وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہر صورت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا تجاوزات کا دفاع کرنا مناسب نہیں، کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے تجاوزات کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، یہ کارروائی آج شروع نہیں ہوئی بلکہ اسی مہم کے تحت مولانا فضل الرحمان جہاں رہ رہے ہیں، اس گھر کے مالک امان اللہ کو گرین ایریا میں قائم سیکیورٹی کیبن ہٹانے کے لیے 15 روز کا نوٹس دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر سکیں گے تو یہ مناسب رویہ نہیں۔ تجاوزات کسی کی بھی ہوں، ان کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ امان اللہ کو سیکیورٹی کیبن ہٹانے کے لیے 15 روز کا نوٹس دیا گیا ہے کیونکہ یہ کیبن گرین ایریا میں قائم ہے اور غیر قانونی تعمیرات کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑے گھروں کے باہر جنریٹرز اور سیکیورٹی کیبنز کے لیے بھی غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پوش علاقوں میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں
طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے پوش علاقوں میں بھی تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ شہریوں کو غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور نوٹس موصول ہونے کے بعد شہری خود تجاوزات ختم کر دیتے ہیں۔ کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تعمیرات کے لیے متعلقہ ادارے سے قانونی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران کسی کے قانونی تعمیراتی اجازت نامے کو چیلنج نہیں کیا گیا بلکہ صرف ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کی گئی ہیں۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جنریٹرز اور سیکیورٹی کیبنز سمیت غیر قانونی تعمیرات ہٹائی گئی ہیں اور ان کارروائیوں میں امیر، غریب اور بااثر افراد کے ساتھ یکساں سلوک کیا گیا ہے۔
’وزیر داخلہ نے خود تجاوزات ختم کرائیں، ایف سی کی عمارت بھی خالی کرائی گئی‘
طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے سرکاری زمین پر قائم تجاوزات اپنے ہاتھوں سے ختم کرائیں۔ ایک پارک میں قائم ایف سی کی عمارت خالی کرا کر جگہ دوبارہ پارک کے لیے بحال کی گئی، جبکہ فائیو اسٹار ہوٹلوں اور اہم عمارتوں کی غیر قانونی دیواریں بھی ہٹائی جا چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کسی ایک شخصیت یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ شہر بھر میں بلاامتیاز جاری ہے۔ کسی بااثر شخصیت یا طاقتور رہنما کے گھر کو بھی غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں رعایت نہیں دی جائے گی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ سرکاری زمین، پارکوں اور گرین بیلٹس پر قائم تجاوزات ختم کرانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
’مذہبی تنظیم کے نام پر سڑک بند کرکے قبضے کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا‘
طلال چوہدری نے کہا کہ پشاور میں بھی غیر قانونی عمارتوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جہاں سڑکوں، پارکوں اور سرکاری زمین پر قائم غیر قانونی تعمیرات مسمار کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی تنظیم کے نام پر سڑک بند کرکے غیر قانونی قبضے کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ والد کے نام سے منسوب عمارت کے باہر راستہ بند کرنا بھی سوالیہ نشان ہے۔
وزیر مملکت نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی ادارے کو لوگوں کی گزرگاہ روکنے اور سرکاری جگہ پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے؟ مذہب بھی راستے کھولنے اور لوگوں کے حقوق کا احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پر قانون کی پاسداری کی ذمہ داری عام شہریوں سے زیادہ عائد ہوتی ہے۔ سیاسی طاقت استعمال کرکے سڑکوں اور سرکاری مقامات پر غیر قانونی قبضوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مذہب اور سیاسی طاقت کے نام پر غیر قانونی اقدامات کا جواز پیش کرنا درست نہیں۔ ریاست نے ہر طبقے کو مواقع فراہم کیے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو سرکاری زمین پر قبضہ کرنے یا غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دینے کی اجازت مل گئی ہے۔
’وزیر داخلہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ذاتی حملے کیے گئے‘
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے، ان کا جواب دینے کے بجائے ان پر ذاتی حملے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ذاتی حملے ہماری روایات اور دینی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے لیکن اختلاف کے دوران بھی شائستگی اور اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
طلال چوہدری کے مطابق سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو اپنے طرزعمل سے قانون کی بالادستی اور اخلاقی اقدار کی مثال قائم کرنی چاہیے، نہ کہ غیر قانونی اقدامات کے دفاع کے لیے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرنا چاہیے۔
’شہدا کے نام پر الاٹ پلاٹوں پر قبضوں سے متعلق الزامات کا جواب دینے کا مطالبہ‘
طلال چوہدری نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کا مذاق اڑانا اور ان کے نام پر الاٹ کیے گئے پلاٹوں پر قبضہ کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہدا کے پلاٹوں پر قبضوں سے متعلق الزامات کا بھی جواب دیا جائے۔ شہدا کی قربانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ سڑکوں، پلاٹوں اور گرین بیلٹس پر قبضے کسی صورت قابل قبول نہیں اور ریاستی زمین، پارکوں اور عوامی مقامات کو تجاوزات سے خالی کرانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی قبضوں کو مذہبی وابستگی یا سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا اور قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے۔
طلال چوہدری نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں ہر صورت جاری رہیں گی اور کسی بااثر شخصیت، سیاسی رہنما یا مذہبی شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔










