کراچی میں 20 روزہ بچے کو منکی پاکس کیسے ہوا؟ غیر قانونی اسپتال سیل، طبی انتظامات پر سنگین سوالات

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں ختنے کے بعد نومولود بچے میں منکی پاکس کی تصدیق ہونے پر ابنِ حسن اسپتال میں استعمال ہونے والے طبی آلات اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ واقعے کے بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے پولیس کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے اسپتال کو سیل کردیا ہے۔

کراچی میں علاج کی غرض سے اسپتال جانے والے شہری عموماً اس امید کے ساتھ وہاں کا رخ کرتے ہیں کہ انہیں محفوظ طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، لیکن اگر کسی طبی مرکز میں صفائی اور انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات ہی ناکافی ہوں تو مریضوں کے تحفظ کو کون یقینی بنائے گا؟

شہر قائد کے علاقے ملیر 15 میں واقع ابنِ حسن اسپتال کے خلاف کارروائی کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق کورنگی میں 20 روزہ نومولود بچے میں منکی پاکس، جسے ایم پاکس بھی کہا جاتا ہے، کی تصدیق کے بعد معاملے کی تحقیقات کی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جس طبی مرکز میں بچے کا ختنہ کیا گیا تھا، وہاں استعمال ہونے والے طبی آلات میں وائرس کی موجودگی کا معاملہ سامنے آنے پر اسپتال کو سیل کردیا گیا۔

یہ واقعہ صرف ایک طبی مرکز کے خلاف کارروائی کا معاملہ نہیں، بلکہ غیر قانونی طبی سرگرمیوں اور انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

20 روزہ نومولود میں وائرس کی تصدیق کیسے ہوئی؟

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کورنگی کی جانب سے نومولود بچے میں منکی پاکس کی اطلاع موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق بچے سے حاصل کیے گئے نمونوں کی ڈاؤ لیبارٹری میں جانچ کی گئی، جس کے دوران وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران بچے کے ختنے میں استعمال ہونے والے طبی آلات اور متعلقہ مرکز کے انتظامات سے متعلق معاملات سامنے آئے، جس کے بعد ملیر 15 میں واقع ابنِ حسن اسپتال کے خلاف کارروائی کی گئی۔

اس معاملے کا سب سے اہم پہلو نومولود بچے کی صحت اور طبی آلات کا محفوظ استعمال ہے۔ تاہم، یہ جاننے کے لیے کہ انفیکشن بچے میں کس طرح منتقل ہوا، تمام طبی شواہد اور تحقیقات کی مکمل تفصیلات سامنے آنا بھی ضروری ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا جاسکے۔

پولیس کی مدد کیوں لینا پڑی؟

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق ضلعی صحت انتظامیہ کی شکایت پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کورنگی اور ایس ایس پی کورنگی کے تعاون سے کارروائی عمل میں لائی گئی۔

حکام کے مطابق اسپتال غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا، جہاں غیر مستند عملہ بچوں کے ختنے کر رہا تھا۔ کارروائی کے دوران مبینہ طور پر اسپتال کے عملے نے مزاحمت کی اور اپنے ساتھیوں کو بھی موقع پر بلا لیا، جس کے بعد پولیس کی مدد سے اسپتال کا معائنہ کیا گیا۔

کمیشن کے مطابق کارروائی کے بعد مبینہ اتائی اور دیگر افراد موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ اسپتال کو سیل کردیا گیا۔

اسپتال کے خلاف کارروائی کے دوران مزاحمت کی اطلاعات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور قانون پر عمل درآمد یقینی بنانا کس قدر اہم ہے۔

صفائی کے ناقص انتظامات، مریضوں کی حفاظت کون کرے گا؟

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسپتال میں صفائی کی صورتحال غیر تسلی بخش تھی، جبکہ انفیکشن سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے۔

طبی مراکز میں استعمال ہونے والے آلات کی مناسب صفائی، انہیں جراثیم سے پاک کرنے کے مؤثر طریقہ کار اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی مریضوں کے تحفظ کے بنیادی تقاضے ہیں۔ خصوصاً نومولود بچوں کے معاملے میں ان احتیاطی تدابیر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

اگر کسی طبی مرکز میں مناسب نگرانی اور حفاظتی انتظامات کے بغیر طبی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں تو اس کے منفی اثرات صرف ایک مریض تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دیگر مریضوں اور صحتِ عامہ کے لیے بھی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

تاہم، اس واقعے میں انتظامی یا قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقات کے نتائج اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے۔

کراچی میں اتائی کلینکس کا مسئلہ، کارروائی کے بعد کیا ہوگا؟

کراچی کے مختلف علاقوں میں غیر مستند طبی مراکز کی موجودگی طویل عرصے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ گنجان آباد اور مضافاتی علاقوں میں بعض شہری کم خرچ علاج یا فوری طبی سہولت کے حصول کے لیے ایسے مراکز کا رخ کرتے ہیں، جہاں طبی عملے کی اہلیت اور فراہم کی جانے والی سہولتوں کے معیار کا جائزہ لینا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔

غیر مستند افراد کی جانب سے طبی اقدامات انجام دینا مریضوں کی صحت کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے، خصوصاً جب معاملہ بچوں کے ختنے، انجیکشن لگانے یا دیگر طبی طریقہ کار سے متعلق ہو۔

اس تناظر میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارروائی اہمیت رکھتی ہے، تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ادارے صرف شکایت موصول ہونے یا کوئی سنگین واقعہ پیش آنے کے بعد ہی حرکت میں آئیں گے، یا غیر قانونی طبی مراکز کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے مستقل اور مؤثر نظام بھی قائم کیا جائے گا؟

غیر قانونی کلینکس کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم مستند سرکاری اعداد و شمار اور واضح ماخذ کے بغیر کسی مخصوص تعداد کو حتمی اور مصدقہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

’اسپتال سیل ہوگیا، مگر ذمہ داری کا تعین بھی ضروری ہے‘

ابنِ حسن اسپتال کو سیل کیے جانے کے بعد ضروری ہے کہ متعلقہ حکام تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں، طبی آلات کے استعمال اور انفیکشن کی منتقلی سے متعلق شواہد سامنے لائیں اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ نومولود بچے کی صحت سے متعلق مستند طبی معلومات سامنے لائی جائیں اور متاثرہ بچے کو مناسب طبی نگہداشت فراہم کی جائے۔

یہ واقعہ متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کارروائی محض ایک اسپتال کو سیل کرنے تک محدود رہے گی، یا کراچی میں غیر قانونی طبی مراکز کی نشاندہی، ان کی مؤثر نگرانی اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مستقل اقدامات بھی کیے جائیں گے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی سہولت کی فراہمی کا مطلب محض علاج کے لیے جگہ مہیا کرنا نہیں، بلکہ مریضوں کو محفوظ ماحول اور مستند طبی خدمات فراہم کرنا بھی ہے۔

شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ غیر قانونی طبی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی صرف کسی واقعے کے پیش آنے کے بعد نہ کی جائے، بلکہ مستقل اور مؤثر نگرانی کے ذریعے ایسے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف آخری لڑائی ہوگی، 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا، ثمر ہارون بلور

پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا، 23 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، براہ راست پروازیں شروع کرنے کا عزم

وینس اے بی سی اوپن اسکواش چیمپیئن شپ، پاکستان کے عاصم خان کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی مسلسل حمایت پر شکر گزار، امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی، فیصل کریم کنڈی

ویڈیو

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟