وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جزوی ایمرجنسی نہیں بلکہ مکمل طور پر گورنر راج نافذ ہے، جبکہ صوبے میں سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وزیراعظم نے 160 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ ان کے مطابق صوبے کو درپیش اندرونی و بیرونی مداخلت اور سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر یہ اقدام کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے، کیونکہ یہ علاقے دہشتگردی سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان اضلاع میں سیکیورٹی اداروں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضرورت پڑنے پر وفاقی حکومت سے براہ راست مدد حاصل کرنے کی سہولت دی گئی ہے، تاکہ امداد کے حصول میں انتظامی مراحل کی وجہ سے تاخیر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی مدت کا انحصار صوبے کی صورتحال پر ہوگا، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور
طارق فضل چوہدری کے مطابق وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 روز قبل پشاور کے گورنر ہاؤس میں ایکس کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے تخمینہ پیش کیا گیا، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر اور اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی شریک تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس گرانٹ کے تحت پہلے مرحلے میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ پولیس اہلکاروں کو دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں اور ضروری سازوسامان فراہم کرنا ناگزیر ہے، تاکہ وہ مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔











