بہت سے لوگوں کے لیے صبح الارم کی آواز دن شروع ہونے کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ بعض افراد کئی الارم لگاتے ہیں، بار بار اسنوز کا بٹن دباتے ہیں اور بستر سے اٹھنے کے باوجود کافی دیر تک غنودگی محسوس کرتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتے ہیں؟ وجہ ناقص نیند بھی ہو سکتی ہے، تحقیق
نیند کے ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان کتنے گھنٹے سوتا ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ کب سوتا ہے، کب جاگتا ہے اور اس کا معمول کتنا مستقل ہے۔ اگر سونے اور جاگنے کا وقت روز بدلتا رہے تو جسم کی اندرونی گھڑی یا سرکیڈین ردھم بھی متاثر ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں رات کو نیند آنے اور صبح بیدار ہونے میں مشکل پیش آتی ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک صحافتی تجربے میں نیند کے ماہرین کی تجاویز پر ایک ہفتے تک الارم کے بغیر جاگنے کی کوشش کی گئی۔ مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کیا باقاعدہ معمول، مناسب روشنی، موبائل فون کے استعمال میں کمی اور بہتر نیند کی عادات کے ذریعے جسم کو خود وقت پر جاگنے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔
جسم کی اندرونی گھڑی کیسے کام کرتی ہے؟
انسان کے جسم میں ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی موجود ہوتی ہے جو تقریباً 24 گھنٹے کے چکر کے مطابق نیند، بیداری، جسمانی درجہ حرارت اور بعض ہارمونز کے اخراج کو منظم کرتی ہے۔
یہ گھڑی ماحول سے ملنے والی روشنی سمیت مختلف اشاروں سے اپنا وقت طے کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر روز تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسم کو ایک قابل پیشگوئی معمول فراہم کرتا ہے۔
نیند کی ماہر ہیلن برگس کے مطابق سونے کا وقت کافی حد تک مستقل رکھنے سے جسم اس معمول کا عادی ہونے لگتا ہے اور وقت آنے پر خود کو آرام کے لیے تیار کرنے لگتا ہے۔
مزید پڑھیے: رات کی ڈیوٹی صحت پر کتنی بھاری پڑتی ہے؟ سائنسدانوں نے بہتر نیند کا نیا طریقہ بتا دیا
بالغ افراد کے لیے عام طور پر 7 سے 9 گھنٹے نیند کی سفارش کی جاتی ہے تاہم ہر شخص کی ضرورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ افراد 7 گھنٹے کے بعد تازہ دم محسوس کرتے ہیں جبکہ بعض کو 8 یا 9 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
صبح کی روشنی کیوں اہم ہے؟
نیند کی اندرونی گھڑی کو درست رکھنے میں روشنی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق صبح بیدار ہونے کے بعد قدرتی روشنی میں آنا جسم کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ دن شروع ہو چکا ہے۔
صبح پردے کھولنا، کھڑکی کے قریب کچھ وقت گزارنا یا باہر روشنی میں چہل قدمی کرنا جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو دن اور رات کے قدرتی چکر کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس کے برعکس رات کے وقت بہت تیز روشنی، خاص طور پر سونے سے پہلے اسکرین کا مسلسل استعمال، جسم کو بیداری کا سگنل دے سکتا ہے اور نیند کی تیاری میں خلل ڈال سکتا ہے۔
سونے سے پہلے موبائل فون سب سے بڑا مسئلہ؟
نیند بہتر بنانے کی کوشش میں سب سے مشکل رکاوٹ بہت سے لوگوں کے لیے اسمارٹ فون بن چکا ہے۔
موبائل کی اسکرین سے نکلنے والی روشنی ایک مسئلہ ہوسکتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس سے بھی بڑا مسئلہ سوشل میڈیا پر مسلسل اسکرولنگ ہے۔ انسان چند منٹ کے لیے فون اٹھاتا ہے لیکن دلچسپ ویڈیوز، پوسٹس اور اطلاعات اسے بار بار اسکرین دیکھنے پر آمادہ کرتی رہتی ہیں۔
اس طرح دماغ سونے کے بجائے مسلسل نئی معلومات اور محرکات حاصل کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے ماہرین رات کو سونے سے پہلے موبائل فون اور دیگر اسکرینوں کا استعمال کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہفتہ وار نیند پوری کرنے کی کوشش کیوں بن جاتی ہے پیر کی تھکن کی وجہ؟
اگر ممکن ہو تو سونے سے کچھ دیر پہلے فون کو ایک طرف رکھ دینا، اطلاعات بند کرنا یا ایسی سرگرمی اختیار کرنا جو دماغ کو آہستہ آہستہ پرسکون کرے نیند کے معمول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
صرف الارم بند کرنا کافی نہیں
ماہرین کی تجاویز سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے کہ الارم کے بغیر جاگنے کے لیے سب سے پہلے مناسب نیند لینا ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص رات کو دیر تک جاگتا رہے اور صبح جلدی اٹھنے کی کوشش کرے تو صرف الارم ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جسم کو مطلوبہ نیند نہ ملنے کی صورت میں الارم کے بغیر جاگنا مشکل رہ سکتا ہے۔
چھٹی والے دن لمبی تان کے سونا
اسی طرح ہفتے کے دنوں میں بہت کم اور چھٹی والے دنوں میں بہت زیادہ سونا بھی جسم کی اندرونی گھڑی کو متاثر کرسکتا ہے۔
بہتر نیند کے لیے سونے اور جاگنے کے اوقات کو حتی الامکان مستقل رکھنا زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
کھانے اور کیفین کا بھی تعلق
نیند کے معمول کو بہتر بنانے کی کوشش میں کھانے کے اوقات بھی اہم ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے کے اوقات کو بھی زیادہ بے ترتیب نہ رکھا جائے اور رات کا کھانا سونے سے کافی پہلے مکمل کرلیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: صحت اور سکون کے لگژری پروگرامز کا نیا رجحان: بہتر نیند اور کم تناؤ کے دعوے
اسی طرح شام اور رات میں کیفین کا زیادہ استعمال بعض افراد میں نیند کو متاثر کرسکتا ہے۔ کافی، چائے اور دیگر کیفین والے مشروبات کے اثرات ہر شخص میں مختلف ہوسکتے ہیں لیکن اگر کسی کو رات کو سونے میں دشواری ہو تو اسے خاص طور پر اپنے کیفین کے استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔
7 دن میں کیا فرق پڑا؟
ایک ہفتے کے تجربے میں ابتدا میں سونے اور جاگنے کے اوقات مکمل طور پر منظم نہیں ہوئے۔ کبھی نیند دیر سے آئی، کبھی رات میں آنکھ کھلی اور بعض دن بیرونی شور یا دوسری وجوہات نے معمول متاثر کیا۔
تاہم چند دن گزرنے کے بعد قدرتی طور پر تقریباً ایک ہی وقت کے آس پاس آنکھ کھلنے لگی۔ تجربے کے اختتام پر صبح بیدار ہونے کے لیے الارم پر انحصار کم محسوس ہوا اور صبح کی غنودگی میں بھی کمی آئی۔
مزید پڑھیں: الارم گھڑی سے پہلے لوگ کیسے جاگتے تھے: کھڑکیاں کھٹکھٹانے والے ’نوکر اپرز‘ سے سحری میں جگانے والوں تک
تجربے سے یہ بھی سامنے آیا کہ چند بنیادی عادات کو برقرار رکھنا زیادہ اہم تھا جن میں باقاعدہ سونے کا وقت، صبح کی روشنی، رات کو موبائل فون کا کم استعمال اور مناسب دورانیے کی نیند شامل ہیں۔
پاکستانی قارئین کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
پاکستان میں رات دیر تک موبائل فون استعمال کرنا، سونے کے اوقات کا روز بدلنا اور صبح جلدی اٹھنے کے لیے متعدد الارم لگانا بہت سے لوگوں کے معمول کا حصہ ہے۔ ایسے میں اس تجربے کا اہم سبق کسی خاص ’نیند کے نسخے‘ کے بجائے ایک سادہ اصول ہے کہ جسم کو ایک مستقل معمول دیں۔
اگر کسی شخص کو روزانہ ایک ہی وقت کے آس پاس سونے اور جاگنے کی عادت ہو، رات کو غیر ضروری اسکرین استعمال کم ہو، صبح قدرتی روشنی ملے اور مجموعی طور پر کافی نیند پوری ہو تو جسم کی اندرونی گھڑی زیادہ منظم انداز میں کام کرسکتی ہے۔
البتہ ہر شخص کا نیند کا معمول مختلف ہوسکتا ہے۔ اگر کسی کو مسلسل نیند نہ آتی ہو، بار بار رات کو آنکھ کھلتی ہو، بہت زیادہ خراٹے آتے ہوں یا مناسب نیند کے باوجود دن بھر شدید غنودگی رہتی ہو تو اسے صرف الارم یا معمول کی تبدیلی کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ڈاکٹر یا نیند کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟
نیند کی اندرونی گھڑی کسی سوئچ کی طرح ایک رات میں تبدیل نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق اسے تبدیل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اس لیے مستقل مزاجی اور صبر اس عمل کا اہم حصہ ہیں۔














