دہشتگردی ریڈ لائن، ملکی سلامتی کو افغان طالبان کی ٹال مٹول، ذمہ داریوں سے فرار، غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، پاکستان

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے افغان طالبان حکومت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، کابل دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ داری پوری کرے، بصورت دیگر پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین کے مطابق تمام ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری دہشت گردی ہے۔

لیکن طالبان قیادت اس اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے ذمہ داری اسلام آباد کی پالیسیوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کو اپنی ریڈ لائن سمجھتا ہے اور اپنے شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ناقابل قبول ہیں

وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان قیادت مسلسل اسلام آباد کی پالیسیوں کو پاک افغان تعلقات میں خرابی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے، لیکن کابل اس بنیادی مسئلے کو نظرانداز کررہا ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات میں زہر گھول رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے میں افغان طالبان حکومت کی مسلسل ناکامی ہی دوطرفہ تعلقات کی بہتری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار موجود ایسے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، نہ ہی اپنے شہریوں کو افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کا نشانہ بننے دے گا۔

قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق

وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے، خواہ ان خطرات کا منبع کہیں بھی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:انگور اڈہ سرحدی آبادی پر فائرنگ، طالبان کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش

بیان میں کابل کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان خطرات سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اسے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اپنے عوام کے تحفظ کے عزم کو کسی صورت کوئی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

الزام تراشی اور کھوکھلے وعدوں سے بحران حل نہیں ہوگا

وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے مسئلے سے مسلسل چشم پوشی پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے، کھوکھلی یقین دہانیاں کرانے اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھانے سے نہ تو موجودہ بحران حل ہوگا اور نہ ہی کابل اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوسکے گا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان قیادت کو تعلقات کی بہتری کے لیے الزام تراشی کے بجائے دہشتگردی کے بنیادی مسئلے کے حل پر توجہ دینا ہوگی۔

پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی بے عملی سے مشروط نہیں کیا جاسکتا

وزارت اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر افغان طالبان قیادت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو افغان طالبان کی بے عملی، ٹال مٹول، ذمہ داریوں سے فرار یا غلط ترجیحات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔

مزید پڑھیں:طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ کی کتاب کے زریں اصول اور کالعدم ٹی ٹی پی کی دہشتگرد کارروائیوں میں کھلا تضاد

بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور دہشت گردی کے معاملے پر اس کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔

واضح رہے کہ افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذ بیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دوطرفہ کشیدگی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، جبکہ کابل کی جانب سے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے مسئلے کے حل کی متعدد کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکیں۔

افغان طالبان سے وابستہ نشریاتی ادارے ’حریت ریڈیو‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ذ بیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ افغان حکومت نے اسلام آباد کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے اپنی آخری کوششیں بھی کرلی ہیں، تاہم اب تک ان کوششوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث ممالک اور افغان طالبان حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے بھی سفارتی کوششیں کی گئیں، لیکن یہ اقدامات بھی تاحال دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں تناؤ کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

ذبیع کے ان دعوؤں کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آ سکی، جبکہ پاکستان نے طالبان حکومت کو ہمیشہ سے ہی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، پاکستان کابل سے ایک ہی مطالبہ کرتا چلا آیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا