بی ایم ڈبلیو کی نئی 2027 ایکس 5 اور آئی ایکس 5: پیٹرول یا بجلی، انتخاب صارف کا

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمن کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو نے اپنی نئی ایس یو وی ایکس 5 کو روایتی پیٹرول، ہائبرڈ اور مکمل الیکٹرک پاور ٹرین کے انتخاب کے ساتھ متعارف کرانے کی تیاری کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بی ایم ڈبلیو نے ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

نئی الیکٹرک آئی ایکس 5 میں 724 کلومیٹر تک متوقع ڈرائیونگ رینج، انتہائی تیز رفتار چارجنگ، جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور ٹریفک سگنل پہچان کر گاڑی روکنے جیسی ٹیکنالوجی شامل ہے۔

جرمن لگژری کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو کی نئی سال 2027 ایکس 5 اور اس کا مکمل الیکٹرک ورژن آئی ایکس 5 اس بات کی مثال ہیں کہ گاڑیوں کی صنعت کس طرح بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف بڑھتے ہوئے ان صارفین کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے جو ابھی پیٹرول انجن کو ترجیح دیتے ہیں۔

کمپنی نے نئی ایکس 5 کے لیے صرف ایک انجن یا پاور ٹرین پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف انتخاب برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صارفین روایتی پیٹرول انجن کے ساتھ مائلڈ ہائبرڈ ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں گے جب کہ بعد میں پلگ اِن ہائبرڈ اور ہائیڈروجن فیول سیل پر مبنی ورژن بھی پیش کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

اس کے مقابلے میں آئی ایکس 5 مکمل طور پر بجلی سے چلے گی۔ اس میں طاقتور الیکٹرک موٹرز، بڑی بیٹری، 800 وولٹ کا برقی نظام اور تیز رفتار ڈی سی چارجنگ کی سہولت موجود ہے۔

بی ایم ڈبلیو کی اس حکمت عملی کا مقصد واضح ہے: صارفین کو اپنی ضروریات، ڈرائیونگ کے انداز اور چارجنگ کی دستیابی کے مطابق گاڑی منتخب کرنے کا موقع دینا۔

پیٹرول ایکس 5 میں کتنی طاقت ہوگی؟

نئی ایکس 5 کا روایتی ورژن ایکس 5 40 ایکس ڈرائیو تین لیٹر کے ٹربو چارجڈ، 6 سلنڈر ان لائن پیٹرول انجن سے لیس ہے۔ یہ انجن 394 ہارس پاور اور 580 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتا ہے۔

اس کے ساتھ 48 وولٹ کا مائلڈ ہائبرڈ نظام بھی دیا گیا ہے، جو ضرورت پڑنے پر تقریباً 200 نیوٹن میٹر اضافی ٹارک فراہم کرسکتا ہے۔ مائلڈ ہائبرڈ نظام میں بیٹری اور الیکٹرک موٹر انجن کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں لیکن یہ گاڑی کو عام طور پر مکمل طور پر بجلی پر چلانے کے لیے نہیں ہوتے۔

انجن میں ملر سائیکل سمیت ایندھن کی بچت بہتر بنانے والی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ کمپنی کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس گاڑی کی متوقع اوسط تقریباً 9 لیٹر فی 100 کلومیٹر ہے جب کہ مکمل ایندھن کے ساتھ اس کی رینج تقریباً 915 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔

ایکس 5۔

یہ اعداد و شمار ان صارفین کے لیے اہم ہیں جو طویل سفر کرتے ہیں اور ہر چند سو کلومیٹر بعد چارجنگ اسٹیشن تلاش کرنے کے بجائے روایتی فیول اسٹیشن پر ایندھن بھروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

تاہم اصل ایندھن کی اوسط اور رینج کا انحصار ڈرائیونگ کے انداز، سڑکوں، موسم اور دیگر حالات پر ہوگا۔

پلگ اِن ہائبرڈ اور ہائیڈروجن ورژن بھی آئیں گے

بی ایم ڈبلیو کے منصوبے کے مطابق ایکس 5 50 ای ایکس ڈرائیو نامی پلگ اِن ہائبرڈ ورژن بھی بعد میں پیش کیا جائے گا۔ اس میں 26.5 کلو واٹ آور کی بیٹری ہوگی اور کمپنی کے مطابق یہ تقریباً 71 کلومیٹر تک صرف بجلی پر چل سکے گی۔

مزید پڑھیے: کنکریٹ سے بھرا ٹرک بی ایم ڈبلیو پر الٹ گیا، گاڑی پچک جانے سے وکیل جاں بحق

پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی میں پیٹرول انجن اور الیکٹرک موٹر دونوں موجود ہوتے ہیں، جب کہ اس کی بیٹری کو بیرونی چارجر سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔ مختصر روزمرہ سفر بجلی پر طے کرنے اور طویل سفر میں پیٹرول انجن استعمال کرنے کی سہولت اسے بعض صارفین کے لیے عملی انتخاب بنا سکتی ہے۔

یہ ورژن امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر اسپارٹن برگ میں قائم بی ایم ڈبلیو کے پیداواری مرکز میں تیار کیے جانے والے ماڈلز میں شامل ہوگا۔

کمپنی مستقبل میں نئی نسل کی ایکس 5 میں ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔ اس نظام میں ہائیڈروجن سے بجلی پیدا کرکے الیکٹرک موٹر چلائی جاتی ہے۔ تاہم اس ورژن کی دستیابی اور تفصیلی خصوصیات کے لیے مزید معلومات کا انتظار کرنا ہوگا۔

مکمل الیکٹرک آئی ایکس 5 کتنی طاقتور ہے؟

الیکٹرک گاڑیوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے آئی ایکس 5 60 ایکس ڈرائیو اس نئی رینج کا نمایاں ماڈل ہے۔

اس میں اگلے پہیوں کے لیے ایک الیکٹرک موٹر اور پچھلے پہیوں کے لیے دوسری موٹر استعمال کی گئی ہے۔ دونوں موٹرز کی مجموعی طاقت 570 ہارس پاور اور زیادہ سے زیادہ ٹارک 804 نیوٹن میٹر ہے۔

اگلی موٹر 245 ہارس پاور اور 305 نیوٹن میٹر ٹارک پیدا کرتی ہے جب کہ پچھلی موٹر 325 ہارس پاور اور 500 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرسکتی ہے۔

یہ ترتیب گاڑی کو چاروں پہیوں تک برقی طاقت پہنچانے کی صلاحیت دیتی ہے اور ضرورت کے مطابق اگلے اور پچھلے پہیوں کی موٹرز کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بی ایم ڈبلیو نے مستقل مقناطیس استعمال کرنے والی موٹرز کے بجائے مختلف نوعیت کی الیکٹرک موٹرز کا امتزاج اختیار کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس انتخاب کا ایک فائدہ یہ ہے کہ بعض حالات میں توانائی کے ضیاع کو کم کیا جاسکتا ہے۔

بڑی بیٹری اور 724 کلومیٹر تک رینج

آئی ایکس 5 کی نمایاں خصوصیات میں اس کی بڑی بیٹری شامل ہے۔ اس میں 144 کلو واٹ آور کی قابل استعمال گنجائش رکھنے والا بیٹری پیک نصب کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: الیکٹرک کار میں سفر کے دوران متلی کیوں ہوتی ہے؟ ماہرین نے ممکنہ وجہ بتادی

یہ بیٹری بی ایم ڈبلیو کے نئے 120 ملی میٹر لمبے سلنڈریکل سیلز سے تیار کی گئی ہے۔ یہ سیلز کمپنی کی چھوٹی الیکٹرک ایس یو وی آئی ایکس 3 میں استعمال ہونے والے 95 ملی میٹر سیلز سے بڑے ہیں۔ بی ایم ڈبلیو کے مطابق نئی بیٹری پیک میں توانائی کی کثافت تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔

کمپنی نے بتایا ہے کہ آئی ایکس 5 امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، یعنی ای پی اے، کے ٹیسٹ سائیکل پر تقریباً 724 کلومیٹر کی رینج حاصل کرسکتی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ یہ کمپنی کی بتائی ہوئی متوقع رینج ہے کوئی ایسا نتیجہ نہیں جس کی ضمانت ہر قسم کی ڈرائیونگ میں دی جاسکے۔ تیز رفتار ڈرائیونگ، سرد موسم، ایئر کنڈیشننگ، گاڑی میں وزن اور سڑکوں کی صورت حال حقیقی رینج کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اس کے باوجود اتنی بڑی بیٹری اور متوقع رینج طویل فاصلے کے سفر میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو زیادہ قابل عمل بنانے کی کوشش ہے۔

صرف 9 منٹ میں بیٹری 10 سے 50 فیصد تک چارج

الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ایک بڑا سوال چارجنگ میں لگنے والا وقت ہے۔ آئی ایکس 5 میں بی ایم ڈبلیو نے اس معاملے پر خصوصی توجہ دی ہے۔

گاڑی کا برقی نظام 800 وولٹ پر کام کرتا ہے، جس سے اسے انتہائی تیز رفتار ڈی سی چارجنگ کی سہولت ملتی ہے۔ کمپنی کے ایک عملی مظاہرے کے دوران گاڑی کی بیٹری میں 10 فیصد چارج باقی تھا۔ اسے چارجنگ اسٹیشن سے منسلک کرنے کے بعد نو منٹ سے کچھ زیادہ وقت میں بیٹری کی سطح 50 فیصد تک پہنچ گئی۔

اس دوران چارجنگ کی زیادہ سے زیادہ رفتار 465 کلو واٹ ریکارڈ کی گئی جب کہ پورے سیشن میں اوسط رفتار تقریباً 375 کلو واٹ رہی۔ اس مختصر دورانیے میں بیٹری میں 61.5 کلو واٹ آور توانائی شامل ہوئی۔

یہ مظاہرہ کیلیفورنیا میں کیا گیا، جہاں استعمال ہونے والے آئی اونا چارجنگ اسٹیشن کو معمول کی 400 کلو واٹ حد سے زیادہ طاقت فراہم کرنے کے لیے خصوصی طور پر اپ گریڈ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: فیراری کی الیکٹرک کار پر ناک بھوں چڑھانے والے دنگ رہ گئے، نیلامی کا نیا ریکارڈ قائم

بی ایم ڈبلیو کے مطابق موزوں 460 کلو واٹ چارجر دستیاب ہونے کی صورت میں بیٹری کو 10 سے 80 فیصد تک چارج کرنے میں کم از کم تقریباً 22 منٹ لگ سکتے ہیں۔

البتہ یہ رفتار ہر چارجنگ اسٹیشن پر دستیاب نہیں ہوگی۔ اصل رفتار چارجر کی صلاحیت، بیٹری کے درجہ حرارت، اس وقت موجود چارج اور دیگر حالات پر منحصر ہوگی۔ جہاں انتہائی تیز رفتار چارجر دستیاب نہ ہو وہاں چارجنگ میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

گاڑی میں شمالی امریکی چارجنگ معیار این اے سی ایس کے مطابق پورٹ دیا گیا ہے۔ بی ایم ڈبلیو کے ہوم چارجر کے ذریعے اس پورٹ پر 15.4 کلو واٹ تک اے سی چارجنگ بھی ممکن ہوگی جب کہ گاڑی کا اپنا آن بورڈ اے سی چارجر 11 کلو واٹ تک طاقت قبول کرسکتا ہے۔

گاڑی گھر کے لیے بھی بجلی فراہم کرسکے گی

آئی ایکس 5 میں دو طرفہ چارجنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مناسب آلات کے ساتھ بجلی صرف گرڈ سے گاڑی کی بیٹری میں نہیں جائے گی، بلکہ بیٹری سے باہر بھی فراہم کی جاسکے گی۔

اس کے لیے گاڑی میں وہیکل ٹو ہوم، یعنی وی ٹو ایچ، اور وہیکل ٹو لوڈ، یعنی وی ٹو ایل، سے متعلق اڈاپٹرز کی سہولت دی گئی ہے۔

وی ٹو ایچ ٹیکنالوجی کے ذریعے موزوں نظام کے ساتھ گاڑی کی بیٹری گھر کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے، جب کہ وی ٹو ایل کے ذریعے گاڑی سے بعض برقی آلات چلائے جاسکتے ہیں۔

یہ سہولت مستقبل میں ان صارفین کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے جو اپنی گاڑی کو صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ توانائی ذخیرہ کرنے کے ایک اضافی ذریعے کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس کے عملی استعمال کے لیے متعلقہ آلات، گھر کے برقی نظام اور مقامی ضوابط کی مطابقت ضروری ہوگی۔

روایتی ڈیش بورڈ کی جگہ نئی ڈیجیٹل اسکرین

نئی ایکس 5 اور آئی ایکس 5 میں تبدیلیاں صرف انجن اور بیٹری تک محدود نہیں۔ بی ایم ڈبلیو نے گاڑی کے اندر ڈرائیور کے سامنے موجود معلومات دکھانے اور مختلف نظاموں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔

ماضی میں بی ایم ڈبلیو کی گاڑیوں میں نارنجی روشنی والے روایتی میٹرز اور ڈائلز کمپنی کی پہچان سمجھے جاتے تھے۔ بعد میں ان کی جگہ ڈیجیٹل ڈسپلے نے لے لی لیکن نئی نسل میں کمپنی ایک اور قدم آگے بڑھ گئی ہے۔

اب گاڑی میں پینورامک وژن نامی ڈسپلے دیا گیا ہے جو ونڈ اسکرین کے نچلے حصے کے قریب پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا مقصد ڈرائیور کو رفتار اور دوسری ضروری معلومات اس انداز میں فراہم کرنا ہے کہ اسے بار بار روایتی ڈیش بورڈ کی طرف نظریں نہ جھکانی پڑیں۔

مزید پڑھیں: مٹسوبشی نے نئی الیکٹرک کار ‘اکلپس اسپورٹ بیک’ متعارف کرادی، خصوصیات کیا ہیں؟

اس کے ساتھ مکمل رنگوں والا ہیڈ اَپ ڈسپلے بھی موجود ہے جس کے ذریعے اہم معلومات ڈرائیور کے سامنے دکھائی جاسکتی ہیں۔

گاڑی میں ٹچ اسکرین اور بی ایم ڈبلیو کا آئی ڈرائیو انفوٹینمنٹ نظام بھی دیا گیا ہے۔ کمپنی کے ذاتی ڈیجیٹل معاون میں صوتی احکامات کی صلاحیت بہتر بنائی گئی ہے تاکہ ڈرائیور گاڑی کے بعض افعال کو ہاتھ سے اسکرین پر منتخب کرنے کے بجائے بول کر کنٹرول کرسکے۔

مثال کے طور پر ڈرائیور آواز کے ذریعے اپنی سیٹ کے مساج فنکشن کو فعال کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔ اس طرح گاڑی کی ترتیبات کے مختلف مینیو کھولنے اور متعدد بٹن دبانے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

اگلی نشست پر بیٹھنے والے مسافر کے لیے ایک الگ اسکرین بھی دستیاب ہوگی۔ اس پر مسافر ویڈیوز دیکھ سکے گا، گیمز کھیل سکے گا یا انٹرنیٹ براؤز کرسکے گا۔ تاہم یہ اسکرین گاڑی کے بنیادی انفوٹینمنٹ افعال، مثلاً نیویگیشن یا ایئر کنڈیشننگ، کو کنٹرول کرنے کے لیے نہیں ہوگی۔

سرخ بتی اور اسٹاپ سائن پر خودکار بریک

آئی ایکس 5 میں جدید ڈرائیور اسسٹنس ٹیکنالوجی بھی شامل ہے، جو اسے روایتی پیٹرول ورژن سے ممتاز کرتی ہے۔

اس میں بی ایم ڈبلیو کا نیا ہارٹ آف جوائے نامی کمپیوٹنگ نظام استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایک طاقتور مرکزی کنٹرولر ہے جو گاڑی کی حرکت، موٹرز اور چیسس سے متعلق متعدد افعال کو مربوط انداز میں سنبھالتا ہے۔

اس نظام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ گاڑی ایک پیڈل ڈرائیونگ کے دوران بھی ہموار انداز میں مکمل طور پر رک سکتی ہے۔ ایک پیڈل ڈرائیونگ میں ڈرائیور ایکسیلیریٹر سے پاؤں ہٹاتا ہے تو گاڑی کی رفتار کم ہونے لگتی ہے اور ری جنریٹو بریکنگ کے ذریعے توانائی بیٹری میں واپس بھیجی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیے: کم بجٹ والے صارفین کے لیے خوشخبری، سب سے سستی الیکٹرک کار مارکیٹ میں آگئی

آئی ایکس 5 کی ایک اور اہم خصوصیت سرخ ٹریفک سگنل اور اسٹاپ سائن کو پہچاننا ہے۔ اگر گاڑی کا نظام محسوس کرے کہ ڈرائیور سگنل یا اسٹاپ سائن پر رکے بغیر آگے بڑھنے والا ہے تو وہ اسے خبردار کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر بریک لگا کر گاڑی روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بی ایم ڈبلیو کے مطابق یہ سہولت ایکٹو ڈرائیو اسسٹ استعمال کیے بغیر بھی کام کرسکتی ہے۔ اسے ڈرائیور کی مدد کے لیے ایک اضافی حفاظتی تہہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

آئی ایکس 5۔

نئے نظام کا نام بی ایم ڈبلیو سمبیوٹک ڈرائیو ہے۔ اس نسل کے ڈرائیور اسسٹنس نظام میں ڈرائیور بریک پر معمولی دباؤ ڈال کر بھی فعال ڈرائیونگ نظام کے ساتھ تعامل کرسکتا ہے جب کہ بریک کو پوری قوت سے دبانے پر کروز کنٹرول بند ہوسکتا ہے۔

تاہم ایسی ٹیکنالوجی ڈرائیور کی توجہ اور ذمہ داری کا متبادل نہیں۔ سڑک کے حالات اور ٹریفک کے مطابق گاڑی کو کنٹرول کرنا بدستور ڈرائیور کی ذمہ داری رہتا ہے۔

ڈرائیونگ میں کون سی گاڑی بہتر ہے؟

نئی ایکس 5 اور آئی ایکس 5 دونوں کو آرام دہ اور طاقتور گاڑیوں کے طور پر تیار کیا گیا ہے لیکن ان کی ڈرائیونگ میں کچھ فرق ہے۔

پیٹرول ایکس 5 کا انجن نسبتاً خاموش ہے اور گاڑی میں ہوا کے شور کو بھی کم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف آئی ایکس 5 کی بیٹری کے باعث اس کا وزن تقریباً 2,813 کلوگرام، یعنی 6,200 پاؤنڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

عام طور پر زیادہ وزن کو گاڑی کی کارکردگی کے لیے نقصان دہ سمجھا جاسکتا ہے لیکن اس تجربے میں الیکٹرک ماڈل کا اضافی وزن بعض مختصر اور اچانک جھٹکوں کو جذب کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ طویل دورانیے کے سڑک کے اتار چڑھاؤ کو دونوں گاڑیاں مناسب انداز میں سنبھالتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیسلا کا نیا عالمی ریکارڈ،10 ملین الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی پہلی کمپنی بن گئی

آئی ایکس 5 میں اسپورٹ موڈ منتخب کرنے پر ایکسیلیریٹر دبانے کے ابتدائی ردعمل میں بعض مسافروں کو زیادہ تیزی محسوس ہوسکتی ہے۔ ایکو اور کمفرٹ موڈ میں یہ کیفیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔

گاڑی میں ری جنریٹو بریکنگ کی پانچ سطحیں بھی موجود ہیں۔ ڈرائیور اپنی پسند کے مطابق ایسا انتخاب کرسکتا ہے جس میں ایکسیلیریٹر چھوڑنے پر گاڑی زیادہ آزادانہ طور پر چلتی رہے، یا ایسا موڈ منتخب کرسکتا ہے جس میں رفتار تیزی سے کم ہو اور ایک پیڈل ڈرائیونگ کے ذریعے گاڑی مکمل طور پر رک سکے۔

قیمت کتنی ہے؟

بی ایم ڈبلیو کی جانب سے فراہم کردہ امریکی مارکیٹ کی قیمتوں کے مطابق نئی 2027 ایکس 5 40 ایکس ڈرائیو کی ابتدائی قیمت 72,100 ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ 1,450 ڈالر ڈیلیوری اور ہینڈلنگ چارج بھی ادا کرنا ہوگا۔

کمپنی کے مطابق پیٹرول ماڈل بی ایم ڈبلیو کے شورومز میں دستیاب ہونا شروع ہوچکا ہے۔

مکمل الیکٹرک آئی ایکس 5 60 ایکس ڈرائیو کی ابتدائی قیمت 79,800 ڈالر رکھی گئی ہے جس میں ڈیلیوری چارج شامل نہیں۔ اس ماڈل کی آمد سنہ 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔

دونوں گاڑیوں کی ابتدائی قیمت میں فرق تقریباً 7,700 ڈالر ہے اور اس کے علاوہ الیکٹرک ماڈل کے لیے ڈیلیوری چارج بھی ہوگا۔ اس فرق کی ایک بڑی وجہ آئی ایکس 5 میں استعمال ہونے والی بڑی بیٹری ہے جو گاڑی کی مجموعی لاگت میں اہم حصہ رکھتی ہے۔

یہ قیمتیں امریکی مارکیٹ کے لیے ہیں۔ انہیں پاکستان میں گاڑی کی متوقع قیمت نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ مقامی قیمت کا انحصار درآمدی ڈیوٹی، ٹیکس، شپنگ، رجسٹریشن اور دیگر اخراجات پر ہوگا۔

پیٹرول یا الیکٹرک، کون سا انتخاب بہتر ہے؟

نئی ایکس 5 اور آئی ایکس 5 میں سے بہتر انتخاب کا انحصار صارف کی ضروریات پر ہوگا۔

روایتی پیٹرول ایکس 5 ان لوگوں کے لیے زیادہ موزوں ہوسکتی ہے جو طویل فاصلے طے کرتے ہیں، چارجنگ اسٹیشنوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتے یا جہاں رہتے ہیں وہاں تیز رفتار چارجنگ کی سہولت محدود ہے۔

اس کے برعکس آئی ایکس 5 ان صارفین کو متوجہ کرسکتی ہے جو گھر یا کام کی جگہ پر چارجنگ کا انتظام رکھتے ہیں اور الیکٹرک گاڑی کی فوری طاقت، کم شور اور جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بڑی بیٹری اور تیز رفتار چارجنگ طویل سفر کے دوران پیش آنے والی بعض مشکلات کو کم کرسکتی ہیں، اگرچہ اس کا انحصار راستے میں دستیاب چارجنگ سہولتوں پر بھی ہوگا۔

پلگ اِن ہائبرڈ ماڈل ان افراد کے لیے درمیانی راستہ بن سکتا ہے جو روزمرہ کے مختصر سفر بجلی پر کرنا چاہتے ہیں لیکن طویل سفر کے لیے پیٹرول انجن کی سہولت بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ہونڈا اٹلس کا پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں فوری اینٹری سے انکار، وجہ کیا ہے؟

بی ایم ڈبلیو کی نئی حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ گاڑیوں کی صنعت میں بجلی کی طرف منتقلی کے باوجود تمام صارفین کے لیے ایک ہی حل موزوں نہیں۔ اسی لیے کمپنی نے نئی ایکس 5 کو مختلف پاور ٹرینز کے ساتھ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ آئی ایکس 5 میں بیٹری، چارجنگ اور ڈرائیور اسسٹنس ٹیکنالوجی کو مزید آگے بڑھایا گیا ہے۔

آخرکار اگر کسی صارف کے پاس چارجنگ کی اچھی سہولت موجود ہے تو آئی ایکس 5 ایک پرکشش الیکٹرک ایس یو وی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لیے جو ایندھن بھروا کر فوری طور پر سفر جاری رکھنے کی آزادی چاہتے ہیں، پیٹرول ایکس 5 اب بھی ایک عملی انتخاب رہے گی۔

بی ایم ڈبلیو کی تاریخ اور چند دلچسپ حقائق

جرمنی کی معروف کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو کی تاریخ ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد سنہ 1916 میں جرمنی کے شہر میونخ میں پڑی، تاہم اس کا آغاز کاریں بنانے سے نہیں بلکہ ہوائی جہازوں کے انجن تیار کرنے سے ہوا تھا۔

بعد ازاں کمپنی نے موٹر سائیکلوں کی تیاری شروع کی اور سنہ 1928 میں کار سازی کے شعبے میں قدم رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بی ایم ڈبلیو نے اپنی شناخت ایک ایسی کمپنی کے طور پر قائم کی جو جدید انجینئرنگ، طاقتور انجنوں، اعلیٰ معیار اور ڈرائیونگ کے منفرد تجربے پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔؎

آج بی ایم ڈبلیو دنیا کی نمایاں پریمیم گاڑی ساز کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے پیداواری مراکز مختلف ممالک میں قائم ہیں اور کمپنی بی ایم ڈبلیو کے علاوہ منی اور رولز رائس جیسے معروف برانڈز بھی تیار کرتی ہے۔ کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں بی ایم ڈبلیو گروپ نے دنیا بھر میں تقریباً 24 لاکھ 56 ہزار گاڑیاں تیار کیں۔ اس کی مصنوعات میں عام استعمال کی نسبتاً چھوٹی گاڑیوں سے لے کر لگژری ایس یو ویز، اعلیٰ کارکردگی والی اسپورٹس کاروں اور مکمل الیکٹرک گاڑیوں تک مختلف انتخاب شامل ہیں۔

بی ایم ڈبلیو کے مہنگے اور طاقتور ماڈلز میں ایکس ایم لیبل بھی شامل ہے جو ایک بڑی لگژری پرفارمنس ایس یو وی ہے۔ امریکی مارکیٹ میں اس کی ابتدائی قیمت تقریباً ایک لاکھ 59 ہزار 600 ڈالر ہے جو ڈالر کی قدر 278 پاکستانی روپے فرض کرنے پر تقریباً 4 کروڑ 44 لاکھ روپے بنتی ہے۔

تاہم یہ صرف امریکی ابتدائی قیمت کا تخمینہ ہے کیوں کہ پاکستان میں درآمدی ڈیوٹی، ٹیکس، شپنگ اور دیگر اخراجات شامل ہونے کے بعد اس کی قیمت کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟

بی ایم ڈبلیو کی گاڑیاں عمومی طور پر اپنی جدید ٹیکنالوجی، آرام، طاقت اور اعلیٰ معیار کے باعث مہنگی سمجھی جاتی ہیں اسی لیے ان کے بہت سے لگژری ماڈلز بالخصوص خوش حال خریداروں کو متوجہ کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp