اسپین میں 2 تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 64 افراد ہلاک، 80 زخمی، اموات میں اضافے کا خدشہ

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپین کے وسطی علاقے کاسٹیلا لا مانچا کے صوبے تولیڈو میں 2  تیز رفتار مسافر ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 64 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہو گئے، جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق سگنل کی خرابی کے باعث پٹری پر رکی ایک ٹرین کو پیچھے سے آنے والی دوسری ٹرین نے ٹکر ماری، تاہم حادثے کی حتمی وجوہات اور جانی نقصان کی مکمل تفصیلات کا تعین جاری ہے۔

ریسکیو آپریشن جاری، تباہ شدہ ڈبوں میں مزید افراد کی موجودگی

اسپین کے ریلوے نیٹ ورک کے منتظم ادارے ’اے ڈی آئی ایف‘ کے مطابق حادثہ بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 9 بجے کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا۔

تصادم کے باعث 2 ڈبے پٹری سے اتر گئے، جبکہ حادثے کے بعد میڈرڈ سے جنوبی علاقے اندلسیا تک جانے والی ریلوے سروس معطل کر دی گئی۔

علاقائی حکومت کے سربراہ ایمیلیانو گارسیا پیج نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق سرکاری ریلوے کمپنی رینفے کی ٹرین میں 24 اور نجی کمپنی ایریو کی ٹرین میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:محمد عباس کو ڈراپ کرنے کی وجہ انجری نہیں، پورٹ آف اسپین کی کنڈیشنز تھیں، بابر اعظم

انہوں نے خبردار کیا کہ امدادی کارکن ابھی تک شدید متاثرہ ڈبوں تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر سکے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

گارسیا پیج کے مطابق امدادی ادارے ملبے میں مزید متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم تشویش ممکنہ طور پر مزید اموات کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام دستیاب ہنگامی اور طبی وسائل متحرک کر دیے گئے ہیں، جبکہ پڑوسی علاقوں نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے۔

سگنل کی خرابی کے باعث ٹرین رکی ہوئی تھی، ذرائع کا دعویٰ

حادثے کی وجہ کے بارے میں سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹس کے مطابق نجی کمپنی ایریو کی تیز رفتار ٹرین سگنل کی خرابی کے باعث پٹری پر رکی ہوئی تھی، جب سرکاری کمپنی رینفے کی ٹرین اس سے ٹکرا گئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے بتایا کہ ریلوے انفرااسٹرکچر کے منتظم ادارے اے ڈی آئی ایف نے سگنل میں خرابی کے باعث ایریو کی ٹرین کو تولیڈو کے قریب روکنے کی ہدایت کی تھی۔ اسی دوران رینفے کی ٹرین اس کے پچھلے حصے سے ٹکرا گئی۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ رینفے کی ٹرین ایریو کی رکی ہوئی ٹرین سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں اس کے 2 ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ تاہم، حادثے کی اصل وجہ اور اس میں سگنل کی خرابی کے کردار کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

حادثے کی شدت، ڈبے دھات کے ٹکڑوں میں تبدیل

حادثہ اُردا اور لاس یبینیس نامی قصبوں کے درمیان کھلے میدانی علاقے میں پیش آیا، جہاں چاروں طرف کھیت واقع ہیں۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ ایک ڈبہ بری طرح تباہ ہو گیا اور اس کے دھات سمیت دیگر ملبے کے ٹکڑے ڈھلوان پر بکھر گئے۔

اسپین کی وزیر صحت مونیکا گارسیا نے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی وی ای کو بتایا کہ امدادی کارکنوں کی توجہ سب سے زیادہ تباہ ہونے والے 2 ڈبوں سے زندہ بچ جانے والے مسافروں اور لاشوں کو نکالنے پر مرکوز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسپین میں تیز رفتار ٹرینوں کا خوفناک تصادم، 39افراد ہلاک، درجنوں زخمی

انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو علاقے کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزیر صحت نے حادثے کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تصادم تیز رفتار ٹکراؤ کے نتیجے میں ہوا، اس لیے ایک بڑے سانحے کا خدشہ ہے۔

544 مسافر سوار تھے، زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا

علاقائی حکام کی ترجمان ایسٹر پادیلا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی دونوں ٹرینیں دارالحکومت میڈرڈ سے جنوب مغربی شہر سیویل کی جانب ایک ہی سمت میں سفر کر رہی تھیں اور ان میں مجموعی طور پر 544 مسافر سوار تھے۔ ان کے مطابق رینفے کی ٹرین میں397 جبکہ ایریو کی ٹرین میں147 مسافر موجود تھے۔

تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ متاثرہ ڈبوں تک رسائی اور امدادی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد جانی نقصان کی زیادہ حتمی تصویر سامنے آ سکے گی۔

فوجی ہنگامی یونٹ بھی امدادی کارروائیوں میں شامل

حادثے کے بعد فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر ہنگامی اداروں کے ساتھ فوجی ہنگامی امدادی بریگیڈ کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں میں معاونت کی جا سکے۔

قریبی قصبے اُردا کے میئر مینوئل گالان نے ٹی وی ای کو بتایا کہ شہری تحفظ کے حکام نے ان کی میونسپل انتظامیہ سے زخمی مسافروں کی دیکھ بھال کے لیے ایک اسپورٹس پویلین تیار رکھنے کو کہا ہے۔

اس انتظام کا مقصد زخمیوں کو فوری سہولت فراہم کرنا اور ہنگامی حالات میں دستیاب طبی و امدادی وسائل پر دباؤ کم کرنا ہے۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا اظہار افسوس، سرکاری مصروفیات منسوخ

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کے بعد اپنی سرکاری مصروفیات منسوخ کر دیں تاکہ وہ صورت حال پر توجہ دے سکیں۔

انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں تولیڈو میں پیش آنے والے سنگین ٹرین حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

سانچیز نے کہا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر متاثرہ مسافروں کی مدد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد اور ان کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام تر توجہ اس سانحے سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہے۔

مزید پڑھیں:لیبیا کشتی حادثہ: 63 مسافر پاکستانی تھے، 16 لاشیں برآمد، وزارت خارجہ

یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسپین میں اگلے ماہ قومی انتخابات ہونے والے ہیں۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، وزیراعظم نے 29 نومبر کے لیے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث یہ سانحہ سیاسی اعتبار سے بھی حساس وقت میں سامنے آیا ہے۔

بادشاہ فیلیپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا کا اظہار تعزیت

اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا نے بھی حادثے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شاہی جوڑے نے ’ایکس‘ پر جاری مختصر بیان میں کہا کہ وہ اُردا، تولیڈو میں پیش آنے والے ٹرین حادثے کی اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ وہ جانیں گنوانے والے افراد کے اہل خانہ اور عزیزوں کے غم میں شریک ہیں اور زخمیوں سمیت حادثے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

رواں سال دوسرا بڑا ٹرین حادثہ، جنوری میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے

اسپین میں رواں سال یہ دوسرا بڑا مہلک ٹرین حادثہ ہے۔ اس سے قبل جنوری میں جنوبی اسپین میں ایک ٹرین پٹری سے اتر کر مخالف سمت سے آنے والی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی تھی، جس کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حادثے میں دونوں ٹرینیں اسی ریلوے لائن پر چل رہی تھیں اور ان کا تعلق بھی انہی دو کمپنیوں، رینفے اور ایریو، سے بتایا گیا تھا۔

جنوری کا حادثہ اسپین میں 2013 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز ریلوے سانحہ قرار دیا گیا تھا۔ 2013 میں پیش آنے والے ٹرین حادثے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جنوری کے سانحے نے اسپین کے وسیع تیز رفتار ریلوے نظام کی حفاظت اور کارکردگی کے حوالے سے عوامی اعتماد کو متاثر کیا تھا۔ تازہ حادثے نے ایک مرتبہ پھر ریلوے کی حفاظت اور ہنگامی انتظامات سے متعلق سوالات کو اہم بنا دیا ہے۔

تیز رفتار ریلوے میں اسپین دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل

اسپین نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کی توسیع پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور اس شعبے میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

اسپین کی ریلوے یونین کے مطابق، تیز رفتار ریلوے کی تعریف ان پٹریوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن پر ٹرینیں 250 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے چل سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مراکش کشتی حادثہ: بچ جانے والے مزید 8 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

بین الاقوامی یونین آف ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق، اسپین نے 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے میں اپنے تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ شہریوں کے لیے لگ بھگ 3,900 کلومیٹر طویل تیز رفتار ریلوے ٹریک تعمیر کیا ہے۔

اس شعبے میں چین کو اسپین پر برتری حاصل ہے، جہاں تقریباً 1.4 ارب آبادی کے لیے 45,000 کلومیٹر طویل تیز رفتار ریلوے ٹریک موجود ہے۔

اسپین نے حالیہ برسوں میں اپنے ریلوے نیٹ ورک کو نجی کمپنیوں کے لیے بھی کھولا، تاکہ وہ سرکاری کمپنی رینفے کے مقابلے میں مسافر ٹرینیں چلا سکیں۔

اطالوی ملکیت کی نجی کمپنی ایریو نے 2022 میں اسپین میں اپنے آپریشنز کا آغاز کیا تھا۔ اس طرح ملک کے ریلوے شعبے میں مسابقت بڑھی اور مسافروں کو سفر کے لیے مزید آپریٹرز دستیاب ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا