امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے اور اس کا جغرافیائی محلِ وقوع اہمیت رکھتا ہے۔
بھارتی میڈیا نیٹ ورک 18 کو انٹرویو دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا دنیا میں ہر جگہ دہشتگردی اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف ہے، تاہم امریکی خارجہ پالیسی کے تحت ایسے ممالک سے بھی تعلقات رکھنا ضروری ہوتا ہے جن سے بعض معاملات پر اختلافات ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارتی حکومت کو ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے اور ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح امریکا کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ رابطے اور تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔
“From your perspective in India, I can see why many of our immigration changes seem targeted at India. But they are not,” says US Secretary of State Marco Rubio pic.twitter.com/J9XPv2VxcZ
— Shashank Mattoo (@MattooShashank) October 21, 2026
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے سے امریکا کو بھارت کے سیکیورٹی خدشات دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے ذریعے واشنگٹن ان اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جن پر بھارت کو تشویش ہے۔
انٹرویو کے دوران روبیو سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف دہشتگردی کی سرپرستی کرنے کی صورت میں امریکی سیکیورٹی امداد روکنے سے متعلق ان کا سابقہ مؤقف تبدیل ہوگیا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ بطور وزیر خارجہ انہیں امریکا کی خارجہ پالیسی چلانی ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔
مارکو روبیو نے الگ سے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ امریکا کے تعلقات بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوں گے۔









