دی یونیورسٹی آف لاہور میں ’سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کی قومی سلامتی‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی مکالمے میں سیاسی، پارلیمانی، قانونی، صحافتی اور آبی امور کے ماہرین نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کو درپیش آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ قومی حکمت عملی تشکیل دینا ضروری ہے۔ شرکا نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے خلاف یکطرفہ اقدام، صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم، آبی ذخائر کی تعمیر، ماحولیاتی تبدیلیوں اور پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
قومی مکالمے میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سینیٹر اور صدر پاکستان پیپلز پارٹی سندھ نثار احمد کھوڑو، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین، پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ، سابق سینیٹر محسن لغاری نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ ارسا کے ممبر پنجاب امجد سعید، سینیئر صحافی سہیل وڑائچ، سندھ کے صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو، وزارت آبی وسائل کے سابق وفاقی سیکریٹری عرفان علی، واپڈا کے مشیر شاہد حمید، حسن عباس، سکندر شاہ اور بین الاقوامی ماہر راس مسعود بھی شریک ہوئے۔
شرکا نے سندھ طاس معاہدے کے تاریخی پس منظر، قانونی حیثیت، سفارتی پہلوؤں، ماحولیاتی تبدیلیوں اور پاکستان کی موجودہ اور مستقبل کی آبی ضروریات پر تفصیلی گفتگو کی۔
آبی تنازعات کے حل کے لیے پنجاب اور سندھ کے قانون سازوں کو مکالمہ کرنا ہوگا، ملک محمد احمد خان
اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اہم قومی معاملات پر مکالمے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر دی یونیورسٹی آف لاہور کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اہم قومی موضوعات پر بحث و مباحثہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں ہونا چاہیے، تاہم جامعات اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور یوں پارلیمانی سطح پر پیدا ہونے والے خلا کو پُر کیا جا رہا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے خلاف یکطرفہ اقدام کو حالات میں بنیادی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور سندھ دونوں کو پانی کے حوالے سے اپنے اپنے خدشات لاحق ہیں۔
ان کے مطابق سندھ کو پانی کے بہاؤ میں مداخلت اور زیریں علاقوں تک مطلوبہ پانی نہ پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ پنجاب کو پانی کی دستیابی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے دونوں صوبوں کے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ باہمی مکالمے کے ذریعے غلط فہمیاں دور کریں اور آبی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پانی کا مسئلہ سنجیدہ غور و فکر اور تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت کا متقاضی ہے۔
انہوں نے امن کے قیام اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سندھ طاس معاہدے پر مستقبل کی حکمت عملی کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں، اٹارنی جنرل
اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے سندھ طاس معاہدے کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔
انہوں نے پاکستان کو درپیش موجودہ صورتحال کے تناظر میں مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی اور اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔
پانی کی تقسیم میں زیریں علاقوں کے مفادات نظرانداز نہیں ہونے چاہییں، نثار کھوڑو
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر نثار احمد کھوڑو نے اہم قومی معاملات پر مکالمے کے فروغ کے لیے دی یونیورسٹی آف لاہور کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کا زیریں دریائی ملک ہے، جبکہ سندھ پاکستان کا زیریں دریائی صوبہ ہے، اس لیے آبی وسائل کی تقسیم میں زیریں علاقوں کے مفادات اور خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
نثار کھوڑو کے مطابق پانی کا مسئلہ گزشتہ تقریباً 100 سال سے موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں سندھ کی جانب سے بارش کے پانی کو سمندر کی پیش قدمی روکنے کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر بات کی گئی تو اس کا مذاق اڑایا گیا، حالانکہ اس پانی کا مقصد سمندر کو پیچھے دھکیلنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو مطلوبہ پانی کی ایک مخصوص مقدار فراہم کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانی کے مسئلے کے حل میں کوئی رکاوٹ نہیں اور پاکستان کی قیادت نے اس معاملے پر مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے۔
بھارت کو سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرنا ہوگا، مہر علی شاہ
پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے خطے میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے اقدام نے پاکستان کے لیے ایک نئی سفارتی اور سیاسی گنجائش پیدا کی ہے۔
ان کے مطابق بھارت کا یہ فیصلہ خطے میں پانی کی تقسیم کے مستحکم نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے ٹھوس سفارتی اور قانونی اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے آبپاشی کے زیر انتظام رقبے میں اضافے کے لیے پاکستان کے بنیادی فیصلے کا بھی ذکر کیا۔
پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا، سابق چیئرمین واپڈا
واپڈا کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے کہا کہ بھارت 2025 میں یکطرفہ اقدام سے قبل بھی مختلف طریقوں سے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 کی جنگ کے بعد پاکستان واضح کر چکا ہے کہ پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
مزمل حسین نے ملک میں آبی بحران سے نمٹنے کے لیے پانی کے مؤثر استعمال، ذخیرہ کرنے اور بہتر انتظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بھارت سے لاحق خطرات کے باعث پاکستان سیکیورٹی اسٹیٹ بن گیا، سہیل وڑائچ
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے سندھ طاس معاہدے کو 1947 کی تقسیم کے بعد برصغیر کے لیے دوسرا اہم ترین مثبت اقدام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے نے خطے میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک ایسا نظام فراہم کیا جس کے تحت پانی کی دستیابی سے متعلق پیشگی اندازہ لگانا ممکن ہوا۔
سہیل وڑائچ نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور مکالمے کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے لاحق خطرات کے باعث پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ بن گیا، جس سے جمہوری عمل متاثر ہوا۔
انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت اور آبی راستے کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سمندر سندھ کے ہزاروں ایکڑ رقبے کو نگل چکا، کراچی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اسماعیل راہو
سندھ کے صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے سمندر کی پیش قدمی کے باعث سندھ کے ساحلی علاقوں کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے کئی اضلاع میں سمندر ہزاروں ایکڑ زمین نگل چکا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں زیریں علاقوں کی جانب پانی کے بہاؤ میں کمی بھی شامل ہے۔
اسماعیل راہو نے پانی کی قلت کے باعث سندھ کی اہم فصل گنے کی پیداوار پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں کراچی کو بھی سمندری پیش قدمی سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پانی کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے، ارسا ممبر پنجاب
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ممبر پنجاب امجد سعید نے شرکا کو پاکستان کے دریائی نظام اور سندھ طاس کے ڈھانچے سے آگاہ کیا۔
انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں پانی کی تقسیم کے طریقہ کار کی وضاحت کی اور آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی اہمیت اجاگر کی۔
پاکستان اور بھارت آبی آلودگی سے متعلق معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، محسن لغاری
سابق سینیٹر اور پنجاب کے سابق وزیر برائے آبپاشی و خزانہ محسن لغاری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں آبی آلودگی کی روک تھام سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں مختلف انداز میں ان شقوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
محسن لغاری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے نے زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی کی دستیابی میں ایک حد تک تسلسل اور پیشگی اندازے کی صلاحیت فراہم کی تھی، جو زرعی شعبے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
دریائے چناب پر 4 ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، شاہد حمید
واپڈا کے مشیر برائے ہائیڈرولوجی و آبی انتظام شاہد حمید نے دریائے چناب کو بھارت کی جانب سے ممکنہ آبی اقدامات کے حوالے سے پاکستان کا سب سے زیادہ حساس دریا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دریائے چناب کا تمام پانی بھارت سے آتا ہے، جس کے باعث یہ دریا خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔
شاہد حمید کے مطابق پاکستان نے بھارتی آبی اقدامات کے ممکنہ اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے دریائے چناب پر 4 ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر چین کے ساتھ مل کر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے، عرفان علی
وزارت آبی وسائل کے سابق وفاقی سیکریٹری عرفان علی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر دستخط کے وقت عالمی بینک کا جھکاؤ بھارت کی جانب تھا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان محض اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
عرفان علی نے نشاندہی کی کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت لاہور سے گزرنے والا دریائے راوی بھارت کے حصے میں آیا تھا۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اس مسئلے کے حل کے لیے چین کے ساتھ مل کر علاقائی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانا چاہیے۔
آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی پر زور
قومی مکالمے کے اختتام پر شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
مقررین کے مطابق اس حکمت عملی میں مؤثر سفارت کاری، قانونی اقدامات، صوبائی ہم آہنگی، آبی ذخائر کی تعمیر، ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے بہتر انتظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
شرکا نے مجموعی طور پر اتفاق کیا کہ پانی کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی زرعی معیشت، غذائی تحفظ اور مستقبل کے معاشی و قومی مفادات کا تحفظ آبی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور منصفانہ تقسیم سے مشروط ہے۔










