جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ریاستی اداروں اور حکومت سے متعلق بیان کو بھارتی میڈیا میں نمایاں کوریج دی جا رہی ہے، جہاں ان کے بیان کو پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت پر سوالات اٹھانے کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کی ایک نشریاتی رپورٹ میں مولانا فضل الرحمان کے بیان کو نمایاں کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا گیا کہ ’کیا آپ ملک کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں؟‘ رپورٹ میں ان کے بیان کو پاکستان کو درپیش داخلی اور بیرونی چیلنجز کے تناظر میں بھی زیرِ بحث لایا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات کو بھارتی میڈیا نے ہاتھوں ہاتھ لے لیا! حسبِ روایت پاکستان کے اندرونی سیاسی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ملکی سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا کہ ان کا کون سا بیان سرحد پار ملک دشمن عناصر کے لیے مواد فراہم کر رہا ہے۔ pic.twitter.com/GkBNRBJXL0
— LEGEND (@abdelsaidi) October 30, 2026
مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں بھارت اور پاکستان کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک ایک ساتھ آزاد ہوئے، تاہم آج بھارت دنیا کی سپر پاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے اور پاکستان کے ساتھ جنگ اور مقابلے کی باتیں کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:36 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، فضل الرحمان سے متعلق سوالات اٹھ گئے
بھارتی میڈیا نے مولانا فضل الرحمان کے ریاستی اور عسکری قیادت سے متعلق بیان کو بھی اپنی رپورٹنگ کا حصہ بنایا ہے، جس کے باعث ان کے سیاسی مؤقف اور بیانات پر وہاں بحث جاری ہے۔









