اے آئی کی تربیت میں موسیقی استعمال ہونے پر فنکار معاوضے کے حق دار ہیں، عروج آفتاب

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی گریمی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ عروج آفتاب نے کہا ہے کہ اگر موسیقاروں کی تخلیق کردہ موسیقی مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کی گئی ہے تو وہ معاوضے کے حق دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسیقی سے نئی تخلیقات تیار کرنے کے لیے بھی اصل فنکاروں کو رائلٹی ملنی چاہیے۔

عروج آفتاب نے منگل کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 2 پوسٹس شیئر کیں، جن میں موسیقی کی صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد کی تنظیم ‘یونائیٹڈ میوزیشنز اینڈ الائیڈ ورکرز’ کے مطالبات شامل تھے۔ ان مطالبات میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی موسیقی کی ہر مرحلے پر واضح نشاندہی ہونی چاہیے تاکہ اسے انسانی فنکاروں کی تخلیق کردہ موسیقی سے الگ پہچانا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اسپاٹیفائی کا شاندار اقدام: اب اے آئی سے تیار کردہ موسیقی چھپ نہیں سکے گی

گلوکارہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی موسیقی کو استعمال کرکے نئی موسیقی تیار کر رہی ہے، جس سے ان فنکاروں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں جن کا کام ان نظاموں کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے موسیقی کی تیاری اور استعمال سے متعلق مستقبل کے قوانین بناتے وقت فنکاروں کے حقوق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

عروج آفتاب نے اپنی دوسری پوسٹ میں اس مطالبے کی حمایت کی کہ موسیقی کی ترسیل کرنے والے آن لائن پلیٹ فارمز انسانی فنکاروں کو براہ راست ادائیگیاں کریں، جبکہ یہی ادائیگیاں مصنوعی ذہانت سے موسیقی تیار کرنے والوں کو نہ دی جائیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ فنکاروں کو ابھی بھی معاوضہ ملنا چاہیے کیونکہ ان کی موسیقی مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی فنکار کے کام کو استعمال کرنا بھی اس کے کام سے استفادہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے فنکار اس کے معاوضے کے حق دار ہیں۔ اگر ان کی موسیقی کی بنیاد پر نئی تخلیقات تیار کی جائیں تو انہیں رائلٹی بھی ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گانوں کی شناخت یو ٹیوب نے آسان کردی

مصنوعی ذہانت کے ذریعے موسیقی کی تیاری کے خلاف فنکاروں کی کوششیں نئی نہیں ہیں۔ 2024 میں 13 ہزار سے زائد فنکاروں، جن میں اے بی بی اے کے بیورن الویئس اور ریڈیوہیڈ کے تھام یارک بھی شامل تھے، نے ایک بیان پر دستخط کیے تھے جس میں مصنوعی ذہانت کی تیاری کے لیے انسانی تخلیقات کے غیر مجاز استعمال کی مذمت کی گئی تھی۔

گزشتہ سال فروری میں ایک ہزار سے زائد موسیقاروں، جن میں کیٹ بش بھی شامل تھیں، نے برطانیہ میں قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف ایک خاموش البم جاری کیا تھا۔ ان تبدیلیوں کے تحت مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے کے لیے گانوں اور کتابوں جیسے حقوقِ اشاعت کے حامل مواد کے استعمال کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

اسپاٹیفائی کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی موسیقی کے حوالے سے اقدامات

دوسری جانب موسیقی کی ترسیل کرنے والے پلیٹ فارم اسپاٹیفائی نے بھی مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی موسیقی کے حوالے سے اقدامات کیے ہیں۔ پلیٹ فارم نے انسانی تخلیق کاروں کی شناخت کے لیے ‘ویریفائیڈ فار اسپاٹیفائی’ کے لیبل متعارف کرائے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے موسیقی تیار کرنے والے تخلیق کاروں کے لیے ‘اے آئی پرسونا’ کے لیبل بھی متعارف کرائے گئے۔

اسپاٹیفائی نے منگل کو جاری کردہ اپنے نیوز لیٹر میں بتایا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی غیر معیاری اور اسپیم موسیقی کی سفارشات کو روکنے کے لیے گزشتہ ایک سال کے دوران 5 کروڑ سے زائد ٹریکس ہٹا دیے گئے ہیں۔ پلیٹ فارم کے مطابق 3 لاکھ سے زائد انسانی تخلیق کاروں کی تصدیق بھی کی گئی، جن میں 70 فیصد سے زیادہ آزاد فنکار تھے۔

اسپاٹیفائی کے مطابق صارفین کی 99 فیصد تلاشیں انسانی فنکاروں کی تیار کردہ موسیقی سے متعلق تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمر رسیدہ افراد پرانی یادیں مختلف انداز میں کیوں بیان کرتے ہیں؟ جانیے حیران کن وجہ

لاہور میں غیر ملکی شہریوں سے سائبر فراڈ کرنے والے 3 جعلی کال سینٹرز پر چھاپے، 59 ملزمان گرفتار

شکاگو ایئرپورٹ پر طوطے کا ہنگامہ، مسافروں کو چونچیں مارنے لگا

نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے مشاورت کا فیصلہ، الیکٹرک اور بڑی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں ردوبدل کی تجویز

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مالدیپی صدر ڈاکٹر معیزو سے اہم ملاقات، دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

ویڈیو

ملتان میں وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کا واقعہ، یتیم خانے کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھ گئے

پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو کیا ذمہ داری سونپی، سہیل آفریدی کا مستقبل کیا ہوگا؟

ملتان میں یتیم بچے کو کچلنے کے واقعے کے وقت کیا ہوا؟

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟

حوثی باغیوں کا فتنہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خطرہ