برطانیہ کے ’مڈ اسٹافورڈ شائر اسپتال‘ میں ہونے والی سنگین طبی غفلت پر مرتب کی جانے والی ’فرانسس رپورٹ‘ عالمی نظامِ صحت کی تاریخ میں ایک تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ اسپتالوں میں مریضوں کی شکایات کو نظام کی اصلاح کی بنیاد بنانے کے بجائے، انہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا، مسترد کیا گیا اور ایک بوجھ سمجھا گیا۔ آج جب ہم پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبۂ صحت کا جائزہ لیتے ہیں، تو فرانسس رپورٹ کے حقائق ہمارے اپنے اسپتالوں کا آئینہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ رپورٹ محض برطانیہ کے ایک واقعے کا احاطہ نہیں کرتی، بلکہ پاکستانی تناظر میں مریضوں کے حقوق اور شکایات کے ازالے کے ناقص نظام کو سدھارنے کے لیے ایک بہترین گائیڈ لائن فراہم کرتی ہے۔
گزشتہ کچھ ماہ سے پاکستان میں ڈاکٹروں کے خلاف تشدد، اداروں کے اپنے قانونی دائروں سے تجاوز اور انصاف کے تقاضوں کو فراموش کرنے کے نتیجے میں طبی برادری کی جانب سے آواز اٹھانا بلاشبہ اہم ترین ہے۔ لیکن حقوق و فرائض کی اس بحث اور ’میں‘، ’ہم‘ اور ’وہ‘ کے اس سارے شور شرابے میں کہیں وہ مریض فراموش نہیں ہونا چاہیے جو اس سارے نظامِ صحت کا حقیقی اور مرکزی نکتہ ہے۔ اس کی شکایت اور اس کے درد کا احساس کسی بھی لمحے فراموش کرنا ایک بڑا المیہ اور بنیادی انسانی قدروں کے خلاف ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:کوالٹی امپروومنٹ: ایک قدم جو پورے ادارے کو بدل سکتا ہے
فرانسس رپورٹ نے مریضوں کی شکایات کے حوالے سے جن بنیادی کمزوریوں کی نشان دہی کی، وہ ہو بہو ہمارے معاشرے اور اسپتالوں میں بھی رائج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال کی انتظامیہ میں ناقص طبی معیار کو برداشت کرنے کا ایک خطرناک رجحان پیدا ہو چکا تھا، جہاں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی شکایات کو سائیڈ لائن کر دیا جاتا تھا۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ اسپتالوں میں عملے کی کمی، فنڈز کی عدم دستیابی اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کا بوجھ ہونا ایسے جواز ہیں جنہیں بنیاد بنا کر مریضوں کی جائز شکایات اور تکلیف کو ’معمول کا حصہ‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ بالآخر کسی بڑے سانحے یا ہلاکت کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس خرابی کی ایک بڑی وجہ طاقت کا وہ عدم توازن اور خوف کی فضا ہے جو ہمارے اسپتالوں میں پائی جاتی ہے۔ برطانیہ کی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ مریض اور ان کے لواحقین انتقامی کارروائی کے خوف یا اس ڈر سے خاموش رہے کہ اگر انہوں نے شکایت کی، تو ان کے مریض کا علاج مزید خراب کر دیا جائے گا۔ پاکستانی تناظر میں یہ خوف دُگنا ہے۔ یہاں ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ایک واضح طبقاتی اور سماجی خلیج موجود ہے۔ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مریض سرکاری اسپتالوں کے عملے کے سامنے آواز اٹھانے کی جرأت ہی نہیں پاتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شکایت کرنے پر انہیں اسپتال سے نکالے جانے یا علاج سے محروم کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فرانسس رپورٹ کا یہ جملہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ ’ایک ایسی شکایت جسے ادارہ سنے ہی نہ، وہ اس شکایت سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے جو موصول ہو، تسلیم کی جائے اور اس کا ازالہ کیا جائے‘۔ پاکستان میں شکایات سننے کا کوئی باقاعدہ اور فعال فورم موجود ہی نہیں ہے۔ اسپتالوں میں لوہے کے جو ’شکایات بکس‘ لٹکے نظر آتے ہیں، وہ صرف کاغذی کارروائی کی حد تک محدود ہیں، جس کی وجہ سے مریض خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور نظام پر ان کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کے بجائے اسپتال کی قیادت اور عملہ اپنے ساتھیوں کو بچانے اور اپنی غلطی چھپانے کے لیے دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتا ہے۔ جب بھی کسی اسپتال میں طبی غفلت کا واقعہ ہوتا ہے، تو حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی تنظیمیں اکثر اوقات اپنے ساتھیوں کی طبی غفلت کا دفاع کرنے کے لیے ہڑتالوں کا سہارا لیتی ہیں، جس سے پورا ہیلتھ کیئر سسٹم یرغمال بن جاتا ہے اور احتساب کا عمل مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال گردن کا درد بڑھا سکتا ہے، آسان حل بھی جانیں
اگر کوئی جرأت مند مریض شکایت کا عزم کر بھی لے، تو ہمارا پیچیدہ اور سرد دفتری نظام اس کا راستہ روک لیتا ہے۔ اسپتالوں کا شکایات کا نظام اتنا مشکل اور ہمدردی سے عاری ہے کہ ایک دکھی مریض کے لیے اس راستے پر چلنا محال ہے۔ پاکستان میں عام آدمی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس سے رجوع کرے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفاتر تک عام آدمی کی رسائی ناممکن ہوتی ہے، اور صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کے پاس کیس لے جانا ایک طویل، تھکا دینے والا اور مہنگا قانونی عمل بن جاتا ہے، جو ایک عام پاکستانی کے بس سے باہر ہے۔
اس نظام کو بدلنے کے لیے فرانسس رپورٹ نے جو سفارشات پیش کیں، انہیں پاکستانی نظامِ صحت میں فوری طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو اداروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں کے فیڈ بیک اور شکایات کو ایک بوجھ یا توہین سمجھنے کے بجائے، نظام کو بہتر بنانے والا قیمتی سرمایہ تسلیم کریں۔ پاکستان کے ہر اسپتال میں ایک آزاد، خود مختار اور فوری ایکشن لینے والا ’کمپلینٹ سیل‘ ہونا چاہیے، جہاں موصول ہونے والی شکایات پر چند گھنٹوں کے اندر کارروائی ہو۔

دوسری اور سب سے انقلابی سفارش ’ڈیوٹی آف کینڈر‘ یعنی سچائی کا اخلاقی اور قانونی فریضہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسپتال یا عملے سے کوئی غلطی یا غفلت سرزد ہو جائے، تو وہ قانونی طور پر پابند ہوں کہ وہ مریض اور اس کے خاندان کے سامنے اعتراف کریں، معافی مانگیں اور حقائق کو نہ چھپائیں۔ پاکستان میں اس قانون کی شدید ضرورت ہے تاکہ اسپتالوں میں جاری ’چھپانے اور بچانے‘ کے کلچر کا خاتمہ ہو سکے اور مریضوں کو سچ جاننے کا حق ملے۔ علاج اور شکایات کا ازالہ ادارہ جاتی دفاع، بیوروکریسی کے قواعد یا اسپتال کے کاغذی اہداف کے بجائے صرف اور صرف مریض کے تجربات اور ضروریات کے گرد گھومنا چاہیے۔ نظام کا مرکز ڈاکٹر یا انتظامیہ نہیں، بلکہ مریض ہونا چاہیے۔
فرانسس رپورٹ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسپتال کی شاندار عمارتیں اور مہنگی مشینیں اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک وہاں انسانی جان کی حرمت اور مریض کی آواز کو اہمیت نہ دی جائے۔ پاکستان میں ہیلتھ کیئر ریفارمز کے دعوے اس وقت تک ادھورے رہیں گے جب تک ہم مریضوں کو شکایت کرنے کا حق، ان کی سماعت کا تحفظ، اور غفلت کے خلاف انصاف کی فراہمی کو یقینی نہیں بنا لیتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بین الاقوامی مطالعے سے سیکھیں اور اپنے سپتالوں کے کلچر کو ‘خوف اور دفاع’ سے بدل کر ‘رحم دلی اور احتساب’ کے سانچے میں ڈھالیں۔









