کینیڈا کے مغربی صوبے البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر ہونے والے پہلے تاریخی ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کے مطابق عوام نے کینیڈا کا حصہ رہنے کے حق میں زبردست ووٹ دیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی بی سی نیوز’ نے پیر کی رات 33 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ نتیجہ جاری کیا، جس کے تحت 76 فیصد ووٹرز نے کینیڈا میں رہنے کی حمایت کی جبکہ صرف 23 فیصد افراد نے صوبے کی علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈالا۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا ’البرٹا کے عوام نے ایک واضح فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے اتحاد، مل کر تعمیر کرنے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا راستہ چنا ہے۔ کینیڈا اپنے تمام حصوں کے مجموعے سے کہیں بڑھ کر ہے۔‘
ریفرنڈم کا پس منظر اور سیاسی ردِعمل
البرٹا کی پریمئر ڈینیئل اسمتھ نے رواں سال مئی میں اس ریفرنڈم کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جاننے کا وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے پر البرٹا کے عوام کی کیا مرضی ہے۔
پیر کی رات سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ وہ ابتدائی نتائج سے ’بہت خوش‘ ہیں اور وہ منگل کے روز عوام سے خطاب کریں گی تاکہ نتائج اور صوبے کے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: تیل سے مالا مال کینیڈین صوبے البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر ووٹنگ
صوبے میں ایک چھوٹا لیکن متحرک علیحدگی پسند گروہ کئی مہینوں سے آزاد البرٹا کے لیے مہم چلا رہا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ صوبے کی توانائی کی دولت کینیڈا کے غریب حصوں کی مالی اعانت کر رہی ہے اور اوٹاوا کی بیوروکریسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اس کے برعکس، وزیراعظم مارک کارنی نے گزشتہ ہفتے کالگری میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ کینیڈا سے الگ ہونے کا فیصلہ ایک خطرناک قدم ہوگا جو گہرے اندرونی اختلافات کو جنم دے گا۔
دیگر گروہوں کا مؤقف اور مستقبل کے چیلنجز
البرٹا کا یہ ریفرنڈم فرانسیسی بولنے والے صوبے کیوبیک میں ماضی میں ہونے والے 2 ریفرنڈمز کی یاد دلاتا ہے، جہاں کیوبیک کے عوام نے بھی دونوں مرتبہ کینیڈا کے ساتھ رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ اس کے علاوہ، مقامی قبائلی گروہوں (فرسٹ نیشنز) نے بھی آزاد البرٹا کی مخالفت کی تھی کیونکہ اوٹاوا کے ساتھ ان کے زمینی معاہدے البرٹا کی صوبائی تشکیل سے بھی پرانے ہیں۔ ‘سی بی سی نیوز’ کے مطابق فرسٹ نیشنز کے علاقوں میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ انتہائی شاندار رہا۔
یہ بھی پڑھیے کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ریفرنڈم کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ اس ریفرنڈم کے نتائج نے فی الحال ملک کو تقسیم سے بچا لیا ہے، لیکن اس سے البرٹا کی علیحدگی پسند تحریک کا مکمل خاتمہ متوقع نہیں ہے۔ ‘انگس ریڈ’ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 62 فیصد البرٹائی باشندے یہ سمجھتے ہیں کہ صوبے میں علیحدگی پسند تحریک کبھی ختم نہیں ہوگی۔
البرٹا کے اس ریفرنڈم میں علیحدگی کے علاوہ امیگریشن، تعلیم، صحت، سماجی دیکھ بھال اور ووٹر کی شناخت جیسے امور پر 9 دیگر سوالات بھی شامل تھے، جن کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔











