دہلی میں امسال فضائی آلودگی کے خلاف کون سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

اتوار 1 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دہلی اور قومی دارالحکومتی خطے (این سی آر) میں موسمِ سرما کی شدید فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے نيا اور سخت حفاظتی فریم ورک نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکام نے آنے والے مہینوں کے دوران اسموگ میں کمی اور ہوا کا معیار بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

دہلی کی وزیراعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، دہلی میں غیر BS-6 گاڑیوں کے داخلے اور ان کے چلانے پر یکم نومبر 2026 سے مکمل پابندی رہے گی، جو 31 جنوری 2027 تک برقرار رہے گی۔

ان قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی این فورسمنٹ ٹیمیں، خودکار نمبر پلیٹ کیمرے (ANPR) اور مصنوعی ذہانت سے لیس مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (ICCC) کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے فوری ای چالان (آن لائن چالان) کاٹے جائیں گے۔

این سی آر میں سفر کرنے والوں کے لیے اہم اور بنیادی تبدیلیاں درج ذیل ہیں:

1۔ پرانی اور غیر معیار کی گاڑیوں پر مکمل پابندی

دہلی سے باہر کی ایسی گاڑیاں جو بی ایس 6 (BS-VI) معیار پر پورا نہیں اترتیں، ان کا دارالحکومت میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے نوئیڈا، گروگرام، فرید آباد اور غازی آباد سے آنے والی تقریباً 10 لاکھ پرانی پیٹرول و ڈیزل گاڑیاں متاثر ہوں گی۔ تاہم الیکٹرک اور سی این جی گاڑیوں سمیت ایمرجنسی خدمات جیسے ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

2۔ تعمیراتی کاموں پر یکسر روکس

حکومت کے مطابق یکم نومبر سے 31 جنوری تک دھول اور گرد اڑانے والی تمام قسم کی مسماری اور بیرونی سول تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔ صرف مخصوص اور اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو کڑی شرائط کے ساتھ استثنیٰ دیا گیا ہے۔ جبکہ عمارتوں کے اندرونی فنشنگ، پلمبنگ اور الیکٹریکل کام، جو گرد و غبار کے قواعد کے مطابق ہوں، جاری رہ سکیں گے۔

3۔ 50 فیصد عملے کا ’ورک فرام ہوم‘

سرکاری اور نجی دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے صرف 50 فیصد عملے کو دفتر بلائیں جبکہ باقی عملے کے لیے گھر سے کام لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو اس پابندی سے الگ رکھا گیا ہے۔

4۔ اوقاتِ کار میں تبدیلی اور پارکنگ فیس میں اضافہ

ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے مختلف بلدیاتی اور سرکاری اداروں کے اوقات کار میں تنوع لایا گیا ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے دفاتر صبح 8:30 سے شام 5:00 بجے تک کام کریں گے، جبکہ دہلی حکومت کے دفاتر کے اوقات صبح 10:00 سے شام 6:30 بجے تک ہوں گے۔ مزید برآں، نجی گاڑیوں کے استعمال کو کی حوصلہ شکنی کے لیے عوامی پارکنگ کے کرائے دوگنے کر دیے گئے ہیں، تاہم دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی پارکنگز پر اس اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

5۔ آلودگی سرٹیفکیٹ کے بغیر ایندھن کی فراہمی بند

یکم نومبر سے دہلی کے پٹرول پمپوں پر ‘نو پی یو سی، نو فیول’ پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔ اس کی نگران کے لیے دہلی کے 500 پٹرول پمپوں پر این پی آر  کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو گاڑی کی نمبر پلیٹ کا ڈیٹا چیک کریں گے۔ اگر گاڑی کا آلودگی سے متعلق کنٹرول کا سرٹیفکیٹ منسوخ یا غیر فعال پایا گیا تو پمپ آپریٹر ایندھن (پٹرول، ڈیزل يا سی این جی) فراہم نہیں کرے گا۔

دہلی اور ملحقہ شہروں کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھاری جرمانے سے بچنے کے لیے اپنی گاڑی کے اخراج کا معیار چیک کر کے ہی سفر کی منصوبہ بندی کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا