خیبر پختونخوا میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے صوبائی سیکرٹریٹ مفتی محمود مرکز کے خلاف ممکنہ کارروائی کا معاملہ سیاسی تنازع اختیار کرگیا ہے۔ اس دوران ایک مبینہ گفتگو کی بنیاد پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے عمر کھوکھر سے اسلحہ طلب کیا ہے، تاہم اس گفتگو کی صداقت اور مکمل سیاق کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مفتی محمود مرکز کی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے اسلحہ طلب کرنے کے دعوے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر تعمیرات قانونی ہیں تو اسلحے کی ضرورت کیوں؟ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ pic.twitter.com/k8pwyTxfU7
— Truthbyimaan (@Truthbyiman) October 31, 2026
مفتی محمود مرکز میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کی اطلاعات کے بعد جے یو آئی کی جانب سے انتظامیہ کی ممکنہ کارروائی کے خلاف مزاحمت کا عندیہ دیا گیا ہے۔ مبینہ گفتگو سے متعلق دعوے نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تعمیرات قانون کے مطابق ہیں تو کارروائی روکنے کے لیے اسلحے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ ناجائز تجاوزات پر قابض افراد کو جگہ خالی کرنا ہوگی اور وہ اس معاملے میں کسی کی سفارش نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمان سے منسلک مدارس کو غیر قانونی تعمیرات پر سی ڈی اے کے نوٹسز، 15 روز میں خلاف ورزیاں دور کرنے کی ہدایت
متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف کارروائی کے معاملے پر مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ قانون پر عمل درآمد بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کو غیر قانونی تعمیرات یا تجاوزات کے معاملے میں استثنا نہیں دیا جانا چاہیے۔










