائرہ کار میں توسیع کر دی ہے۔ خواتین کی کاروباری تربیت اور ان کے منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے آگاہی پاکستان، سرکل وومن، دراز اور جاز کیش کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔
اسی امپیکٹ رپورٹ 2025 کے مطابق مریم بتول، جو ایک پیش رو کاروباری خاتون ہیں اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے خواتین کو اپنے چھوٹے کاروبار قائم کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں، انہوں نے بلتستان بھر کی سینکڑوں کاروباری خواتین کے کام میں بلا تعطل تسلسل کے قرضہ کے منصوبے کے ذریعے 468,780 روپے کی سولر فنان سنگ حاصل کی۔
تاہم اگر ایک عورت کو صرف سولر سسٹم فراہم کرنے کے بجائے اسے سولر ٹیکنالوجی کی ماہر، کاروباری اور فراہم کنندہ بنا دیا جائے تو کیا ہوگا ؟ اس کا دلچسپ جواب ہمیں پاکستان سے ہزاروں میل دور مغربی افریقہ میں ملتا ہے۔
سینیگال سے ایک سبق
ایلی سولائر (ElleSolaire) مغربی افریقہ کے ملک سینیگال میں قائم ایک خواتین کی زیرِ قیادت سماجی کاروباری ادارہ ہے۔ 2017 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ آف گرڈ علاقوں کی خواتین کو صاف توانائی کے کاروبار شروع کرنے اور انہیں فروغ دینے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ یہ ادارہ ابتدائی سرمایہ، کمیونٹی پر مبنی مالی معاونت اور ’جتنا استعمال کریں، اتنی ادائیگی کریں‘ (Pay-as-you-go) فنانسنگ کے ذریعے خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے اور انہیں آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے ایک نیا راستہ
پاکستان میں اس ماڈل کے کئی بنیادی اجزا پہلے ہی موجود ہیں۔ مائیکروفنانس ادارے موجود ہیں۔ ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز موجود ہیں۔ ای کامرس پلیٹ فارمز موجود ہیں۔ سولر توانائی کی طلب بڑھ رہی ہے اور خواتین کے لیے کاروباری پروگرام بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ضرورت صرف ان تمام اجزا کو ایک مربوط نظام میں جوڑنے کی ہے۔ تربیت روایتی کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے تصویری ماڈیولز، عملی مظاہروں، ساتھی خواتین سے سیکھنے اور مقامی زبانوں کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ اسے خود پینل جوڑنے کا موقع دیا جائے۔ اسے کاروبار کا حساب کتاب سکھایا جائے۔ اسے موبائل والٹ استعمال کرنا سکھایا جائے اور پھر اسے بازار تک رسائی دی جائے۔ اس کے بعد ایک مربوط نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














