اسلام آباد کی فاسٹ یونیورسٹی میں برفانی چیتے کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں کرغزستان کے سفارت خانے کے ناظم الامور ایبیک ٹیلیبالائیف (Mr. Aibek Tilebaliev) نے خصوصی شرکت کی، جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی سیمینار میں شریک ہوئی۔
سیمینار کا مقصد پاکستان میں برفانی چیتے کی بقا کو لاحق خطرات، اس کے قدرتی مسکن کے تحفظ اور نوجوان نسل میں اس نایاب جنگلی جانور کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا تھا۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان میں برفانی چیتوں کی تعداد تقریباً 167 رہ گئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، گلیشیئرز کے پگھلنے اور قدرتی مسکن میں تبدیلی کے باعث برفانی چیتے خوراک کی تلاش میں انسانی آبادیوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیمینار میں شریک نوجوانوں اور دیگر شرکا نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے برفانی چیتے کے تحفظ اور اس نایاب نسل کی بقا کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔
شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ برفانی چیتے کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانے اور انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے واقعات میں کمی لانے کے لیے بالخصوص مقامی آبادیوں میں آگاہی پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب برفانی چیتے خوراک کی تلاش میں انسانی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں اور مویشیوں کا شکار کرتے ہیں تو مقامی افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں برفانی چیتوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
شرکا نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ برفانی چیتے کی بقا، اس کے قدرتی مسکن کے تحفظ اور مقامی آبادیوں کے تعاون سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے، تاکہ اس نایاب نسل کو معدوم ہونے سے بچایا جاسکے اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رکھا جاسکے۔









