پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر فیصلہ سازی اور اختیارات سے متعلق سوالات اب بھی برقرار ہیں کہ پارٹی کے اہم فیصلے آخر کون کرتا ہے اور حقیقی اختیار کس کے پاس ہے؟ کبھی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو اہم فیصلوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے تو کبھی سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے کردار پر بات ہوتی ہے۔
اسی طرح پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے اختیارات بھی زیر بحث رہتے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں۔
دوسری جانب عمران خان سے پارٹی قیادت کی ملاقاتوں میں تعطل نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ جب قیادت کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے براہ راست ہدایات نہیں مل رہیں تو پارٹی کی سیاسی حکمت عملی، احتجاجی لائحہ عمل، مذاکرات اور تنظیمی معاملات سے متعلق فیصلے آخر کون اور کس اختیار کے تحت کر رہا ہے؟
پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے اختیارات سے متعلق مختلف آرا اور رہنماؤں کے بیانات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا تحریک انصاف کے تمام اہم فیصلے کسی ایک مرکز سے کیے جاتے ہیں یا مختلف معاملات میں فیصلہ سازی کے اختیارات الگ الگ رہنماؤں اور کمیٹیوں کو تفویض کیے گئے ہیں۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا مؤقف ہے کہ تمام حتمی اختیارات عمران خان کے پاس ہیں اور پارٹی کے مختلف فورمز انہی کی ہدایات کی روشنی میں کام کرتے ہیں۔
’حتمی فیصلے عمران خان ہی کرتے ہیں‘
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی میں فیصلہ سازی کے اختیارات سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان ہی پارٹی کے اصل قائد ہیں اور تمام اہم معاملات میں ان کے فیصلوں کو حتمی حیثیت حاصل ہے۔
ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں بھی پارٹی کو بعض ہنگامی اور فوری نوعیت کے معاملات پر فیصلے کرنا پڑتے ہیں، تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی حیثیت یا ان کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق اگر عمران خان نے کسی معاملے میں کسی رہنما یا کمیٹی کو فیصلہ سازی کا اختیار تفویض کیا ہے تو وہ اسی اختیار کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض معاملات کو کور کمیٹی کے ذریعے چلانے کا فیصلہ بھی خود عمران خان ہی نے کیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت باضابطہ طور پر عمران خان کو ہی فیصلہ سازی کا حتمی اختیار حاصل ہونے کی بات کرتی ہے، جبکہ پارٹی کی مختلف کمیٹیاں اور عہدیدار انہی کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات اور ذمہ داریوں کے تحت کام کرتے ہیں۔
فردوس شمیم نقوی کے مطابق کور کمیٹی زیادہ بااختیار
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے پارٹی میں اختیارات کی تقسیم سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت یہ واضح نہیں کہ فیصلہ سازی کا اصل اختیار پارلیمانی کمیٹی، سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی یا پارٹی چیئرمین میں سے کس کے پاس ہے۔
ان کے مطابق اصولی طور پر پارٹی کے فیصلے چیئرمین کو کرنے چاہییں، تاہم موجودہ صورتحال میں چیئرمین کے عملی اختیارات محدود دکھائی دیتے ہیں، جبکہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی کا کردار زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔
فردوس شمیم نقوی کے مطابق پارٹی کے سیکریٹری جنرل کو بھی تنظیمی امور میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکریٹری جنرل اس منصب پر انتخاب کے ذریعے نہیں آئے بلکہ ان کی تعیناتی کی گئی تھی، جس کے باعث پارٹی میں اختیارات کی تقسیم اور فیصلہ سازی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ صورتحال میں پارٹی کی کور کمیٹی کو زیادہ اختیارات حاصل ہیں، جبکہ مختلف معاملات میں الگ الگ رہنماؤں کو ذمہ داریاں تفویض کیے جانے کے باعث یہ ابہام پیدا ہوا ہے کہ پارٹی میں فیصلہ سازی کا اصل مرکز کون سا ہے۔
فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کا کردار اہم ہے، جبکہ احتجاج اور عوامی تحریک سے متعلق معاملات میں سہیل آفریدی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح پارٹی کی چیئرمین شپ بیرسٹر گوہر علی خان کے پاس ہے، جبکہ تنظیمی اور انتظامی امور میں سلمان اکرم راجا کا کردار اہم بتایا جاتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پارٹی کے مختلف عہدوں کے لیے باقاعدہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جائیں تاکہ اختیارات کی تقسیم واضح ہو اور قیادت کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے کی حکمت عملی زیر غور
سینیئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق تحریک انصاف کی سیاست میں احتجاج، لانگ مارچ اور تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کی حکمت عملی زیادہ نمایاں ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سیاسی اور پارلیمانی امور میں اہم کردار سونپا جا سکتا ہے اور دونوں رہنما باہمی تعاون سے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق محمود خان اچکزئی کو عمومی طور پر سخت مؤقف رکھنے والے سیاسی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر تحریک انصاف مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرتی ہے تو اس فیصلے کے اثرات پارٹی قیادت میں مختلف مؤقف رکھنے والے رہنماؤں کے کردار اور ذمہ داریوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
پارلیمانی پارٹی کا کردار بڑھنے کا امکان ہے، منصور علی خان
سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان کے مطابق تحریک انصاف کے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کی تشکیل میں پارلیمانی پارٹی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ پارلیمانی اور سیاسی کمیٹیاں مشترکہ طور پر فیصلوں کی توثیق اور سیاسی حکمت عملی طے کرنے کے عمل میں شریک ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پارلیمانی پارٹی کی رائے کو زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے، جبکہ عمران خان، ان کی بہنوں اور بشریٰ بی بی سمیت زیر حراست افراد کی رہائی کے لیے سیاسی اور قانونی حکمت عملی پر بھی متعلقہ پارٹی فورمز میں غور کیا جا سکتا ہے۔
منصور علی خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تحریک انصاف میں سوشل میڈیا پر اثرورسوخ رکھنے والے یوٹیوبرز کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پارٹی قیادت اس حوالے سے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو بعض یوٹیوبرز اور پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات میں اضافے کا امکان ہے۔
پی ٹی آئی کے مستقبل اور تنظیمی صورت حال پر سوالات
سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق کے مطابق تحریک انصاف کو سیاسی اور تنظیمی محاذ پر متعدد مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں اس کی حکومت کے مستقبل سے متعلق بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے حکومتی حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں پارٹی کے لیے آگے کا سیاسی راستہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔
منیب فاروق نے عمران خان کی ممکنہ منتقلی سے متعلق اطلاعات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں بانی پی ٹی آئی کو بیرون ملک بھیجنے یا فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سامنے آنے والی باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
تاہم ان کے مطابق ایک امکان یہ زیر بحث ہے کہ ضروری انتظامات مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی کسی دوسری جیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔










