بھارت میں ووٹر فہرستوں سے نام خارج ہونے کے بعد زندہ شہریوں کو خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں، 53 سالہ درزی کامتا پرساد کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے دیا گیا، جبکہ بعض متاثرہ ووٹرز کو پرانا اندراج بحال کرانے کے بجائے نئے سرے سے رجسٹریشن کرانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے گئے، جس کے بعد متعدد شہریوں کو اپنے ووٹ کا حق بحال کرانے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ گئے
نئی دہلی کے رہائشی کامتا پرساد کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 35 سال سے ووٹ ڈالتے آرہے ہیں، لیکن اب انہیں اپنی زندگی ثابت کرنے کے لیے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں۔ اس کارروائی کے باعث انہیں خاندان کی کفالت کے لیے روزانہ 250 بھارتی روپے کی اجرت بھی چھوڑنا پڑ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں ایک نجی اسکول کے 38 سالہ استاد کمل لال کو بھی ووٹر فہرست میں دوسری جگہ منتقل شدہ ظاہر کردیا گیا، حالانکہ وہ اب بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین کے کاغذات یا پانی کا بل نہ ہونے کے باعث ان کا نام خارج کردیا گیا۔ وہ نام کی بحالی کے لیے متعدد درخواستیں جمع کراچکے ہیں۔
ایک اور متاثرہ خاتون ممتا نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان کے خاندان کے نام ووٹر فہرست میں بحال نہ ہوئے تو وہ رعایتی راشن اور دیگر سرکاری فلاحی سہولتوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکام ان کے شوہر کو نئے ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں، حالانکہ وہ پہلے بھی انتخابات میں ووٹ ڈال چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ گئے
بھارتی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے دوہرے اندراج، وفات پا جانے والے اور دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد سمیت نااہل ووٹرز کے نام نکالے جارہے ہیں۔ کمیشن کے مطابق غلطی سے خارج ہونے والے افراد ضروری دستاویزات جمع کراکے اپنا نام بحال کرانے کے لیے درخواست اور اپیل دائر کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احتجاج کے بعد الیکشن کمیشن نے نئی دہلی سمیت بعض ریاستوں میں ووٹرز کی دوبارہ تصدیق کا حکم دیا ہے، تاہم متاثرہ شہریوں کو نام بحال کرانے کے لیے متعدد درخواستوں، سرکاری سماعتوں اور دستاویزات کی فراہمی کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔









