پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ہمایوں خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدرِ مملکت قائل ہوئے تو کوئی آئینی فیصلہ کریں گے، تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ پی ٹی آئی نے 14 برسوں میں صوبے میں انتشار کے سوا کچھ نہیں کیا۔
وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ہمایوں خان نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی‘ نے ہمیشہ آئین اور جمہوریت کی بالادستی پر یقین رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں قائم ’پاکستان تحریکِ انصاف‘ کی حکومت نے گزشتہ 13، 14 سالوں کے دوران عوامی فلاح و بہبود اور امن و امان کے قیام کے لیے صفر کام کیا ہے اور ان کی پوری سیاست محض دھرنوں اور تصادم کے گرد گھومتی رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے صوبائی حکومت کو ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانا حکومت کی نااہلی ہوگی، لیاقت بلوچ
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو بھاری فنڈز فراہم کیے گئے لیکن عملاً صوبائی حکومت کی کارکردگی کہیں نظر نہیں آتی۔
دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو سوات آپریشن کی طرز پر ایک پیج پر آنا ہوگا۔
یہ ہرگز ممکن نہیں کہ وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک سمت میں کام کریں اور صوبائی حکومت ان کی مخالفت کرتی رہے۔ اس طرزِ عمل سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔
ہمایوں خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق سوال پر سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ تاحال ’پیپلز پارٹی‘ کے ساتھ ایسا کوئی ڈرافٹ یا مسودہ شیئر نہیں کیا گیا اور یہ باتیں محض افواہیں ہیں۔
تاہم آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کی گنجائش موجود ہے، اگر صدرِ مملکت اس بات پر قائل ہو جائیں کہ صوبائی حکومت نظام چلانے میں ناکام ہو چکی ہے اور ملک کے خلاف کوئی اقدام کیا جا رہا ہے، تو وہ اس حوالے سے آئینی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ساتھ مذاکرات کے آپشنز میز پر ہیں، رانا ثنااللہ
ہمایوں خان کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی‘ جمہوریت کی سب سے بڑی حامی اور غیر آئینی اقدامات کی مخالف ہے۔ آمریت کے دور میں پارلیمنٹ سے چھینے گئے اختیارات صدر آصف علی زرداری نے ہی عوام کی اس نمائندہ پارلیمنٹ کو واپس لوٹائے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 28 ویں ترمیم اور نئے چھوٹے صوبوں کے حوالے سے بھی محض افواہیں گردش کر رہی ہیں، جب تک کوئی ڈرافٹ باقاعدہ طور پر سامنے نہیں آتا اور ہمیں آن بورڈ نہیں لیا جاتا، وہ بطور سیکریٹری جنرل ان معاملات پر تبصرے سے گریز کریں گے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے منظرِ عام سے غائب ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور بختاور بھٹو کے نجی دورہِ یورپ پر بے بنیاد افواہیں پھیلائی گئیں۔
نجی دوروں کے دوران سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا مناسب نہیں ہوتا۔ تاہم چیئرمین بلاول بھٹو نے وطن واپس آتے ہی اتوار کو اسلام آباد اور پیر کو کراچی میں اہم سیاسی ملاقاتیں کی ہیں اور وہ اب پوری طرح متحرک ہیں۔
’تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان‘ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ہمایوں خان نے تصدیق کی کہ گزشتہ روز ان کا وفد ’پیپلز پارٹی‘ کے سیکرٹریٹ آیا تھا۔
وہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا انعقاد کروانا چاہتے ہیں اور انہوں نے ہماری قیادت کو اس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ دعوت چیئرمین کے سامنے رکھی جائے گی اور حتمی فیصلہ وہی کریں گے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ جب حکومت بنتی ہے تو اس کے ساتھ بھاری ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ وزیر یا وزیرِ اعلیٰ بن جائیں لیکن ڈیولپمنٹ اور لا اینڈ آرڈر پر فوکس نہ کریں۔
مرکز میں جب ’پیپلز پارٹی‘ اور صوبے میں ’اے این پی‘ کی حکومت تھی تو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ میں ایک فیصد اضافی حصہ دیا گیا۔ ہم نے اپنے دور میں پولیس کی تنخواہوں اور شہدا پیکیج میں اضافہ کیا اور انہیں جدید آلات فراہم کیے۔
مزید پڑھیں:گورنر راج یا موجودہ نظام؟ پشاور کے شہریوں کی کیا رائے ہے؟
انٹرویو کے آخر میں ہمایوں خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے قانون سازی کے ذریعے پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر دیا ہے، لیکن اب جس طرح سے ترامیم کر کے پولیس کو دوبارہ سیاسی حکومت کے ماتحت لایا گیا ہے، اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حوصلہ ٹوٹے گا۔
ان کا ماننا ہے کہ جب تک پولیس کو سیاسی حکومت کی مکمل حمایت حاصل نہ ہو، معاملات کو سنبھالنا ایک بڑا مسئلہ رہتا ہے۔













