3 نومبر کو امریکا میں وسط مدّتی انتخابات ہورہے ہیں جو اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا صدر ٹرمپ آنے والے 2 سال اتنے ہی طاقتور رہیں گے جتنے طاقتور وہ اس وقت ہیں؟ انتخابی نتائج میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی اکثریت میں آ گئی تو امریکی ترجیحات تبدیل ہو سکتی ہیں۔
رائٹرز اور اِپسوس کے 26 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے تازہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح بڑھ کر 32 فیصد ہو گئی، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ ریکارڈ کم ترین سطح 31 فیصد پر آ گئی تھی۔
مزید پڑھیں: امریکا میں شٹ ڈاؤن نیویارک میئر کے انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ
سروے میں ایک ہزار 679 امریکی بالغ افراد کی رائے شامل تھی، جن میں 1280 رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔ کانگریس کے انتخاب کے حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی کو ری پبلکنز پر 47 فیصد کے مقابلے میں 36 فیصد برتری حاصل تھی، جبکہ سوئنگ ووٹرز کی ترجیحات شامل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کی برتری 50 فیصد کے مقابلے میں 41 فیصد رہی۔
26 اکتوبر کے سروے میں امریکیوں کا بنیادی مسئلہ مہنگائی رہا۔ سروے کے مطابق 73 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ روزمرہ استعمال کی چیزیں اور اخراجاتِ زندگی کی صورتِ حال غلط سمت میں جا رہی ہے۔ وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے۔
انتخابات کتنی نشستوں پر ہوں گے؟
امریکا میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان بن گئے ہیں۔ ان انتخابات میں امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان (کانگریس) کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔
انتخابی نتائج نہ صرف کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کی طاقت کا تعین کریں گے بلکہ آئندہ 2 برسوں میں صدر ٹرمپ کی اندرون ملک اور بیرون ملک پالیسیوں پر عملدرآمد کی رفتار بھی ان سے متاثر ہوگی۔
ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم 3 نشستوں کا اضافہ درکار ہے، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے انہیں 4 نشستوں کا اضافہ کرنا ہوگا۔
ٹرمپ کی مقبولیت اور معاشی مشکلات
انتخابی مہم میں سب سے اہم موضوع امریکی معیشت، مہنگائی اور عام شہریوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ خوراک، رہائش، صحت کی سہولتوں اور پیٹرول کی قیمتوں نے ووٹرز کی ترجیحات کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اپنی معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں میں کمی کو کامیابی قرار دے رہی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باوجود عام امریکی شہریوں کو مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے ریلیف نہیں ملا۔
ایران جنگ اور خارجہ پالیسی بھی انتخابی موضوع
ان انتخابات میں خارجہ پالیسی بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور صدر ٹرمپ کی تجارتی محصولات کی پالیسیوں پر ہونے والی بحث نے ری پبلکن امیدواروں کے لیے بعض ریاستوں میں مشکلات پیدا کی ہیں۔
ڈیموکریٹس ان معاملات کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات ضروری ہیں اور ان کے معاشی اثرات عارضی ثابت ہوں گے۔
ری پبلکن قیادت کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کے حامی ان کی خارجہ پالیسی کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہیں، لیکن تیل اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ووٹرز کے گھریلو بجٹ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم میں قومی سلامتی کے ساتھ معاشی استحکام بھی مرکزی بحث بن چکا ہے۔
نتائج کے امریکی سیاست پر ممکنہ اثرات
اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے لیے قانون سازی، وفاقی بجٹ کی منظوری اور بعض حکومتی اقدامات پر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ڈیموکریٹس اپوزیشن میں رہتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کی نگرانی کے لیے کانگریس کی سطح پر تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں۔ اگر وہ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو قانون سازی اور اہم تقرریوں کے معاملات میں مزید سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے برعکس، اگر ری پبلکنز دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے نسبتاً زیادہ گنجائش حاصل رہے گی۔ اس لیے یہ انتخابات امریکی سیاسی نظام میں انتظامیہ اور قانون ساز ادارے کے درمیان طاقت کے توازن کا فیصلہ بھی ہوں گے۔
پاکستان اور خطے کے لیے کیا اہمیت ہے؟
پاکستان کے لیے ان انتخابات کی اہمیت اس پہلو سے ہے کہ امریکی کانگریس میں طاقت کی تبدیلی پاکستان اور امریکا کے تعلقات، جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی، افغانستان، انسداد دہشتگردی اور خطے میں سفارتی ترجیحات پر ہونے والی بحث کو متاثر کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: نومبر میں امریکی انتخابات پاک۔امریکا تعلقات پر کس طرح اثرانداز ہوں گے؟
تاہم امریکی خارجہ پالیسی صرف صدر یا کسی ایک جماعت کے ہاتھ میں نہیں ہوتی، کانگریس کے اختیارات، بجٹ، پابندیوں اور قانون سازی کے ذریعے بھی اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔









