قیمتی پتھروں کے شعبے میں سست روی پر وزیراعظم برہم، برآمدات بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل طلب

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے میں ترقیاتی اقدامات اور پائلٹ منصوبے کی تیاری میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت کے ساتھ جامع لائحہ عمل تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سست روی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی سے لے کر تراش خراش اور ان کی قدر میں اضافے تک ایک مکمل نظام تیار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قیمتی پتھروں کی غیر معیاری طریقوں سے کان کنی اور اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، معدنیات، ہنرمندی اور ایس ایم ایز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات بڑھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے ’برانڈ پاکستان‘ متعارف کرانے پر کام کیا جائے۔ شعبے میں قدر افزائی کے لیے اعلیٰ معیار کے مراکز (سینٹرز آف ایکسیلینس) کے جلد قیام کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

وزیراعظم نے پائلٹ منصوبوں اور قیمتی پتھروں کی ماڈل کانوں کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرکے انہیں جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی کھوج، تراش خراش اور قدر میں اضافے کے بعد انہیں برآمدات کے لیے تیار کرنے سے متعلق پائلٹ منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حسین آباد، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی ہے۔ منصوبے کے لیے فنڈز بھی دستیاب ہیں اور تعمیراتی کام جلد شروع کردیا جائے گا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبے کے لیے زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلینس کی عمارت تعمیر ہونے تک اسے متبادل جگہ پر مکمل طور پر فعال کردیا جائے گا۔

اجلاس میں شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے پالیسی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ قیمتی پتھروں سے متعلق نشاندہی شدہ علاقوں کی ارضیاتی نقشہ سازی مکمل ہو چکی ہے۔ اس عمل کے دوران گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں قیمتی پتھروں کی دریافت کے لیے مزید کام کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں سال شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے سات شہروں میں 10 بینکوں کی 80 شاخوں میں برآمدات کی سہولت کے ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ ہفتے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے اعلیٰ معیار کے مراکز کے قیام اور شعبے کی ترقی کے اقدامات پر مشتمل جامع لائحہ عمل تیار کرکے پیش کیا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا