جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول کی باضابطہ رونمائی سے قبل ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کو ایک بار پھر ایک ہی گروپ میں رکھے جانے کا قوی امکان ہے۔
بھارتی سپورٹس ویب سائٹ ’ریو اسپورٹس‘ کے مطابق اگرچہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان بھارت کو شکست نہیں دے سکا ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان میچ براڈکاسٹرز اور تجارتی شراکت داروں کے لیے انتہائی منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ کا ہائی وولٹیج ٹاکرا: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج دبئی میں مدمقابل، شائقین کی آمد جاری
اسی تجارتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی سی سی کی جانب سے دونوں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے زیر اہتمام یکم اکتوبر کو کیپ ٹاؤن میں میگا ایونٹ کے مکمل شیڈول کا اعلان کیا جائے گا، جس کے ساتھ ہی ایونٹ کا 1 سالہ کاؤنٹ ڈاؤن اور ٹکٹوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن بھی شروع ہو جائے گی۔
ذرائع کے مطابق 14 ٹیموں کا یہ عالمی میلہ یکم اکتوبر سے شروع ہو کر 21 نومبر تک جاری رہے گا۔
کوالیفائی کرنے والی ٹیمیں
عالمی کپ میں 14 ٹیمیں شرکت کریں گی، جن میں سے 30 ستمبر کی کٹ آف ڈیٹ تک کی درجہ بندی کے تحت بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، آسٹریلیا، انگلینڈ، سری لنکا، افغانستان اور بنگلہ دیش براہِ راست کوالیفائی کر رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ اور زمبابوے بطور میزبان ایونٹ کا حصہ ہوں گے، جبکہ باقی 4 ٹیموں کا فیصلہ 22 فروری سے 23 مارچ تک ہونے والے کوالیفائر مقابلے سے ہوگا۔
ورلڈ کپ کا نیا فارمیٹ
آئی سی سی نے 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے نیا اور سنسنی خیز ’تھری اسٹیج‘ فارمیٹ متعارف کروایا ہے۔
پہلے مرحلے میں 12، 13 اور 14 نمبر کی ٹیمیں ’سپر سیریز‘ کھیلیں گی جس کی فاتح اگلے مرحلے میں جائے گی۔
مزید پڑھیں:ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ: بھارت نے اہم میچ میں پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی
دوسرے مرحلے میں 6، 6 ٹیموں کے 2 گروپس ہوں گے جن سے بہترین 7 ٹیمیں ’سپر سیون‘ مرحلے میں پہنچیں گی اور وہاں سے ٹاپ 4 ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 کی مشترکہ میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نامیبیا کر رہے ہیں۔ اس سے قبل 2023 کے ورلڈ کپ میں 10 ٹیموں نے سنگل راؤنڈ رابن فارمیٹ کے تحت حصہ لیا تھا۔
کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شائقین کی دلچسپی اور مالی منافع کو برقرار رکھنے کے لیے آئی سی سی طویل عرصے سے پاکستان اور بھارت کو ابتدائی گروپس میں ایک ساتھ رکھتی آئی ہے تاکہ روایتی حریفوں کے درمیان کم از کم ایک مقابلہ یقینی بنایا جا سکے۔














