انٹرنیشنل گرل چائلڈ ڈے، صوبہ خیبر پختونخواہ کم عمر بچیوں کی شادی روکنے میں کیوں ناکام ہے؟

اتوار 11 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

16 سال کی ایک لڑکی کے ہاتھ میں شاید اسکول کی کتابیں ہونی چاہییں، مستقبل کے خواب ہونے چاہییں اور یہ فیصلہ کرنے کے لیے وقت ہونا چاہیے کہ وہ آگے کیا پڑھنا چاہتی ہے یا زندگی میں کیا بننا چاہتی ہے، لیکن خیبر پختونخوا میں یہی عمر اس کی شادی کے لیے قانونی حد بھی ہے۔

یعنی ایک ہی عمر میں ایک لڑکی کو قانونی طور پر بالغ زندگی کی ذمہ داریوں میں داخل ہونے کی اجازت تو حاصل ہے، مگر تعلیم، صحت اور مستقبل کے حوالے سے اس کے کئی اہم فیصلے ابھی باقی ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لڑکی کی شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر، پنجاب اسمبلی میں بل کثرت رائے سے منظور

11 اکتوبر کو دنیا بھر میں گرل چائلڈ ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن لڑکیوں کے حقوق، تعلیم، صحت اور تحفظ کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بہت سی لڑکیوں کے لیے بچپن اور شادی کے درمیان فاصلہ اب بھی بہت کم ہے۔

یونیسف کے مطابق خیبر پختونخوا میں 20 سے 24 سال کی عمر کی خواتین میں سے 26.3 فیصد کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو چکی تھی، جبکہ 6.4 فیصد کی شادی 15 سال کی عمر سے پہلے ہوئی۔

دوسرے لفظوں میں، 20 سے 24 سال کی عمر کی تقریباً ہر چار خواتین میں سے ایک ایسی ہے جس کی شادی 18 سال کی عمر مکمل ہونے سے پہلے ہو چکی تھی۔

یہ صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے ایسی لڑکیوں کی زندگیاں ہیں جن کے لیے شادی کا مطلب اسکول چھوڑنا، گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنا یا کم عمری میں ماں بن جانا بھی ہو سکتا ہے۔

یہ یونیسف کے استعمال کردہ 2019 ملٹی پل انڈیکیٹر کلسٹر سروے (MICS) کے اعدادوشمار ہیں، جو صوبے میں کم عمری کی شادی کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔

تازہ دستیاب مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 15 سے 17 سال کی عمر کی 9.6 فیصد لڑکیاں شادی شدہ، بیوہ، طلاق یافتہ یا علیحدہ شدہ ریکارڈ ہوئیں۔

یعنی اس عمر کی تقریباً ہر 10 لڑکیوں میں سے ایک کی ازدواجی حیثیت پہلے ہی تبدیل ہو چکی تھی۔

یہ وہ عمر ہے جب بہت سی لڑکیاں ابھی ثانوی تعلیم حاصل کررہی ہوتی ہیں، اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہی ہوتی ہیں اور اپنی شخصیت کی تشکیل کے مرحلے میں ہوتی ہیں، لیکن شادی اس مرحلے کو یکسر بدل سکتی ہے۔

کم عمری کی شادی کے مسائل صرف طبی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے امکانات کم کرتی ہے، معاشی مواقع محدود کر سکتی ہے اور کم عمری میں حمل اور زچگی کی صورت میں صحت کے اضافی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا کا قانون کیا کہتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کے لیے شادی کی موجودہ قانونی عمر 16 سال ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں قانون اور کم عمری کی شادی کے خلاف عالمی اور قومی پالیسیوں کے درمیان بحث شروع ہوتی ہے۔

18 سال سے کم عمر کو بچہ تصور کرنے کے عالمی اصول کے باوجود صوبے میں 16 سال کی عمر میں شادی قانونی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک لڑکی 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی ازدواجی زندگی میں داخل ہو سکتی ہے۔

یہ محض 2 سالوں کا فرق نہیں بلکہ ان 2 برسوں میں ایک لڑکی اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہے، ہنر سیکھ سکتی ہے، جسمانی اور ذہنی طور پر مزید بالغ ہو سکتی ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔

خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال کرنے کی بحث نئی نہیں، تاہم اگست 2026 میں صوبائی حکومت کی جانب سے 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی روکنے کے لیے قانون سازی کا اعلان سامنے آیا۔

اگر یہ قانون سازی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو صوبے میں لڑکیوں کے لیے موجودہ 16 سال کی قانونی حد بڑھا کر 18 سال کی جا سکتی ہے، لیکن صرف قانون بدلنے سے کم عمری کی شادی ختم نہیں ہوگی۔

قانون کے ساتھ اس پر عملدرآمد، پیدائش کا درست اندراج، شناختی دستاویزات کی دستیابی، لڑکیوں کی تعلیم اور خاندانوں میں آگاہی بھی ضروری ہوگی۔

کیونکہ جب کسی لڑکی کی عمر ہی درست طور پر درج نہ ہو تو شادی کے وقت یہ طے کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ قانونی عمر کو پہنچ چکی ہے یا نہیں۔

کم عمری کی شادی کا سب سے نمایاں اثر تعلیم پر پڑتا ہے، پاکستان میں شادی شدہ لڑکیوں میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کی شرح غیر شادی شدہ لڑکیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

جس کے مطابق شادی صرف ایک سماجی یا خاندانی فیصلہ نہیں، بلکہ لڑکی کی تعلیم اور اس کے مستقبل کے معاشی مواقع سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔

مزید پڑھیں: کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج کرنے پر شرمیلا فاروقی کا مولانا فضل الرحمان کو سزا دینے کا مطالبہ

اصل سوال یہ ہے کہ ایک لڑکی کو اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کے قابل بنانے کے لیے معاشرہ اسے کتنا وقت، تعلیم اور مواقع فراہم کر رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں 16 سال کی قانونی حد کو 18 سال تک بڑھانے کی بحث اسی بڑے سوال کا حصہ ہے کہ کیا ایک لڑکی کو شادی سے پہلے اپنی تعلیم، صحت اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کم از کم 18 سال تک کا وقت ملنا چاہیے؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp