سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے کہا ہے کہ پاکستان اور سنگاپور کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے پر خوشی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس بریفنگ میں ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے کہا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سنگاپور کی آزادی کو تسلیم کیا، پاکستان کے اس تاریخی کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط اور مسلسل مشاورت جاری ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے دورہ سنگاپور کی دعوت قبول کرنا بھی خوش آئند ہے۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بہترین ہیں تاہم تجارتی حجم میں اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان اور سنگاپور کے تاجروں، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ غیر یقینی عالمی معاشی صورتحال میں مضبوط اقتصادی تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگاپور پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ اور کاربن اخراج میں کمی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ کاربن مارکیٹس دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا اہم شعبہ بن سکتی ہیں۔
ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے بتایا کہ پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے تحت قدرتی آفات سے نمٹنے، ہنگامی صورتحال کی تیاری، پیشگی اطلاع کے نظام اور سرچ اینڈ ریسکیو صلاحیتوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ دونوں ممالک مشترکہ تربیتی مشقوں اور تجربات کے تبادلے پر بھی کام کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تیاری ناگزیر ہے۔ پاکستان کو سیلاب اور شدید موسمی حالات سے نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے، سنگاپور پاکستان سے سیکھ سکتا ہے۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ نے تعلیمی تعاون کے حوالے سے کہا کہ نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور، پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش مند ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی روابط کا یہ محض آغاز ہے اور مزید جامعات کو بھی اس تعاون میں شامل کیا جائے گا۔
خلیجی خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے کہا کہ جاری بحران کے دوران پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں، علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کا کردار اہم اور قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان کی کامیابی پورے خطے اور عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج سے گزرنے والی توانائی کا بڑا حصہ جنوبی، جنوب مشرقی اور شمال مشرقی ایشیا کو فراہم کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور سنگاپور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی اور سمندری راستوں میں آزادانہ جہاز رانی کے اصول پر یقین رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کے قانونِ سمندر کنونشن 1982 کے تحت بین الاقوامی سمندری راستوں میں آزادانہ جہاز رانی بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی آبناؤں میں آزادانہ نقل و حرکت ساحلی ممالک کی اجازت سے مشروط نہیں۔ اس معاملے پر پاکستان اور سنگاپور کا مؤقف یکساں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سنگاپور کی معیشت میں سمندری تجارت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس کا تجارتی حجم مجموعی قومی پیداوار سے 3 گنا زیادہ ہے۔
ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے مزید کہا کہ سنگاپور آئندہ سال آسیان کی سربراہی سنبھالے گا جبکہ پاکستان بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کر رہا ہے۔ دونوں ممالک آسیان اور شنگھائی تعاون تنظیم کے درمیان تعاون کے نئے مواقع تلاش کریں گے۔ پاکستان آسیان کے ابتدائی سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنرز میں شامل رہا ہے اور سنگاپور، پاکستان اور آسیان کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوانوں کو مستقبل کی ملازمتوں کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔ پاکستان اور سنگاپور کے درمیان جدید ٹیکنالوجی، انسانی وسائل، نوجوانوں کی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سنگاپور کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سنگاپور کی آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا۔ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہونے والا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی مشترکہ خواہش کا عکاس ہے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور کاروباری طبقے کی سطح پر براہ راست تعاون (B2B) کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان سنگاپور کے ساتھ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواہاں ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ مذاکرات میں مصنوعی ذہانت، زراعت اور طلبہ کے ویزوں سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست فضائی رابطے شروع کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے کاروباری، تعلیمی اور عوامی روابط کو فروغ مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں سنگاپور کے ساتھ تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس سے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے میں مدد ملے گی۔
مزید پڑھیں:سنگاپور اوپن گالف چیمپیئن شپ، پاکستان کے احمد ظفر حیات نے میدان مار لیا
نائب وزیراعظم نے سنگاپور کو 2027 میں آسیان کی سربراہی سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے معاملات پر سنگاپور کی حمایت پر اظہار تشکر بھی کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے اپنے وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو دورہ سنگاپور کی دعوت دی ہے، جسے وزیراعظم نے قبول کرلیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف جلد سنگاپور کا دورہ کریں گے۔











