وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کا باب بند ہوچکا ہے اور اس معاملے پر تحریک انصاف کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، تاہم دیگر معاملات پر حکومت پی ٹی آئی سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی کوئی ساکھ نہیں رہی، ان پر کون اعتبار کرے گا؟
مزید پڑھیں: گورنر راج اور ایمرجنسی پر مولانا فضل الرحمان اپنے ماضی کے اتحادیوں کے خلاف کیوں کھڑے ہوگئے؟
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ عوام کو انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے کرنا چاہیے، کیونکہ عوامی جواز کے بغیر کوئی حکومت عوام کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم نہیں کرسکتی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی سابقہ حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ساڑھے 13 سال کے دوران عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ نہ مناسب اسپتال تعمیر کیے گئے اور نہ ہی اچھی یونیورسٹیوں کے قیام اور ترقی پر توجہ دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کوہاٹ میں نواز شریف کے دور حکومت میں ٹنل تعمیر کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد علاقے میں کوئی نمایاں ترقیاتی کام نہیں ہوا۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے دہشتگردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام پر بھی 6 دہشتگرد حملے ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات کے دوران بھی دیگر سیاسی جماعتیں دہشتگرد حملوں سے متاثر ہوئیں اور ان کے رہنماؤں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وفاقی وزیر کے مطابق 2013 سے 2017 کے دوران وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کوششوں سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا تھا، تاہم عمران خان کے دور حکومت میں تقریباً 25 ہزار دہشتگردوں کو واپس لایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردوں کی واپسی کے بعد جیلوں کے دروازے کھولے گئے اور واپس آنے والوں کا استقبال کیا گیا۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوت اور 100 فیصد عزم کے ساتھ لڑی جاسکتی ہے اور اس کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن کا مؤثر نظام قائم کرکے دہشتگردی کی روک تھام میں مدد حاصل کی جاسکتی تھی۔
ان کے مطابق گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ذریعے سینکڑوں ارب روپے کی آمدن بھی حاصل کی جاسکتی تھی، جسے عوام کی فلاح و بہبود اور صوبے کی ترقی پر خرچ کیا جاسکتا تھا۔
عطااللہ تارڑ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت سے متعلق معاملہ ختم ہوچکا ہے اور اس پر مزید مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، البتہ دیگر سیاسی معاملات پر تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبولیت کا دعویٰ مگر گورنر راج پر پی ٹی آئی والے ملک میں کہیں بھی سڑکوں پر کیوں نہ نکل سکے؟
انہوں نے کہا کہ بالآخر حکومتوں کی کارکردگی کا فیصلہ عوام ہی کو کرنا چاہیے اور انتخابات میں ووٹ کے ذریعے عوامی رائے سامنے آنی چاہیے۔











