پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر عابد شیر علی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا خود حکومت سے کہا اور یہ ان کی اپنی خواہش تھی۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا مسئلہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بندر بانٹ ہے، انہوں نے حکومت کو بار بار گورنر راج لگانے کا کہا اور یہ اس معاملے پر آن بورڈ تھے۔
عابد شیر علی نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے 2014 میں بھی نواز شریف کو کہا کہ خیبر پختونخوا میں انہیں حکومت دیں اور اس کے لیے انہوں نے پورا زور لگایا۔
عابد شیر علی نے کہا کہ مولانا کو چاہیے کہ وہ مذموم سیاسی عزائم کو ایک طرف رکھیں، ریاست کو گالی نہ دیں اور سیاسی طریقے سے سیاست کریں۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹ کمیٹی اجلاس میں تلخ کلامی، عابد شیر علی اور ایمل ولی خان میں سخت جملوں کا تبادلہ
مولانا فضل الرحمان نے ریاست کو گالی دی، ہماری ماں کو گالی دی، ان کی شہدا کے خلاف تقریر قوم کبھی نہیں بھول سکتی، ریاست کو گالی دینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری ماں کو گالی دیں۔
سینیٹر عابد شیر علی نے مولانا فضل الرحمان کے ماضی کے سیاسی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی انہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے بہت سے فیصلے کیے۔ ان کے مطابق 2002 کے بعد آئینی ترامیم اور سیاسی اتحادوں کے معاملات میں مولانا فضل الرحمان کے کردار پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آلائنس فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی (اے آر ڈی) کے پلیٹ فارم پر اپوزیشن جماعتیں اکٹھی تھیں، لیکن ان کے بقول بعد میں سیاسی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان پر الزام لگایا کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پرویز مشرف کے ساتھ معاملات طے کرکے اپوزیشن کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔
عابد شیر علی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اپنے ماضی کے فیصلوں اور موجودہ مؤقف کے بارے میں بھی وضاحت دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی معاملات پر تعاون رہا ہے، اس لیے موجودہ اختلافات کی وجوہات پر بھی بات ہونی چاہیے۔
سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ پاکستان کے ریاستی ادارے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دے رہے ہیں اور ان قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سی ماؤں نے اپنے بیٹوں کی لاشوں کو دفن کیا ہے، اس لیے سیاسی مقاصد کے لیے شہدا کی قربانیوں کو متنازع بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق سیاسی رہنماؤں کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ ریاست اور اس کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں یا ان عناصر کی حمایت کر رہے ہیں جو ریاست اور سیکیورٹی اداروں پر حملے کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان دشمنوں سے ملاقاتیں، عابد شیر علی نے سوالات اٹھا دیے
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے بقول بھارت، اسرائیلی لابی اور بعض دیگر ممالک پاکستان کے خلاف عزائم رکھتے ہیں، اس لیے قومی یکجہتی اور ریاستی مفادات کا تحفظ مزید اہم ہو گیا ہے۔
عابد شیر علی نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کو محاذ آرائی کے بجائے دہشتگردی کے خاتمے اور ملک کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دورانیہ امن و امان سے مشروط
عابد شیر علی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے مستقبل کے بارے میں کہا کہ اسے پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے توسیع دی گئی ہے اور اگر حالات درست نہ ہوئے تو پارلیمان مزید توسیع دینے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ صوبے میں حالات معمول پر لائے جائیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے بارہا موقع دیا گیا، لیکن امن و امان کی صورت حال پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کا دورانیہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر منحصر ہوگا۔ اگر حالات بہتر ہو گئے تو 6 ماہ سے پہلے بھی معاملات معمول پر لائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر 6 ماہ بعد حالات معمول پر آ جاتے ہیں تو جمہوری اصولوں کے مطابق منتخب حکومت کی بحالی پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ تاہم ان کے مطابق اگر صوبے میں بدامنی اور حکمرانی کے مسائل برقرار رہے تو صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔
عابد شیر علی نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ معاملات کو معمول پر لایا جائے، لیکن ریاست کے اندر ریاست کی صورت حال قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔
چھوٹے صوبوں کے قیام پر تمام فریقوں کی رائے لی جائے
عابد شیر علی نے کہا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی تجویز سامنے آتی ہے تو اس پر پارلیمان میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ متعلقہ صوبوں کے عوام اور ووٹرز کی رائے بھی سامنے آنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹر عرفان صدیقی کی خالی نشست پر ن لیگ کا عابد شیر علی کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ
تمام فریقوں کو اپنی رائے دینے کا موقع ملنا چاہیے اور فیصلہ وسیع تر مشاورت کے بعد کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی رائے جاننے کے لیے انتخابات اور ریفرنڈم کے 2 طریقے ہیں، تاہم ریفرنڈم سے پہلے عوام میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا، تعلیمی اداروں اور دیگر ذرائع سے لوگوں کو مسئلے کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ بہتر فیصلہ کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں، بزرگوں اور تعلیم یافتہ طبقات کی آرا سامنے آنے اور اکثریتی سوچ واضح ہونے کے بعد کسی نتیجے تک پہنچنا زیادہ مناسب ہوگا۔
پانی کی قلت اور وسائل کی تقسیم قومی مسئلہ ہے
سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ صوبوں کے معاملے سے بھی بڑا مسئلہ پاکستان میں پانی کی دستیابی اور اس کا درست استعمال ہے۔ ان کے مطابق پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ دستیاب وسائل کے ضیاع کا معاملہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پانی کی تقسیم، نہروں کی تعمیر اور دیگر قومی وسائل کے استعمال پر علاقائی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر فریق یہ مؤقف اختیار کرے کہ پانی صرف اسی کے علاقے کا حق ہے تو قومی مسائل حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو قومی سوچ کے ساتھ ریاستی مسائل حل کرنے چاہییں۔ پارلیمان کو محض اختلافات کی جگہ بنانے کے بجائے مسائل کے حل اور اتفاقِ رائے کی طرف بڑھنا چاہیے۔
ہر ضلع میں بااختیار اور شفاف بلدیاتی نظام ضروری
عابد شیر علی نے ملک بھر میں مضبوط، شفاف اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے سے شہریوں کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ان کے مطابق بلدیاتی ادارے مؤثر ہوں تو مقامی سطح پر وسائل اور مسائل دونوں کا بہتر انتظام ممکن ہے۔ انہوں نے پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات کرانے کی حمایت کی اور کہا کہ مقامی حکومتوں کو مکمل اختیارات ملنے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے تحت منتخب نمائندوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے مؤثر اختیار حاصل ہونا چاہیے تاکہ شہروں اور اضلاع کی ضروریات کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
28ویں آئینی ترمیم پر پارٹی میں کوئی باضابطہ بحث نہیں ہوئی
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر کہا کہ اس معاملے پر ان کی جماعت میں ابھی کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس حوالے سے مشاورت ہوتی تو وہ اس پر بات کر سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعتوں، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور چوہدری شجاعت حسین کی جماعت سمیت دیگر سیاسی جماعتیں شامل ہیں، کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں اس معاملے پر بات ہو سکتی ہے۔
عابد شیر علی نے موجودہ قومی بحرانوں کے تناظر میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اور کشیدگی کے بجائے قومی مسائل پر بات چیت ہونی چاہیے اور سیاسی رہنماؤں کو اپنی تجاویز اور تصورات عوام کے سامنے رکھنے چاہییں۔
کراچی میں ترقیاتی کاموں اور سیوریج نظام پر تحفظات
سینیٹر عابد شیر علی نے کراچی کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کا اہم قومی اور معاشی مرکز ہے، لیکن شہر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے بہتری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے کو ملنے والے فنڈز کے باوجود کراچی کو ایک جدید اور ترقی یافتہ شہر بن جانا چاہیے تھا، تاہم شہر میں سیوریج کے نظام سمیت متعدد مسائل موجود ہیں۔
ان کے مطابق شہر کا گندا پانی سمندر میں چھوڑا جاتا ہے، جبکہ کراچی کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دبئی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو بھی ترقی دے کر خوبصورت اور جدید شہر بنایا جا سکتا ہے۔
عابد شیر علی نے کراچی اور اندرونِ سندھ کے انتظامی ڈھانچے کے بارے میں براہِ راست کسی نئے صوبے کی حمایت یا مخالفت کا واضح اعلان نہیں کیا، تاہم ان کی گفتگو میں شہری انتظام، وسائل کے استعمال اور بااختیار بلدیاتی نظام کو اہمیت دی گئی۔
نواز شریف کی سوچ تقسیم کے بجائے اتفاقِ رائے پر مبنی ہے
عابد شیر علی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی سوچ ہمیشہ پاکستان میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور قومی تقسیم سے بچنے کی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی ایک صوبے کو تقسیم کرنے سے لازماً مسائل حل نہیں ہوں گے، اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس موضوع پر ملک گیر بحث کی جائے اور مختلف تجاویز کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی آرا سامنے آ چکی ہیں، تاہم نواز شریف کے مؤقف کے بارے میں ان کے بقول بہتر یہی ہے کہ اس معاملے پر وسیع تر مشاورت کی جائے۔
عابد شیر علی نے بتایا کہ ان کی نواز شریف سے تقریباً ایک ماہ قبل ملاقات ہوئی تھی، جس میں ان کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت ٹھیک ہے اور وہ ملک کے معاملات کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بلاول بھٹو کی باتوں کو کوئی سنجیدہ نہیں لے گا، عابد شیر علی
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ ساڑھے 3 سے 4 سال تک ان کا قریبی تعلق اور رابطہ رہا، جس کی بنیاد پر وہ ان کی سوچ سے واقف ہیں۔
نواز شریف کے ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی رواداری کی تعریف
عابد شیر علی نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے سیاسی دور میں ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص موٹرویز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی۔ ان کے مطابق نواز شریف کے ادوار میں ملک میں ترقیاتی سرگرمیوں کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔
انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف دورانِ سفر ہوائی جہاز کے پائلٹ سے ایئرپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے نیچے آنے کی درخواست کرتے رہے اور انہوں نے اس منصوبے میں ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی بعض مواقع پر رواداری کا مظاہرہ کیا اور عمران خان کے زخمی ہونے پر اسپتال جا کر ان کی عیادت کی۔
تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ نواز شریف سیاسی سرگرمیوں سے مکمل طور پر الگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ذمہ داریاں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے پاس ہیں اور پارٹی معاملات میں نواز شریف سے مشاورت بھی ہوتی ہے۔
مہنگائی عالمی مسئلہ ہے
عابد شیر علی نے مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک اس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے فرانس، برطانیہ، یورپ اور خلیجی ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی عوام کو مہنگائی کا سامنا ہے اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کرتے وقت کرنسی کے فرق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پیٹرول پیدا کرنے والے ایک ملک میں قیمت میں 2 ریال اضافہ ہوا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے 2 سو روپے کے قریب بنتا ہے۔
تاہم جب ان سے کہا گیا کہ اعتراض پیٹرول کی قیمت کے بجائے پیٹرولیم لیوی پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے پر پیٹرولیم کی وزارت بہتر وضاحت کر سکتی ہے۔










