پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رؤف نے کہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کے ساتھ ان کی بنیادی ذمہ داری ٹیم کے لیے اہم وکٹیں حاصل کرنا ہے، جدید کرکٹ میں زیادہ رنز بننے کے رجحان کے باعث بولنگ یونٹ کو اپنی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حارث رؤف نے کہا کہ کرکٹ ٹیم کا کھیل ہے اور اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑی ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ شاہین شاہ آفریدی کی ٹیم میں موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ فائدہ مند ہے۔
یہ بھی پڑھیںحارث رؤف نے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا عندیہ دے دیا
پاکستانی فاسٹ بولر نے کہا کہ 300 رنز کے ہدف کا دفاع کرنا ایک مثبت علامت ہے اور ٹیم کی کوشش ہے کہ بولنگ یونٹ مسلسل اچھی کارکردگی دکھائے۔ تاہم، اب ٹیمیں 300 سے 400 یا اس سے زیادہ رنز بنا رہی ہیں، اس لیے پاکستان کو بھی 350 رنز کے مجموعے بنانے اور ان کا دفاع کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
حارث رؤف نے کہا کہ جدید کرکٹ میں درمیانی اوورز کے دوران وکٹیں حاصل کرنا ضروری ہوگیا ہے، کیونکہ کھیل کے انداز میں تبدیلی آچکی ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں رنز بن رہے ہیں۔
انہوں نے تیز رفتار بولنگ کو جدید کرکٹ میں ایک اہم ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی فٹنس اور رفتار بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں تاکہ اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: حارث رؤف کا ماضی کیسا رہا؟ فاسٹ بولر کے استاد اور قریبی دوستوں نے اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا
حارث رؤف نے تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی فٹنس اور رفتار پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ لوگوں کو باتیں کرنے کے کم مواقع ملیں۔
آئندہ میچز کے حوالے سے حارث رؤف نے بلے بازوں صائم ایوب اور فخر زمان سے رنز بنانے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ انہیں توقع ہے کہ پاکستان سہ ملکی سیریز میں اپنی کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رکھے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے سہ ملکی ون ڈے سیریز کے ابتدائی دونوں میچز میں سری لنکا اور انگلینڈ کو شکست دے کر اچھا آغاز کیا ہے۔ ٹورنامنٹ میں 2 روزہ وقفے کے بعد مقابلے دوبارہ لاہور میں شروع ہوں گے، جہاں پاکستان اتوار کو قذافی اسٹیڈیم میں سیریز کے چوتھے میچ میں انگلینڈ کا سامنا کرے گا۔











