بھارت کی ریاست راجستھان میں ایک سینیئر آئی اے ایس افسر اور ان کی آئی پی ایس اہلیہ کے اثاثوں سے متعلق انکشافات نے ہلچل مچا دی ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو نے افسر اور ان کے اہل خانہ کے نام پر 2 شہروں میں خریدی گئی 36 ولاز کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5 کروڑ 52 لاکھ بھارتی روپے بتائی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آئی اے ایس افسر شیکھر اگروال پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی کمپنی گویل فیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کو غیر معمولی رعایتیں اور سہولتیں فراہم کیں، جبکہ اس کے عوض خود اور اہل خانہ کے لیے ریزورٹس میں کم قیمت پر جائیدادیں حاصل کیں۔ یہ کمپنی ’اننتا‘ برانڈ کے تحت ہوٹل اور ریزورٹس چلاتی ہے۔
Rajasthan: IPS officer Prashakha Mathur, who bought 40 villas suspendedhttps://t.co/fx1Ss7Taud
IAS husband is being probed by anti-corruption bureau pic.twitter.com/Wg59HZjorD
— OpIndia.com (@OpIndia_com) November 1, 2026
تحقیقات میں ادے پور کے علاقے بوجھڑا میں 20 ولاز کی خریداری سامنے آئی ہے، جن میں سے 10 شیکھر اگروال اور 10 ان کی اہلیہ پراشکھا ماتھر کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔ ہر ولا کی قیمت تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب الور کے علاقے اجاب گڑھ میں واقع اننتا ریزورٹ کی 16 ولاز بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔ ان میں سے بعض افسر اور ان کی اہلیہ، کچھ ان کے 2 بیٹوں جبکہ باقی سسرالی رشتے داروں کے نام پر خریدے جانے کا الزام ہے۔ ان جائیدادوں کی قیمت 15 لاکھ سے ساڑھے 16 لاکھ روپے فی ولا کے درمیان بتائی گئی ہے۔
اینٹی کرپشن بیورو کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی کو 27 مارچ 2026 کو خصوصی مالی رعایت دی گئی، جبکہ اسی روز افسر اور اہل خانہ کے نام پر 20 ولاز کی رجسٹریشن بھی ہوئی۔
ریاستی حکومت نے انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت باقاعدہ تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم الزامات کی حتمی تصدیق تفتیش اور متعلقہ فریقین کے مؤقف کے بعد ہی ہوسکے گی۔










