راولپنڈی اور اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی قلت، مہنگے واٹر ٹینکروں پر انحصار اور مون سون کے دوران بارش کے پانی کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف شہری پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہیں تو دوسری طرف بارش کا قیمتی پانی نکاسی کے نالوں میں بہہ جاتا ہے۔ ایسے میں اسکول ٹیچر عثمان عباسی خشک بورز کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے اور بارش کے پانی کو زیرِ زمین پہنچانے کے لیے عملی کوششیں کر رہے ہیں۔
گزشتہ تقریباً دس برس سے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی پھیلانے والے عثمان کا ماننا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر اقدامات کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی سے اسلام آباد منتقل ہونے والے عثمان عباسی تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں، لیکن ان کی دلچسپی صرف کلاس روم تک محدود نہیں۔ وہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں پانی کے تحفظ کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ سمجھایا جا سکے کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرکے زیرِ زمین آبی ذخائر کی بھرپائی میں کیسے مدد دی جا سکتی ہے۔
رین واٹر ہارویسٹنگ کیسے کام کرتی ہے؟
استاد عثمان عباسی کے مطابق، خشک بور کو ری چارج کرنے کے لیے بارش کا پانی ٹینکی یا کنویں میں جمع کرکے پائپ لائن کے ذریعے بور تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس نظام میں پائپ کو جیو فیبرکGeo Fabric یا کھڑکیوں میں استعمال ہونے والی باریک جالی کی چار سے پانچ تہوں سے ڈھانپا جاتا ہے، جبکہ فلٹریشن کے لیے موٹی بجری، کوئلہ، ریت یا چھوٹی بجری اور آخر میں ٹوٹی ہوئی اینٹوں کی تہیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس عمل سے پانی کو فلٹر کرکے زیرِ زمین پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔ یہ پانی پینے کے لیے نہیں، البتہ باغبانی، صفائی اور مساجد میں وضو جیسے کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ استاد عثمان اپنی یوٹیوب ویڈیوز اور لوگوں سے براہِ راست رابطے کے ذریعے اس طریقے کی آگاہی دیتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق ایسے منصوبے شروع کرنے کے خواہش مند افراد کی مدد بھی کرتے ہیں۔
استاد عثمان عباسی کے رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبے
استاد عثمان عباسی نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبوں پر کام کیا ہے، جن میں مختلف مدارس بھی شامل ہیں۔ گلریز کی مرکزی جامع مسجد میں انہوں نے 20 فٹ گہرا بور بنوایا، جس کے ذریعے ان کے مطابق چار ماہ میں تقریباً 15 لاکھ لیٹر پانی زیرِ زمین پہنچایا گیا, جو 6,000 لیٹر گنجائش والے تقریباً 250 واٹر ٹینکروں کے برابر ہے۔
اس منصوبے پر تقریباً تین لاکھ 42 ہزار روپے لاگت آئی، جو پانی کے ٹینکروں پر ہونے والے اخراجات کے مقابلے میں ایک دیرپا سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔ مسجد کی انتظامیہ نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں ایسے مزید بورز اور واٹر ہارویسٹنگ منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ ٹینکروں پر انحصار اور پانی کے اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے اور پانی کے اس قیمتی ذخیرے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس وقت وہ اسلام آباد کے سیکٹر H-15 میں NUST کے طلبہ کے ساتھ ایک کمیونٹی پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے آئندہ منصوبوں میں راولپنڈی کے علاقے مائی سرور، اسکیم تھری میں تقریباً 40 خشک بورز کو ری چارج کرکے مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش بھی شامل ہے۔
آئیں، مل کر پانی بچائیں اور ایک پائیدار مستقبل بنائیں!
استاد عثمان عباسی ایک استاد اور ماحولیاتی کارکن (Climate Activist) کی حیثیت سے اس بات کی مثال ہیں کہ انفرادی سطح پر بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ ان کی کوششیں ہم سب کے لیے ایک ترغیب ہیں کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق پانی کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اسکول کے بچوں، نوجوانوں اور مقامی کمیونٹیز کو ساتھ ملا کر، اور یوٹیوب و سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز سے آگاہی پھیلا کر، ایسے منصوبوں کو مزید علاقوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت، متعلقہ ادارے، این جی اوز اور شہری مل کر کام کریں تو راولپنڈی، اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر شہروں کو موسمیاتی طور پر مضبوط شہر (Climate-Resilient Cities) بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ کوششیں نہ صرف پانی کی قلت اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ پایداری (Sustainability) اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے بھی اہم ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











