پارکنسنز کے علاج کے لیے اسٹیم سیلز کی مدد سے دنیا کا پہلا ٹرانسپلانٹ، جاپان میں مریض کا علاج شروع

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان میں پارکنسنز کے مرض کے علاج کے لیے اسٹیم سیلز کی مدد سے دنیا کا پہلا ٹرانسپلانٹ کردیا گیا، جسے اس بیماری کے علاج میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ جاپانی دوا ساز کمپنی سومیٹومو فارما نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ اکتوبر میں کیوٹو یونیورسٹی اسپتال میں ایک مریض کے دماغ میں لاکھوں اسٹیم سیلز منتقل کیے گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جاپانی حکام نے رواں سال مارچ میں کامیاب طبی آزمائش کے بعد اس جدید طریقہ علاج کی مشروط منظوری دی تھی۔ اس علاج میں ایسے مخصوص خلیات استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز (آئی پی ایس) کہا جاتا ہے۔ ان خلیات میں جسم کے مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پارکنسنز کی بیماری کی ابتدائی نشانیاں، جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے

پارکنسنز ایک دائمی اور بتدریج بڑھنے والا اعصابی مرض ہے، جو انسانی جسم کے حرکتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد کو عموماً ہاتھ پاؤں کانپنے اور جسمانی حرکات میں دشواری سمیت دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پارکنسنز فاؤنڈیشن کے مطابق دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔

اس وقت دستیاب علاج سے بیماری کی علامات میں بہتری لائی جاسکتی ہے، تاہم یہ مرض کی پیشرفت کو سست کرنے یا مکمل طور پر روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

سومیٹومو فارما کے تیار کردہ نئے طریقہ علاج میں صحت مند عطیہ دہندگان کے اسٹیم سیلز کو ایسے ابتدائی خلیات میں تبدیل کیا جاتا ہے جو دماغ میں ڈوپامائن پیدا کرنے والے خلیات بن سکتے ہیں۔ پارکنسنز کے مریضوں میں دماغ کے یہ خلیات ختم ہوچکے ہوتے ہیں، جس کے باعث جسمانی حرکات متاثر ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ذیابیطس کی دوا رعشہ (پارکنسنز) کے لیے کیسے مفید ہے؟

طبی آزمائش کے دوران 50 سے 69 سال کی عمر کے 7 مریضوں کے دماغ کے دونوں حصوں میں 50 لاکھ یا ایک کروڑ خلیات منتقل کیے گئے۔ اس کے بعد مریضوں کی 2 سال تک نگرانی کی گئی، جس دوران کوئی سنگین مضر اثرات سامنے نہیں آئے، جبکہ 4 مریضوں کی بیماری کی علامات میں بہتری دیکھی گئی۔

کمپنی کے مطابق مارچ 2029 تک 20 سے 30 مریضوں کے دماغ میں اسٹیم سیلز کی پیوند کاری کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ امریکا میں بھی اس علاج کی طبی آزمائش جاری ہے۔

جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر آئندہ 7 سال کے دوران اس علاج کی افادیت اور محفوظ ہونے کی تصدیق ہوگئی تو اسے جاپان میں مکمل منظوری مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ زیادہ خواب دیکھتے ہیں، تو جانیے ایسی گہری نیند کتنی بیماریوں سے بچاسکتی ہے؟

یہ پیشرفت جاپان میں اسٹیم سیلز کے ذریعے بیماریوں کے علاج کی کوششوں میں ایک اور اہم قدم ہے۔ اس سے ایک ماہ قبل اوساکا کے ایک اسپتال میں آئی پی ایس خلیات سے تیار کردہ دل کے پٹھوں کی تہہ لگانے کی دنیا کی پہلی سرجری بھی کی گئی تھی، جس کا مقصد نئی خون کی نالیاں بنانے اور دل کی کارکردگی بحال کرنے میں مدد دینا ہے۔ جاپان نے اس علاج کو بھی مارچ میں مشروط منظوری دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp