پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف نے کہا ہے کہ اگر قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی ضرورت ہوئی تو وہ طویل فارمیٹ میں کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے خود کو تیار نہیں سمجھتے تھے، تاہم اب 4 روزہ کرکٹ کھیلنے کے بعد ان میں طویل فارمیٹ کا چیلنج قبول کرنے کا اعتماد پیدا ہوا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ وہ پہلے ٹیسٹ کرکٹ کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن اب 4 روزہ کرکٹ کھیل چکے ہیں اور اگر ٹیم کو ان کی خدمات درکار ہوئیں تو انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:حارث رؤف کو ٹیم میں شامل کیا جائے یا نہیں؟ شاہین آفریدی کے سوال پر شائقین کا دلچسپ ردعمل
انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بولرز کو طویل اسپیل کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیلنے سے انہیں بھی فائدہ ہوا ہے، جبکہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی اس تجربے سے مدد ملی ہے۔ ان کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ اتنی ہی اہم ہے جتنی انٹرنیشنل کرکٹ۔
حارث رؤف نے پاکستان کے کوچنگ سیٹ اپ میں آسٹریلوی کوچ شان ٹیٹ کی واپسی کا بھی خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شان ٹیٹ پہلے بھی قومی ٹیم کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور ان کی موجودگی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
پاکستان کی جاری ون ڈے سہ ملکی سیریز کے آغاز پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ ٹیم نے اچھی شروعات کی ہیں اور بولنگ یونٹ کی کارکردگی کی بدولت ابتدائی دونوں میچز جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ میں کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی، حارث رؤف 2 میچوں کے لیے معطل
انہوں نے جدید دور کی بیٹنگ کو بولرز کے لیے ایک چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ درمیانی اوورز میں وکٹیں حاصل کرنا اور بڑے اسکور کا دفاع کرنا اہم ہے۔
واضح رہے کہ 32 سالہ حارث رؤف نے پاکستان کی جانب سے اب تک صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلا ہے۔ انہوں نے دسمبر 2022 میں راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور ایک وکٹ حاصل کی تھی۔
جاری پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون میں حارث رؤف پاکستان ٹیلی ویژن کی نمائندگی کررہے ہیں، جہاں انہوں نے 4 میچز میں 20.11 کی اوسط سے 18 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کا اکانومی ریٹ 3.45 رہا ہے۔











