سائبر سیکیورٹی قومی سلامتی اور معاشی استحکام کی ضامن، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اب محض آئی ٹی شعبے کا محدود معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور مواصلاتی نظام کے لیے ایک اہم ترین چیلنج بن چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں سائبر فراڈ کے طریقے انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہو چکے ہیں، جن کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام میں آگاہی، احتیاط اور تمام فریقین کا مشترکہ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے اگر رشوت کو ختم کرنا اور نظام میں شفافیت لانی ہے تو اداروں کو ڈیجیٹل ہونا ہوگا، شزہ فاطمہ

سائبر سیکیورٹی آگاہی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس کی سربراہی میں لڑے گئے معرکہ حق میں سائبر وار نے بھی مرکزی اور انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محفوظ ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت، ٹیکنالوجی انڈسٹری اور عوام کو مل کر مشترکہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

بینکنگ فراڈ، نمبر کلوننگ اور آن لائن احتیاط

شزہ فاطمہ خواجہ نے مالیاتی اور آن لائن فراڈ کے نئے طریقہ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آج کل فون نمبرز کلون کر کے بینک کے آفیشل اور باضابطہ نمبرز سے شہریوں کو جعلی کالز کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ جعلی فون کالز اور بینکنگ فراڈ سے بچنے کے لیے عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ شہری کسی صورت بھی فون یا پیغام پر اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، ذاتی معلومات یا تصدیقی کوڈ (OTP) کسی بھی شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

ڈیجیٹل فٹ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر پرائیویسی

وفاقی وزیر آئی ٹی نے شہریوں کو اپنے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ کے حوالے سے محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہر آن لائن سرگرمی ایک ڈیجیٹل نشان (فٹ پرنٹ) چھوڑتی ہے، جس کا مستقبل میں غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ لوگ غیر محسوس انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی ذاتی تصاویر، گھروں کے پتے اور گاڑیوں کے نمبر ظاہر کر دیتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات شیئر کرنے سے مکمل گریز کریں۔

بچوں کی پرائیویسی، آن لائن گیمنگ اور والدین کا کردار

کم عمر بچوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی اور ان کے تحفظ پر خصوصی زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ اور آن لائن گرومنگ سے محفوظ رکھنے میں والدین کا کردار کلیدی ہے۔ سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر اور ان کے اسکولوں کی تفصیلات ظاہر کرنا ان کی سیکیورٹی کے لیے سخت خطرات بڑھا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کے ثمرات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، شزہ فاطمہ

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز پر بچوں کی سرگرمیوں اور نامعلوم افراد کے ساتھ ان کے رابطوں پر کڑی نظر رکھیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی پرائیویسی، ذہنی صحت اور محفوظ نشوونما کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔

سائبر جرائم کا خاتمہ اور محفوظ ڈیجیٹل پاکستان

خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے زور دیا کہ سائبر سیکیورٹی کو تمام ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات کا بنیادی حصہ بنایا جائے اور سائبر جرائم کی موثر روک تھام کے لیے بہتر رپورٹنگ نظام اور بروقت کارروائی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی خبر یا آن لائن پیغام پر یقین کرنے یا اسے آگے پھیلانے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں۔ محفوظ ڈیجیٹل پاکستان کا یہی ایک سادہ اصول ہے: ’رکیں، سوچیں اور معلومات شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کریں!‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp