وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 65 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کے لیے ایک بڑی صلاحیت اور اہم سرمایہ ہے۔ اس افرادی قوت کو درست سمت میں استعمال کرکے روزگار کے مواقع بڑھائے اور معیشت کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
پنجاب انویشن فار ویلیو اپرچیونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ صنعتی ترقی اور کاروبار کو فروغ دیے بغیر تیز رفتار معاشی پیشرفت ممکن نہیں۔ کاروبار کے لیے صرف مالی وسائل، خصوصی اقتصادی زونز، ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی یا توانائی کی لاگت جیسے مسائل حل کرنا کافی نہیں، بلکہ کاروباری طبقے کو درپیش دیگر مشکلات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران کاروباری برادری کی شکایات اور مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار کے فروغ کے لیے امن و امان کی بہتر صورت حال انتہائی اہم ہے۔ اگر ملازمین کو تنخواہ لے کر گھر جاتے ہوئے لوٹ مار کا خوف ہو، یا صنعت کاروں کو اپنے کارخانوں سے اغوا اور بھتہ خوری کا خدشہ لاحق ہو تو ایسے ماحول میں کاروبار ترقی نہیں کرسکتا۔
وزیر اعلی مریم نواز شریف کا لاہور میں پنجاب پائیوٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور خطاب https://t.co/F9GEdp05tX
— PMLN (@pmln_org) October 30, 2026
مریم نواز نے کہا کہ صنعت کاروں اور ملازمین کو کام پر جانے اور کاروبار چلانے کے لیے تحفظ اور ذہنی سکون درکار ہے۔ ایسے ماحول میں کاروبار ممکن نہیں جہاں روزانہ احتجاج ہوں، سڑکیں بند کی جائیں یا سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچایا جائے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کو پنجاب میں میٹرو بس، اورنج لائن اور گرین بس جیسے سفری منصوبوں کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ ان سہولتوں سے مزدور کم کرائے میں اپنے کام کی جگہوں تک پہنچ رہے ہیں۔ انہیں کاروباری طبقے کی جانب سے بھی بتایا گیا ہے کہ ان منصوبوں سے مزدوروں کو آمد ورفت میں آسانی ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے فیروزپور روڈ کے صنعتی علاقے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں قائم صنعتوں کو منتقل کرنے کے بجائے ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن سے صنعت اور ماحول دونوں کا تحفظ ممکن ہو۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں، تاہم محض انتباہ کے بعد فیکٹریاں بند یا پیداواری یونٹ سیل کرنا مناسب طریقہ نہیں۔ ان کے مطابق فیکٹری بند ہونے سے پیداوار متاثر ہوتی ہے اور مزدوروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انصاف کے لیے سخت مؤقف یا ادارہ جاتی اصلاحات؟ مریم نواز کے طرزِ حکومت پر شہریوں کی رائے
مریم نواز نے کہا کہ ماحول کا تحفظ ان کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ اسی فضا میں لوگ اور ان کے بچے سانس لیتے ہیں۔ اس لیے صنعتوں کی نگرانی اور ماحولیاتی معیار پر عمل درآمد ضروری ہے، لیکن مسائل کا حل ایسا ہونا چاہیے جس سے کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
انہوں نے ہنرمند افرادی قوت کی کمی کو بھی پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقریباً 3 کروڑ 58 لاکھ 60 ہزار افراد کی افرادی قوت موجود ہے، تاہم صنعتوں کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تربیت یافتہ اور ہنرمند کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب حکومت نے ہنرمندی کی تربیت سے متعلق مختلف اداروں اور محکموں کو ایک مشترکہ نظام کے تحت جمع کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے، تاکہ تربیتی پروگرام کاروباری اور صنعتی شعبوں کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سمیت مختلف صنعتوں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کو مطلوبہ مہارتیں سکھانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا فالج کے علاج کے لیے 5 ارب روپے فوری جاری کرنے کا حکم
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی آبادی اور محنت کرنے والی افرادی قوت موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے، کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے اور روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں۔











