حکومت کا نجی کمپنیوں کو براہ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور سرکاری خزانے پر مزید بوجھ ڈالے بغیر گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بجلی گھروں اور دیگر نجی کمپنیوں کو براہ راست مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور کررہی ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے باخبر ایک شخص نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث حکومت توانائی کی فراہمی مستحکم رکھنے کے لیے نجی شعبے کو ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ سے ملک کے 2 ایل این جی درآمدی ٹرمینلز بڑی حد تک غیر فعال ہیں، جب مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث پاکستان کے سب سے بڑے ایل این جی فراہم کنندہ قطر سے ترسیل تقریباً رک گئی تھی۔

موجودہ قوانین کے تحت سرکاری ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے علاوہ دیگر خریداروں کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو خریدنا آسان نہیں۔

معاملے سے واقف شخص کے مطابق وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے ٹرمینلز کی غیر استعمال شدہ گنجائش کو نیلام کرنے کا دائرہ وسیع کرنے اور نجی کمپنیوں کو براہِ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معلومات ابھی عوامی سطح پر دستیاب نہیں۔

ایل این جی کے ایک درآمدی ٹرمینل کو چلانے والی کمپنی پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ طویل عرصے سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اس جیسی سرکاری ملکیت سے باہر کی کمپنیوں کو بھی براہِ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

آبنائے ہرمز سے گیس بردار جہازوں کی آمدورفت تقریباً رکنے کے باعث پاکستان کو ایل این جی کی ترسیل میں نمایاں کمی کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش اور ایندھن کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔

قطر سے ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے کچھ کارگو خرید رہا ہے، تاہم ایل این جی کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہیں، جس سے حکومتی مالیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ایندھن کی ترسیل میں طویل تعطل کے باعث پاکستان کے پاس بجلی گھروں اور صنعتی صارفین کے لیے گیس کی فراہمی برقرار رکھنے کی خاطر مہنگے اسپاٹ ایل این جی کارگو خریدنے کے سوا بہت کم راستے رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب رواں ماہ پاکستان کی ایل این جی فراہمی میں اس وقت بہتری آئی جب قطر سے آنے والا 81 ہزار 936 میٹرک ٹن مائع قدرتی گیس کا کارگو علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران اہم تزویراتی گزرگاہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد پورٹ قاسم پہنچا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp