فرانس میں ہنگاموں کے دوران دکان کا شیشہ توڑنے کی کوشش ناکام ہونے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ویڈیو کو چین کی شیشہ ساز کمپنی ہینگ شِن فینگ سے منسوب کیا جا رہا ہے، جس نے اسے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا۔ یوں توڑ پھوڑ کی ایک کوشش کمپنی کے لیے مفت تشہیر کا ذریعہ بن گئی۔
برطانوی اخبار انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں چند افراد کو دکان کے شیشے پر بار بار ضربیں لگاتے دیکھا جاسکتا ہے، تاہم شیشہ ٹوٹ کر راستہ دینے کے بجائے اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ شیشے پر دراڑیں پڑنے کے باوجود اس میں اتنا بڑا شگاف نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعے دکان میں داخل ہوا جاسکے۔
Chinese glass manufacturer uses footage from French riots to advertise its 'unbreakable' product online pic.twitter.com/I0P9Q9N6B8
— The Gulag (@WelcomeTheGulag) October 28, 2026
سوشل میڈیا صارفین نے اس منظر کو شیشے کی مضبوطی کا غیر معمولی مظاہرہ قرار دیا، جبکہ کمپنی کی جانب سے ویڈیو شیئر کیے جانے کو بھی مارکیٹنگ کا دلچسپ انداز سمجھا جا رہا ہے۔ روایتی اشتہار پر بھاری رقم خرچ کیے بغیر یہ ویڈیو کمپنی اور اس کی مصنوعات کو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنانے کا ذریعہ بن گئی۔
تاہم بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا شیشہ واقعی ہینگ شِن فینگ کمپنی کا تیار کردہ ہے یا یہ واقعہ کس مخصوص مقام پر پیش آیا۔ اس لیے ویڈیو کو کمپنی کی مصنوعات کی مضبوطی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس میں طلبہ کے مظاہروں پر پولیس کریک ڈاؤن، اقوام متحدہ کے ماہرین کا اظہارِ تشویش
اس کے باوجود یہ واقعہ سوشل میڈیا کی طاقت کی ایک دلچسپ مثال بن گیا ہے، جہاں ایک غیر معمولی منظر دیکھتے ہی دیکھتے کسی کمپنی کے لیے تشہیری موقع بن سکتا ہے۔










