لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کے احکامات سے متعلق رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔
جسٹس عبہر گل خان نے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی، دورانِ سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ تینوں بہنوں کی نظر بندی میں 7 اکتوبر کو توسیع کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں بہنوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں کی ہنگامہ آرائی کا معاملہ، عمران خان کی بہنوں پر مقدمہ درج
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا تھا، تاہم درخواست میں انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ اس معاملے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم آڑے آئیں گی۔
پنجاب حکومت نے علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں 30 روزکی توسیع کردی۔ pic.twitter.com/PpK0kspYB5
— Muzamal Suharwardy (@M_Suharwardy) October 26, 2026
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل کو معلوم ہونا چاہیے کہ عدالت درخواست میں کی گئی استدعا سے تجاوز کرتے ہوئے کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈی سی لاہور نے علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 30 روز کے لیے نظر بند کیا تھا۔
مزید پڑھیں: غیرضروری درخواست کیوں دائر کی؟ عدالت نے عمران خان کی بہنوں پر جرمانہ عائد کردیا
درخواست گزار کے مطابق نظر بندی کی مدت مکمل ہونے کے باوجود تینوں بہنوں کو رہا نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی بازیابی کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے ہوم سیکریٹری کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔











