گیس کی قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ متعارف کرانے کا بل سینیٹ میں پیش

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قدرتی گیس کی قیمتوں کا ہر 3 ماہ بعد تعین کرنے کی تجویز سینیٹ میں پیش کردی گئی، مجوزہ طریقہ کار کے تحت گیس کمپنیوں کو سہ ماہی بنیادوں پر اپنی آمدن کی ضروریات اور گیس کی لاگت کا تخمینہ اوگرا کو جمع کرانا ہوگا، جس کے بعد ریگولیٹری اتھارٹی وفاقی حکومت کو قیمتوں کے تعین کی سفارش کرے گی۔

جمعے کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی بل 2026 سینیٹ میں پیش کیا۔ بل کے ذریعے اوگرا آرڈیننس 2002 میں نئی دفعہ 8 اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوگرا نے قدرتی گیس کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

مجوزہ ترمیم کے تحت قدرتی گیس کے لائسنس یافتہ ادارے ہر 3 ماہ بعد اپنی مجموعی آمدن کی ضرورت سے متعلق تفصیلات اوگرا کو فراہم کریں گے۔ تاہم یہ حساب صرف کنویں سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت اور درآمدی گیس، بشمول ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی لاگت تک محدود ہوگا۔

اوگرا ان تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجے گا، جس کے بعد حکومت 30 روز کے اندر صارفین کی مختلف اقسام کے لیے کم از کم چارجز اور فروخت کی قیمتوں کا تعین کرکے انہیں سرکاری گزٹ میں شائع کرنے کی ہدایت دے گی۔

بل میں وفاقی حکومت کو یہ اختیار دینے کی بھی تجویز ہے کہ وہ اوگرا کو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا پورا یا کچھ حصہ آئندہ 6 ماہ کے لیے قیمتوں کے تعین میں شامل کرنے کی ہدایت دے سکے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر سے ایل این جی کا دوسرا جہاز پاکستان پہنچ گیا، گیس سپلائی میں کچھ بہتری کی امید

مجوزہ بل کی ایک اہم شق کے مطابق دفعہ 8 اے کے تحت مقررہ قیمتوں میں ردوبدل کے لیے اوگرا عوامی سماعت نہیں کرے گا۔ اس شق کے تحت سہ ماہی بنیادوں پر قیمتوں میں تبدیلی سے قبل صارفین کو عوامی سماعت کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد گیس کے نرخوں کو مارکیٹ کی حقیقی صورتحال سے ہم آہنگ کرنا، روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ میں تبدیلی کے اثرات بروقت قیمتوں میں شامل کرنا، درست قیمتوں کا تعین، گیس کے شعبے میں گردشی قرضے کے جمع ہونے کو روکنا اور گیس کی فراہمی کے نظام کے مالی و عملی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ منظوری کی صورت میں یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

’وفاقی حکومت کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ کل کراچی کا سمندر بھی اسلام آباد منتقل کرنے کی بات کی جائے گی‘

دوسری جانب سینیٹ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کا مرکزی دفتر کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی مجوزہ کوشش پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وفاقی اداروں اور وزارتوں کے دفاتر کراچی سے منتقل کرنے کا رجحان بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

وقار مہدی نے کہا کہ پی پی ایل کا مرکزی دفتر 1951 کے لگ بھگ سے کراچی میں قائم ہے، تاہم اب بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذریعے اسے اسلام آباد منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جب کہ بورڈ کے ارکان عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں موجود دفتر کا ماہانہ کرایہ تقریباً 40 لاکھ روپے ہے، لیکن اسے اسلام آباد منتقل کرنے پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔ ان کے مطابق پی پی ایل میں سندھ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 افسران اور ملازمین کام کرتے ہیں، جنہیں دفتر کی منتقلی سے معاشی اور خاندانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی 5 آئل ریفائنریوں کی جدید کاری، 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع

سینیٹر وقار مہدی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وفاقی حکومت کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ کل کراچی کا سمندر بھی اسلام آباد منتقل کرنے کی بات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی ایل کی بنیادی سرگرمیاں، تیل و گیس کی تلاش، درآمدات اور متعلقہ بنیادی ڈھانچہ کراچی سے منسلک ہیں اور ادارہ یہاں سے کامیابی کے ساتھ کام کررہا ہے، اس لیے منتقلی کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر گھمرو نے بھی اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تیل اور گیس کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ سی سی آئی کی رضامندی کے بغیر پی پی ایل کا مرکزی دفتر کیسے منتقل کیا جاسکتا ہے؟

اس پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جواب دیا کہ پی پی ایل ایک کمپنی ہے اور اس کا بورڈ متعدد بار کہہ چکا ہے کہ موجودہ دفتر خالی کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر معاملے کو صوبائیت اور علاقائیت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ پی پی ایل کے اثاثے صرف سندھ نہیں بلکہ بلوچستان میں بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق دفتر کی منتقلی سے کسی ملازم کو متاثر نہیں کیا جارہا اور اس فیصلے کا صوبائیت سے کوئی تعلق نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp