تھائی لینڈ میں ایک سیاح کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر کی مدد سے تقریباً 12 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں جن کی حکام نے تصدیق کر دی ہے۔
یہ تاریخی دریافت تھائی لینڈ کے شمال مشرقی صوبے اڈون تھانی کے پھو فرابت نیشنل پارک میں ہوئی جہاں ریتلے پتھر پر ڈائنوسار کے چھ قدموں کے نشانات محفوظ ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نشانات غالباً گوشت خور ڈائنوسارز کی قسم تھیروپوڈ کے ہیں جبکہ ان کا تعلق ابتدائی کریٹیشیئس دور سے بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:معدومیت کے 6 کروڑ 50 لاکھ سال بعد لوگ ڈائنوسارز کا سوگ کیوں منا رہے ہیں؟
تھائی لینڈ کے محکمہ معدنی وسائل نے دریافت کی تصدیق کی۔ حکام نے سائنسی معائنے اور قدیم آثار کے تحفظ کے پیش نظر متعلقہ مقام کو عارضی طور پر سیاحوں کے لیے بند کر دیا ہے۔
تھائی ویب سائٹ ’دی تھیگر‘ کے مطابق 32 سالہ سیاح پچائی پراتھیٹسینا پھو فرابت نیشنل پارک میں قدرتی راستے پر سیر کر رہے تھے کہ انہیں ایک ندی کے قریب چٹانوں پر غیرمعمولی نشانات دکھائی دیے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون نے پالتو کتے کے قاتل کو سزا دلانے کے لیے اہم ترین ملازمت قربان کردی
انہوں نے ان نشانات کی تصاویر بنائیں اور 18 اکتوبر کو فیس بک کے ایک گروپ میں شیئر کرتے ہوئے صارفین سے پوچھا کہ آیا یہ ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات ہو سکتے ہیں۔
پچائی کے مطابق اس وقت ندی میں پانی کم ہونے کے باعث چٹانیں نمایاں تھیں جس سے ان پر موجود نشانات واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم، خاندان کے جلدی میں ہونے کے باعث وہ موقع پر پارک انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ نہ کر سکے اور بعد میں تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: بولیویا میں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کا دنیا کا سب سے بڑا مقام دریافت
محکمہ معدنی وسائل نے ان کی پوسٹ کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ 19 اکتوبر کو نیشنل پارک کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر نشانات کا معائنہ کیا اور ان کی پیمائش کی جبکہ 20 اکتوبر کو محکمے نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر ان کی ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کے طور پر تصدیق کر دی۔
تھائی لینڈ کے محکمہ تعلقات عامہ کے مطابق نشانات کی ایک قطار میں مجموعی طور پر چھ قدموں کے آثار موجود ہیں جو پھو فان چٹانی سلسلے میں محفوظ ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 12 کروڑ سال بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل میں 1400 سال پرانے سکے اور جواہرات دریافت، لیکن یہ خزانہ دفنایا کیوں گیا تھا؟
ہر نشان تقریباً 29 سینٹی میٹر لمبا اور 26 سینٹی میٹر چوڑا ہے۔ یہ نشانات ریتلے پتھر پر محفوظ ہوئے تاہم اس مقام سے ڈائنوسار کے ڈھانچے کی ہڈیاں یا دیگر جسمانی باقیات نہیں ملیں۔
حکام کے مطابق تھائی لینڈ کے قانون میں فوسلز کے تحفظ کے لیے صرف ہڈیوں اور دانتوں تک محدود نہیں رہا جاتا بلکہ قدیم جانداروں کی سرگرمیوں کے محفوظ شدہ آثار، جن میں قدموں کے نشانات بھی شامل ہیں، کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راجستھان: سابق رکن پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ جونا پوریا کے مسلم خواتین کو کمبل نہ دینے کی ویڈیو وائرل، شدید تنقید
قدیم نشانات کو قدرتی کٹاؤ اور انسانی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے حکام نے علاقے میں غیرمجاز داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ماہرینِ ارضیات اس مقام کا معائنہ کر رہے ہیں، جبکہ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وہاں موجود شواہد کو کھودنے، نقصان پہنچانے یا اپنی جگہ سے ہٹانے سے گریز کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد نشانات کو مزید سائنسی تحقیق کے لیے محفوظ رکھنا ہے۔ معائنے اور جائزے مکمل ہونے کے بعد اس مقام کو تعلیمی اور معلوماتی سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔









