امریکا کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے یوکرین کے روسی زیر قبضہ قصبے اولیشکی میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے جسے روس اور یوکرین دونوں نے سراہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میلانیا ٹرمپ اتنی دلکش کیسے دِکھتی ہیں؟ جانیے امریکی خاتون اول کے سدابہار حسن کا راز، ٹوٹکے اور بیوٹی روٹین
جمعرات کو شروع ہونے والے اس آپریشن کا مقصد سنہ 2022 سے جنگ کے اندر پھنسے ہوئے قصبے میں خوراک اور ادویات پہنچانا اور سینکڑوں شہریوں کا انخلا ممکن بنانا ہے۔
روس کی انسانی حقوق کمشنر یانا لانتراتووا نے کہا کہ وہ امریکی قدامت پسند چینل نیوز میکس کے چار صحافیوں کو علاقے میں لے جا رہی ہیں جبکہ ان کے یوکرینی ہم منصب دمیتر و لبینٹس بھی اولیشکی روانہ ہو رہے ہیں۔
صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو میں ایک اجلاس میں کہا کہ امریکا کی خاتون اول کی حمایت سے یہ امدادی سامان جمعرات اور جمعہ کو شہریوں تک پہنچنا شروع ہو جائے گا۔
مزید پڑھیے: وائٹ ہاؤس ترجمان کیرولین لیویٹ امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے فیشن سینس، انداز گفتگو کی مداح
دوسری جانب یوکرینی عہدیدار لبینٹس نے بھی اس انسانی مشن اور اولیشکی میں شہریوں کی مدد کے لیے ذاتی طور پر وقت اور توجہ دینے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اولیشکی جنگ بندی میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔
دنیپرو میں مسافر ٹرین پر حملہ
اولیشکی میں ریلیف کی اس کوشش کے باوجود جنگ میں وسیع ریلیف کا تاثر جلد ہی ختم ہو گیا جب مقامی حکام کے مطابق یوکرینی شہر دنیپرو کے مرکزی اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین پر ڈرون حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے جہاں کوئی جنگ بندی نافذ نہیں تھی۔
ریاستی ریل کمپنی اوکرزالیزنیتسیا نے بتایا کہ ایک جیٹ سے چلنے والے ڈرون نے اس پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا جہاں ایک مسافر ٹرین قریبی زاپوریژیا کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔
محدود جنگ بندی، وسیع سفارتی کوششیں
اولیشکی اور وسیع خیرسون ریجن پر لاگو یہ جنگ بندی اتوار تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ جنگ سے قبل 24,000 آبادی والے اس قصبے میں اب تقریباً 1,500 افراد کھنڈرات میں رہنے پر مجبور ہیں۔
روس کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے انٹرفیکس نے بتایا کہ وہاں بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ آج یا کل رہائشی محفوظ طریقے سے انسانی امداد حاصل کر سکیں گے اور جو لوگ نکلنا چاہتے ہیں وہ نکل سکیں گے۔
یوکرین طویل عرصے سے روس پر امداد روکنے اور لوگوں کو باہر نہ جانے دینے کا الزام لگاتا رہا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ راستوں پر یوکرینی بارودی سرنگیں اور گولہ باری امداد میں رکاوٹ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نکلنے کے خواہشمند افراد کے لیے راستہ روسی زیر کنٹرول کریمیا وہاں سے جنوبی روس اور پھر بیلاروس کے راستے یوکرین میں داخلہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: روس اور یوکرین کا اولیشکی میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا، وائٹ ہاؤس
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اگلے ماہ ابوظہبی میں امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں، حالانکہ دونوں فریق جنگ کے خاتمے کی شرائط پر بہت دور ہیں۔











