آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ترقی کے سفر کا حصہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم کا امکان ہے، رانا ثنا اللہ

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو تعمیر و ترقی کے سفر میں شامل کرنے کے لیے نئی آئینی ترامیم لائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں جاری ترقیاتی عمل یا کسی بھی آئینی ترمیم کو ہرگز ریورس نہیں کیا جا رہا۔

نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سیاست میں اکثر اوقات کسی ایشو پر تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ،آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہماری تلخیاں ہوتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ریاست کا ماں جیسا درجہ، مولانا فضل الرحمان کے نازیبا الفاظ سے قوم کو شدید تکلیف پہنچی، رانا ثنا اللہ

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں کوئی بھی آئینی ترمیم ریورس ہونے نہیں جا رہی اور اس حوالے سے پھیلایا جانے والا تمام تر پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کو حقیقی معنوں میں ترقی دینے کے لیے وہاں کی حکومت کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات مل سکیں۔

قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں شیئر کی بات سمیت تمام اہم امور پر سنجیدگی سے بحث جاری ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملکی تعمیر و ترقی کے سفر میں باقاعدہ شامل کرنے کے لیے آئینی ترمیم پر غور ہو سکتا ہے۔

سہولتیں برقرار رہیں گی، راجا فاروق حیدر کا مؤقف غلط فہمی پر مبنی

رانا ثنا اللہ نےیہ بھی واضح کیا کہ اب تک خطے کے عوام کو جو بھی سہولیات دی جا چکی ہیں، ان میں سے کسی بھی سہولت کو مائنس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر محض ایک غلط فہمی کی بنیاد پر گفتگو کر رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور ایسا کچھ بھی ہونے نہیں جا رہا۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور نئی صورتحال

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ اب اس دھرنے میں دہشتگرد عناصر بھی باقاعدہ شامل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو عوامی ایکشن کمیٹی ابتدا میں بنائی گئی تھی، اب وہ اپنے پرانے خول سے نکل کر ایک بالکل نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔

مولانا فضل الرحمان سے تعلقات اور سیاسی کشیدگی

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ایک انتہائی منجھے ہوئے اور سینیئر سیاستدان ہیں۔ پی ڈی ایم کے دور حکومت میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بہت اچھی یادیں وابستہ ہیں۔

مزید پڑھیں:سہیل آفریدی آئینی طور پر وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹ چکے، انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا، رانا ثنا اللہ

ہماری قیادت یعنی میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ بھی ان کا ہمیشہ ادب اور احترام کا رشتہ رہا ہے اور یہ رشتہ آئندہ بھی اسی طرح برقرار رہے گا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ریاست اور شہدا کے حوالے سے کچھ تلخ باتیں کی تھیں، جس کے ردعمل میں ہماری طرف سے بھی مؤقف سامنے آیا۔

ہماری اب بھی یہی خلوص نیت کوشش ہوگی کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھ کر ان تمام مسائل کو احسن طریقے سے ختم کیا جائے۔

محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی دعوت

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے محمود خان اچکزئی کو باضابطہ طور پر ملاقات کی دعوت دی ہے۔ اس حوالے سے ملاقات کے مقام یا جگہ کے انتخاب پر کوئی عذر یا جواز پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ محمود خان اچکزئی کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم سے جس وقت کا بھی تقاضا کریں یا وقت طے کریں، اس کے مطابق خوش اسلوبی سے ملاقات کریں اور بحیثیت اپوزیشن لیڈر اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیرا نائٹلی کی ’بلیک ڈووز‘ کا دوسرا سیزن، جاسوسی، ایکشن اور مزاح کا نیا امتزاج

مسٹر پتلو کو عدالت سے بڑا ریلیف، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت منظور کرلی

پاک بھارت ورلڈ کپ میچ کے ٹکٹوں کی ریکارڈ توڑ مانگ، 84 لاکھ درخواستیں موصول

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا