افریقی ملک ملاوی میں خشک سالی اور گھاس کی قلت کے باعث مویشی پالنے والے کسانوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ چارے کی تلاش میں کسانوں اور مزدوروں کو کئی کلومیٹر دور دریاؤں کے کناروں تک جانا پڑ رہا ہے، جبکہ جانوروں کی خوراک مہنگی ہونے سے ان کی آمدنی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ملاوی کے ضلع مولانجے میں کسانوں کو مویشیوں کے لیے مناسب مقدار میں گھاس تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ 25 سالہ لارنس ابیسن اپنے 3 ساتھیوں کے ساتھ نسانجاما سے 27 کلومیٹر دور دریائے لِخوبولا کے کنارے چارے کی تلاش میں پہنچا۔ تقریباً 2 گھنٹے گھاس کاٹنے کے بعد وہ 10 مویشیوں کے لیے صرف ایک دن کا چارہ جمع کر سکے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ پہلے وہ اکتوبر کے بعد گھاس جمع کرنے کے لیے دریاؤں کا رخ کرتے تھے، لیکن اس سال انہیں کئی ماہ پہلے ہی دور دراز علاقوں کا سفر شروع کرنا پڑا۔ دریاؤں کے کناروں پر گھاس اور سرکنڈوں کی کمی کے باعث چارہ جمع کرنے والوں کے درمیان مقابلہ بھی بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غیر معمولی’ایل نینو‘ طوفان دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والا ہے، اقوام متحدہ کی ہنگامی وارننگ جاری
54 سالہ کسان میکڈونلڈ کھنڈالاوا کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گھاس کی قلت پیدا ہوئی ہے، جس سے مویشیوں کی خوراک پر اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ چارے کی کمی کے باعث ان کی گایوں کے دودھ کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ مکئی کا چوکر بھی مہنگا اور کم دستیاب ہے، جس سے کسانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کسان دریاؤں کے کناروں پر درختوں کی کٹائی اور کاشت کاری کو بھی گھاس اور پانی کی کمی کی وجوہات میں شمار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درختوں اور قدرتی نباتات کے خاتمے سے دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہوئی ہے اور کناروں پر گھاس بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔
ملاوی میں 2023 اور 2024 کے بارشوں کے موسم کے دوران بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم رہیں اور طویل خشک وقفے پڑے۔ ایل نینو کے باعث جنوبی افریقہ کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے انداز بھی متاثر ہوئے تھے۔
مولانجے میں 400 کسانوں پر مشتمل نیو تھوچیرا ملک بلکنگ گروپ سے وابستہ میکڈونلڈ کھنڈالاوا کے مطابق دودھ کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ اب چارہ جمع کرنے والوں کی اجرت اور جانوروں کی اضافی خوراک خریدنے پر خرچ ہو رہا ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات برقرار رہے تو مویشی پالنا مزید مشکل ہو جائے گا۔









