عالمی انتخابات اور ٹرمپ کا پنوتی دست شفقت

جمعرات 29 اکتوبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ برسر اقتدار آئے تو ان کے ذہن میں ایک خناس نے گھر کرلیا۔ نتیجتا یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ صرف امریکا کے ہی نہیں بلکہ پورے کرہ ارض کے محبوب ترین رہنما ہیں۔ سو انہوں نے دیگر ممالک کے انتخابات میں بھی دخل دینا شروع کردیا۔ انہیں لگتا تھا کہ وہ جس ملک کے انتخابات میں جس بھی پارٹی کی حمایت کردیں، اس کی فتح یقینی ہوجائے گی۔ لیکن اس مداخلت نے صورتحال کو انہی کے لیے اسقدر مضحکہ خیز بنا دیا ہے کہ نجی مجالس کا وہ لطیفہ بار بار یاد آجاتا ہے جو ہم نجی مجلس میں ہی سنا سکتے ہیں۔ یہاں بس آپ اتنا جان لیجئے کہ لطیفے کے اختتامی مراحل میں مایوس کن سہاگ رات کے اختتام پر ایک دکھی روح نے کہا تھا: ’اللہ بخشے اماں حضور سچ ہی کہا کرتی تھیں کہ بیٹا تمہارے ابا کے ہاتھ جس چیز کو لگ جائیں، اس سے برکت اٹھ جاتی ہے‘۔

عین یہی حال ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ کا ہے۔ اس ہاتھ نے دنیا کی جس پارٹی کو چھوا، وہ انتخابات بری طرح ہار گئی۔ اسی ہفتے ہونے والے برازیل، سربیا اور اسرائیل کے انتخابات کی جانب ہم اگلی سطور میں بس آیا ہی چاہتے ہیں، پہلے ذرا حالیہ تین انتخابات سے قبل والے ان انتخابات کا حال جان لیجئے جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پنوتی ہاتھ نے اچھی بھلی جیتتی جماعتوں کا بیڑا غرق کیا۔

امریکی جغرافیے سے باہر ٹرمپ برانڈ کا پہلا بھرکس کینیڈا میں نکلا تھا۔ اور وہ بھی اس دھوم دھام سے کہ وہاں اپریل 2025 کے انتخابات میں جس پارٹی کی فتح لگ بھگ 100 فیصد یقینی نظر آرہی تھی، اسے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کینیڈا میں جسٹن ٹروڈو سے لوگ اس حد تک بیزار ہوگئے تھے کہ انہیں استعفی دے کر قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کرنی پڑی تھی۔ ان انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پولیور کی جیت قریباً یقینی تھی۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کیا کیوں نہ اس جیت کو مزید یقینی بنا لیا جائے۔ اس کے لئے انہوں نے دو کام کئے۔ پہلا یہ کہ کنزرویٹو پارٹی کی حمایت کردی، اور دوسرا یہ کہ کینیڈین قوم کی توہین کرتے ہوئے بار بار یہ کہنا شروع کردیا کہ کینیڈا کو تو امریکا کی 51 ویں ریاست ہونا چاہئے۔ یہ صورتحال دیکھ کر کینیڈین ووٹر نے طے کرلیا کہ وہ لبرلز کو ہی واپس اقتدار میں لائیں گے۔ انتخابی نتیجہ آیا تو کنزویٹو پارٹی کے لئے اتنا عبرتناک تھا کہ اس کی قیادت ہی منہ چھپانے پر مجبور ہوگئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے پنوتی ہاتھ کا دوسرا نشانہ مئی 2025 کے آسٹریلوی انتخابات میں پیٹر ڈوٹن بنے۔ حزب اختلاف کے اس قدامت پسند رہنما نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امیگریشن مخالف بیانیے اور کلچر وار طرز کی سیاست کو کاپی کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس طرز سیاست کے باوجود سروے رپورٹس میں ان کی کامیابی کے واضح امکانات نظر آرہے تھے۔ مگر پھر یوں ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی فتح کو مزید یقینی بنانے کے لئے ان کی حمایت کا اعلان کردیا۔

اس حمایت کا نتیجہ دل دہلا دینے والے انتخابی نتائج کی صورت جاری ہوا۔ برسرِ اقتدار وزیر اعظم انتھونی البانیز کی لیبر پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ اور پیٹر ڈوٹن کے لئے صورتحال اسقدر شرمناک ہوگئی کہ وہ نہ صرف پورا الیکشن ہارے، بلکہ اپنی روایتی پارلیمانی سیٹ بھی گنوا بیٹھے، جو آسٹریلیا کی سیاسی تاریخ میں کسی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ہونے والا ایک نادر واقعہ تھا۔

آپ کو ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان تو یاد ہوں گے؟ وہی جو 16 سال سے مسلسل برسر اقتدار تھے، اور لوگ ان سے بدستور مطمئن تھے۔ یہ قدامت پسند رہنما یوکرین جنگ، ایمیگریشن، اور لبرل روایات کے مخالف تھے۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تو شدید سے بھی ذرا آگے جاکر حامی تھے۔ مگر ان کے اقتدار کو پھر بھی کوئی خطرہ نہ تھا۔ ایسے میں آئے اپریل 2026 کے عام انتخابات اورڈونلڈ ٹرمپ نے طے کرلیا کہ اپنے اس دوست کا حق دوستی ادا کرنا چاہئے۔ سو ٹرمپ نے صرف بیانی حد تک ہی حمایت نہ کی بلکہ وکٹر اوربان کے حق میں تقریر کرنے کے لئے نائب صدر جے ڈی وینز کو ہنگری بھیج دیا۔ انتخابی نتیجہ آیا تو وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کا سورج ہی غروب نہ کیا بلکہ ان کی سیاست کا شاید چراغ ہی گل کردیا۔ کیونکہ اس کے بعد وکٹر اوربان کہیں نظر نہیں آئے۔

اب ذرا اکتوبر کے اس رواں آخری عشرے میں منعقد والے تین ممالک کے انتخابات کا حال دیکھئے۔ اگر اپ کو یاد ہو تو ہم آپ کو کئی ماہ قبل بتا چکے کہ امریکی یہ نوشتہ دیوار پڑھ چکے کہ اب وہ بس ایک علاقائی طاقت بننے جا رہے ہیں۔ اور وہ اس کی تیاری بھی شروع کرچکے۔ علاقائی سیاست میں ان کا محلہ ہے براعظم امریکا۔ چنانچہ وینزویلا اور کیوبا کے خلاف ٹرمپ کی جارحانہ حکمت عملی انہی تیاریوں کا حصہ ہے۔ ان تیاریوں میں ایک اہم چیز یہ بھی چل رہی ہے کہ لاطینی ممالک میں اپنے من پسند لوگوں کو اقتدار میں لایا جائے۔ بولیویا س لے کر برازیل تک کئی ممالک میں یہ سرگرمیاں رو بعمل ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے ان ممالک پر اسرائیل سے قریبی تعلقات پر بھی مجبور کر رکھا ہے۔

اسی سلسلے میں پچھلے دو سال سے ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا کو بھی شدید دباؤ میں رکھا ہوا تھا۔ برازیل کی اہمیت یہ ہے کہ وسائل سے مالا مال یہ ملک لاطینی امریکا کا سب سے طاقتور ملک ہے اور یہ برکس کا بانی ممبر بھی ہے۔ یہ چین کے لئے تجارتی لحاظ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے میں رواں اکتوبر کی 2 تاریخ صدارتی الیکشن کے لئے طے پائی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے لولا ڈی سلوا کے مقابلے پر فلاویو بولسونارو کو اتار دیا۔ جس سے پوری دنیا کی نظریں ان انتخابات پر جم گئیں۔ کیونکہ لولا کی ممکنہ شکست کے اثرات برکس پر بری طرح پڑنے تھے۔ وہ یوں کہ موجودہ وقت میں برکس کی سب سے کمزور دو کڑیاں برازیل اور انڈیا ہیں۔

برکس ایک ایسا اتحاد ہے جہاں چین یا روس امریکی اتحادوں کی طرح مستقل قائد نہیں۔ برکس کی قیادت ہر سال نئے ممبر ملک کو منتقل ہوتی ہے اور سربراہی حاصل کرنے والا ملک اپنی پالیسیاں تشکیل دے کر اس اتحاد سے منظوری کے بعد برکس کے مستقبل کے منصوبوں میں شامل کروا سکتا ہے۔ پچھلے سال یعنی 2025 میں یہ صدارت برازیل کے پاس تھی۔ اور پہلے سے بنے روڈ میپ کے حساب سے برازیل نے برکس کی مشترکہ کرنسی کو حتمی شکل دینی تھی۔ لیکن لولا ڈی سلوا ٹرمپ کا دباؤ برداشت نہ کرسکے۔ چنانچہ مشترکہ کرنسی والی بات آگے نہ بڑھ سکی۔ بدقسمتی دیکھئے کہ برازیل کے بعد برکس کی صدارت انڈیا کو منتقل ہوئی اور موذی جی ٹرمپ کے آگے کس درجے کے گیدڑ ہیں وہ تو سب ہی جانتے ہیں۔ چنانچہ مشترکہ کرنسی والا معاملہ 2026 میں بھی لٹک گیا۔ ایسے میں توقع یہی تھی کہ اگر برازیل کے انتخابات میں بولسونارو جیت گئے تو وہ برازیل کو برکس سے نکال لیں گے اور انڈیا بھی اس کے بعد یہی کرے گا۔

2 اکتوبر کے صدارتی انتخابات میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد کا بیریئر عبور نہ کرپایا، یوں معاملہ 25 اکتوبر کے دوسرے مرحلے پر چلا گیا۔ مگر خطرے والی بات یہ تھی کہ صدر لولا اپنے حریف بولسونارو سے 5 پوائنٹس پیچھے تھے۔ صدر لولا ڈی سلوا مضبوط امیدوار تھے مگر اس 80 سالہ صدر کی انتخابی مہم ان کی پارٹی کو چلانی پڑی تھی۔ خود لولا سرگرم کردار ادا نہ کرپائے تھے۔ 2 اکتوبر کے جھٹکے کے بعد لولا خود میدان میں اترے اور اگلے 20 دنوں میں پانسا پلٹ ڈالا۔ وہ 25 اکتوبر کو صدارتی انتخابات 40 لاکھ وٹوں سے جیت گئے۔ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان کا حریف راتوں رات ارجنٹائن کا بارڈر عبور کرکے ملک سے فرار ہوگیا ہے۔ بولسونارو شاید ڈونلڈ ٹرمپ کے پنوتی ہاتھ کو شرف دست بوسی بخشنے کو ہی بھاگے ہوں۔

25 اکتوبر کو ہی سربیا میں بھی انتخابات ہوئے۔ وہاں الیگزینڈر ووچچ اقتدار میں تھے۔ وہ بھی وکٹر اوربان کی طرح ویلادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے گن گاتے تھے۔ سربیا ان یورپین ممالک میں شامل ہے جو روسی کیمپ میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن چند ماہ قبل ہی ووچچ کا یہ بھانڈا بھی پھوٹ چکا کہ پیوٹن کو اپنی حمایت کا یقین دلانے والے ووچچ خفیہ طور پر یوکرین کو ہتھیار بھی فروخت کر رہے تھے۔ 25 اکتوبر کے انتخابات میں انہیں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کا پنوتی دست شفقت میسر آیا۔ یوں مقبول ہونے کے باوجود طلبا کی ایک تحریک کے ہاتھوں انتخابات میں شرمناک شکست سے دوچار ہوگئے۔

اکتوبر کے اس آخری عشرے میں تیسرا الیکشن اسرائیل میں ہوا۔ اسرائیلی الیکشن پر فلسطینیوں کے مستقبل یا حال کا کوئی دارومدار نہ تھا۔ لیکن یہ انتخابات پھر بھی توجہ کا مرکز تھے۔ اور اس کی وجہ فقط یہ تھی کہ اگر نیتن یاہو کا اتحاد ہار جاتا تو اس کے لئے جیل کا گیٹ کھل جاتا۔ ظاہر ہے دنیا کا ہر شخص اس درندے کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کے اتحاد کو بہ ایں معنی شکست تو ہوگئی ہے کہ 68 سیٹوں کی بجائے اس اتحاد کے پاس اب تا دم تحریر 54 سیٹیں ہیں۔ لیکن سابق ملٹری چیف گاڈی آئزن کاٹ کا اتحاد بھی برتری حاصل نہ کرسکا۔ جس سے صورتحال لٹک گئی ہے۔ ایک بیحد دلچسپ چیز یہ ہوئی ہے کہ عرب جماعتوں نے ان انتخابات میں 19 سیٹیں حاصل کرکے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے عرب جماعتوں نے اسرائیلی دہشتگردی کے اس دور عروج میں یہ ریکارڈ قائم کیسے کرلیا؟ یہ ریکارڈ قائم کرنے کے لئے انہوں نے اسرائیل کے اس طریقہ انتخاب کا زبردست فائدہ اٹھایا جو باقی دنیا سے یکسر مختلف ہے۔

اسرائیلی انتخابات کا طریقہ یہ ہے کہ وہاں حلقہ بندیاں ہوتی ہیں اور نہ ہی انتخابی امیدوار میدان میں ہوتے ہیں۔ بلکہ پورا ملک ایک ہی حلقہ ہوتا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کو اپنے 120 نمائندوں کی فہرستیں فراہم کرتی ہیں۔ الیکشن والے دن ووٹر پولنگ بوتھ میں آتے ہیں تو بیلٹ پیپر پر کسی امیدوار کا نام نہیں بلکہ پارٹیوں کے نام ہوتے ہیں۔ وہ جس پارٹی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں اس کے نام پر مہر لگا دیتے ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج یوں مرتب کئے جاتے ہیں کہ ہر پارٹی کے حاصل کردہ ووٹوں کا تناسب نکلا جاتا ہے۔ جتنا تناسب ہوتا ہے اتنی ہی سیٹیں دیدی جاتی ہیں۔ مثلا اگر کسی پارٹی نے 10 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں تو اسے 12 سیٹیں دیدی جاتی ہیں۔ جو 120 کے ایوان کا 10 فیصد ہوتی ہیں۔ اور ان 12 سیٹوں پر اس جماعت کی فہرست کے پہلے 12 افراد ممبر بن جاتے ہیں۔

اگر آپ غور کیجئے تو اس طریقہ انتخاب میں مقابلہ ہی اس بات کا ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے جائیں۔ جتنے زیادہ ووٹ اتنی ہی زیادہ سیٹیں ملیں گی۔ چنانچہ عرب جماعتوں نے دھواں دھار قسم کی مہم چلا کر اپنے ووٹرز کو ریکارڈ تعداد میں ووٹ کے لئے نکالا۔ کل رجسٹرڈ عرب ووٹرز میں سے 80 فیصد سے زائد نے ووٹ کاسٹ کرکے 19 سیٹیں یقینی بنائی ہیں۔ اور ایسا کرکے انہوں نے اسرائیل میں اگلی حکومت کا قیام ہی لگ بھگ ناممکن بنا دیا ہے۔ کیونکہ نیتن یاہو اور آئزن کاٹ دونوں ہی اتحادوں کے پاس حکومت بنانے کے لئے سیٹو کی درکار تعداد موجود نہیں۔

اس صورتحال کا سب سے گہرا اثر نیتن یاہو پر پڑا ہے۔ جس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں عرب جماعتوں کو دہشت گرد قرار دے کر یہ مضحکہ خیز الزام لگایا ہے کہ ان جماعتوں نے ووٹرز کو گھروں سے نکلنے پر آمادہ کرنے کے لئے ایک ممنوعہ ایپ کا استعمال کیا ہے۔ حواس باختہ نیتن یاہو نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان اسرائیلی عربوں کو سبق سکھانے کے لئے آہنی ہاتھ کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی امریکا میں یہودی لابی کے پوڈ کاسٹرز نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کہ ان عربوں کو ووٹ کا حق دیا ہی کیوں گیا ہے؟ ان سے ووٹ کا حق بھی چھینا جائے، اور انہیں اسرائیل سے بھی نکال باہر کیا جائے۔ گویا ڈونلڈ ٹرمپ کے پنوتی دست شفقت نے سب سے زیادہ نحوست اسرائیلی انتخابات میں ہی پھیلا دی ہے۔ ایسی نحوست جس کے نتائج اب اسرائیلی سوشل میڈیا سے لے کر امریکی سوشل میڈیا تک ماتم کی صورت ظاہر ہو رہے ہیں۔

ڈونلڈ ترمپ کا پنوتی ہاتھ امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں بھی حشر سامانیاں دکھا رہا ہے۔ امریکی سروے رپورٹس کے مطابق اب تک ڈونلڈ ٹرمپ جس بھی ری پبلکن امیدوار کی ریلی میں گئے ہیں، اس کی مقبولیت مزید زمین بوس ہوئی ہے۔ یوں کئی ریاستوں میں مقامی ری پبلکن پارٹی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے حلقوں میں آنے سے روک دیا ہے۔ یعنی بالآخر لوگوں کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا پنوتی دست شفقت، اور کالی زبان وزن نہیں بلکہ بوجھ کا درجہ رکھتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا