کیا ماں بننے کے لیے عمر کی کوئی حد باقی رہ گئی ہے؟ یہ خوشی پانے والی معمر خواتین کی امید افزا کہانیاں

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

زندگی کے مختلف مراحل میں ماں بننے کا فیصلہ کرنے والی خواتین کو سماجی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم جدید طبی سہولتوں اور اپنے عزم کے ذریعے بعض خواتین نے عمر کی روایتی حدود کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟

امریکی اداکارہ ہلیری سوینک نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ وہ 52 برس کی عمر میں اپنے تیسرے بچے کی آمد کی منتظر ہیں۔ ان کے اس اعلان پر جہاں مبارک باد دینے والوں کی بڑی تعداد سامنے آئی وہیں بعض افراد نے ان کی عمر کو بنیاد بنا کر تنقید بھی کی۔

ہلیری سوینک اکیلی خاتون نہیں جنہوں نے زندگی کے نسبتاً آخری حصے میں ماں بننے کا فیصلہ کیا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسی خواتین موجود ہیں جنہوں نے 50 یا اس سے زائد عمر میں ماں بننے کا تجربہ کیا اور اس دوران انہیں سماجی دباؤ اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

برطانیہ کے علاقے ویسٹ سسیکس کے شہر کرولی سے تعلق رکھنے والی کیلی کلارک نے بھی 50 برس کی عمر میں ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کے ذریعے ایک صحت مند بیٹی کو جنم دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہلیری سوینک کی طرح انہیں بھی اس فیصلے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ان کے اپنے خاندان نے بھی ابتدا میں ان کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔

کیلی کے مطابق جب انہوں نے 49 برس کی عمر میں ماں بننے کا فیصلہ کیا تو خاندان کے افراد نے انہیں اس فیصلے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر والوں نے انہیں پاگل قرار دیا اور تعلقات تک ختم کرلیے۔ بعض رشتے داروں نے یہ کہہ کر بھی ان کا مذاق اڑایا کہ وہ اپنے بچے کے اسکول کے دروازے پر سب سے عمر رسیدہ ماں ہوں گی۔

مزید پڑھیے: ذہنی دباؤ کے شکار والدین کی دیکھ بھال کے دوران اولاد خود بھی متاثر ہوسکتی ہے، حل کیا ہے؟

تاہم کیلی اپنے فیصلے پر قائم رہیں۔ سابق فضائی میزبان کیلی نے یونان کے شہر ایتھنز جا کر عطیہ کیے گئے نطفے (ڈونر اسپرم) کے ذریعے آئی وی ایف کا طریقہ علاج اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں زندگی میں محبت کے معاملے میں زیادہ خوش قسمتی نہیں ملی اور وہ محسوس کر رہی تھیں کہ ماں بننے کے لیے وقت تیزی سے نکل رہا ہے۔

کیلی کے بقول وہ صرف اپنا خاندان چاہتی تھیں اور انہیں لگتا تھا کہ ماں بننے کی خواہش پوری کرنے کا حق انہیں بھی حاصل ہے۔ آج ان کی بیٹی 5 برس کی ہے اور وہ اسے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔

آئی وی ایف کیا ہے اور اس کے ذریعے حمل کیسے ٹھہرتا ہے؟

آئی وی ایف یعنی ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) بانجھ پن کے علاج اور حمل ٹھہرانے کا ایک طبی طریقہ ہے۔ عام طور پر قدرتی طور پر حمل اس وقت ٹھہرتا ہے جب مرد کا نطفہ عورت کے جسم میں بیضے سے مل کر اسے بارآور کرتا ہے۔ لیکن آئی وی ایف میں یہ عمل جسم کے اندر ہونے کے بجائے لیبارٹری میں انجام دیا جاتا ہے۔

اس طریقہ علاج میں خاتون کے بیضے حاصل کرکے انہیں لیبارٹری میں مرد کے نطفے کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ جب بارآور ہونے کے بعد جنین (ایمبریو) بن جاتا ہے تو اسے خاتون کے رحم میں منتقل کردیا جاتا ہے جہاں حمل ٹھہرنے کا امکان ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں عطیہ کیے گئے بیضے یا نطفے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم ہر مریضہ کے لیے علاج کا طریقہ اس کی عمر، طبی کیفیت اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹوٹتے رشتے صرف دل ہی نہیں صحت بھی برباد کردیتے ہیں، صورتحال تبدیل کیسے کی جائے؟

یہ بات بھی اہم ہے کہ آئی وی ایف کامیابی کی ضمانت نہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ اپنے بیضوں کے ذریعے حمل ٹھہرنے کے امکانات عموماً کم ہوتے جاتے ہیں۔ اسی لیے زیادہ عمر میں یہ طریقہ اختیار کرنے والی خواتین کو علاج شروع کرنے سے پہلے ماہرین سے تفصیلی طبی مشورہ لینا ضروری ہوتا ہے۔

44  برس کی عمر میں ماں بننے والی خاتون کا تجربہ

برطانیہ کے علاقے ہاساکس سے تعلق رکھنے والی کیٹی ٹرنر نے 44 برس کی عمر میں بیٹے نوح کو جنم دیا۔ ان کا بیٹا اب 9 ماہ کا ہے۔

کیٹی کے مطابق ان کی زندگی کے 30 کی دہائی کا بڑا حصہ ملازمت اور پیشہ ورانہ زندگی پر مرکوز رہا اور اس دوران انہیں ایسا شریکِ حیات نہیں ملا جس کے ساتھ وہ بچے کی پرورش کرنا چاہتی تھیں۔

بعد ازاں جب ان کی ملاقات اپنے موجودہ شریک حیات سے ہوئی تو دونوں نے بچے کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کی۔ ان کے شریک حیات کی پہلے سے ایک بیٹی بھی تھی تاہم کئی برس کوشش کے باوجود جب حمل نہ ٹھہرا تو انہوں نے آئی وی ایف کا سہارا لیا۔ کیٹی کے مطابق وہ دوسری کوشش میں حاملہ ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیے: جنرل اینستھیزیا دماغ کو بے ہوش کیسے کرتا ہے؟ شعور کا ایک بڑا راز اب بھی حل طلب

کیٹی بتاتی ہیں کہ حمل کے دوران وہ اپنی کلاس میں موجود دیگر خواتین کے مقابلے میں خاصی بڑی عمر کی تھیں تاہم مجموعی طور پر ان کا حمل اچھا گزرا۔ اس کے باوجود انہیں بار بار یہ احساس دلایا جاتا رہا کہ زیادہ عمر میں حمل کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ نسبتاً بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ پوری طرح مطمئن ہو کر حمل سے لطف اندوز نہیں ہوسکیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اب انہیں اپنے بیٹے کی موجودگی پر بے حد خوشی ہے اور ماں بننے کا تجربہ ان کے لیے شاندار رہا ہے۔ تاہم ان کے ذہن میں یہ خیال بھی آتا رہتا ہے کہ جب ان کا بیٹا بڑا ہوگا تو اس وقت ان کی اپنی عمر کیا ہوگی۔

اس کے باوجود کیٹی محسوس کرتی ہیں کہ عمر کے ساتھ زندگی کے تجربات نے انہیں نسبتاً کم پریشان رہنا سکھایا ہے۔ ان کے بقول وہ زندگی میں بہت کچھ دیکھ چکی ہیں اس لیے انہیں معلوم ہے کہ بعض اوقات پریشان ہونے کے لیے اس سے کہیں زیادہ اہم معاملات بھی موجود ہوتے ہیں۔

بڑی عمر میں حمل: خوشی کے ساتھ احتیاط بھی ضروری

طبی ماہرین کے مطابق زیادہ عمر میں حمل ممکن تو ہے لیکن اس کے ساتھ بعض طبی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا آپ رات دیر تک جاگتے ہیں؟ سائنسدانوں نے ذہنی تناؤ اور باڈی کلاک کے درمیان سنسنی خیز تعلق ڈھونڈ نکالا

برطانیہ کے قومی ادارہ صحت کی ہدایت ہے کہ 40 برس سے زائد عمر میں حاملہ ہونے والی خواتین کو ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

زیادہ عمر میں حمل کے دوران حمل کی ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی پیچیدگیوں کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سی خواتین صحت مند حمل اور بچے کی پیدائش کا تجربہ کرتی ہیں۔ خطرات کا انحصار صرف عمر پر نہیں بلکہ خاتون کی مجموعی صحت اور دیگر طبی عوامل پر بھی ہوتا ہے۔

برائٹن سے تعلق رکھنے والی دائی جسٹن گیریٹی کے مطابق جو خواتین نسبتاً زیادہ عمر میں ماں بننے کا فیصلہ کرتی ہیں انہوں نے عموماً اس بارے میں کافی سوچ بچار کی ہوتی ہے۔ ان کے مشاہدے میں ایسی بہت سی خواتین اپنے فیصلے سے خوش ہوتی ہیں کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے اس مرحلے پر ماں بننے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ زیادہ عمر میں والدین بننے والوں کو اس حقیقت کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ چھوٹے بچے کی پرورش جسمانی طور پر خاصی تھکا دینے والی ہوسکتی ہے۔

عمر سے بڑھ کر تیاری اور خوشی اہم؟

کیلی کلارک کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اپنی عمر کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی ان کی بیٹی کو اس سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ خود کو جسمانی طور پر تندرست اور ذہنی طور پر جوان محسوس کرتی ہیں اور انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ اپنے بچے کے اسکول میں سب سے بڑی عمر کی ماں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کیا الارم کے بغیر جاگنا ممکن ہے؟ نیند کی اندرونی گھڑی درست کرنے کا طریقہ

ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش کے بعد خاندان کے افراد بھی ان کے فیصلے کو قبول کرچکے ہیں اور اب وہ دوبارہ ایک خاندان کی طرح ساتھ ہیں۔

ان خواتین کی کہانیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ماں بننے کے فیصلے کے پیچھے ہر عورت کے حالات، ترجیحات اور زندگی کے تجربات مختلف ہوسکتے ہیں۔ بعض خواتین تعلیم اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث تاخیر سے یہ فیصلہ کرتی ہیں اور بعض کو موزوں شریکِ حیات تلاش کرنے میں وقت لگتا ہے جبکہ کچھ خواتین کو حمل ٹھہرانے میں طبی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

اگرچہ زیادہ عمر میں حمل کے طبی خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لیکن ان خواتین کے تجربات یہ بھی بتاتے ہیں کہ ماں بننے کی خواہش اور اس کے لیے ذہنی تیاری ہر فرد کے لیے ایک الگ سفر ہے۔ اس لیے کسی خاتون کے فیصلے پر محض اس کی عمر کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے اس کے حالات، انتخاب اور طبی پہلوؤں کو سمجھنا زیادہ اہم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف آخری لڑائی ہوگی، 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا، ثمر ہارون بلور

پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا، 23 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، براہ راست پروازیں شروع کرنے کا عزم

وینس اے بی سی اوپن اسکواش چیمپیئن شپ، پاکستان کے عاصم خان کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مسلسل حمایت پر شکر گزار، امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی، فیصل کریم کنڈی

ویڈیو

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟