انڈونیشیا میں خشک سالی کے باعث بھڑکنے والی جنگلاتی اور زمینی آگ کے زہریلے دھوئیں نے ستمبر کے دوران 3 ہزار 560 افراد کی جان لے لی، جبکہ فضائی آلودگی سے مجموعی اموات کی تعداد 5 ہزار 310 تک پہنچ گئی۔
الجزیرہ کے مطابق یہ اعداد و شمار توانائی اور صاف ہوا کے شعبے میں تحقیق کرنے والے ادارے ’سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر‘ کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں اگست کے مقابلے میں 42 فیصد اضافہ ہوا، جب یہ تعداد 3 ہزار 740 تھی۔
Turut berduka untuk ribuan nyawa yg diperkirakan hilang akibat polusi asap karhutla di indonesia. 🥀 sepanjang september 2026, estimasinya mencapai 3.560 kematian.
Mirisnya, kabar sebesar ini justru ramai setelah diberitakan media luar. kok bisa tragedi sebesar ini gak jadi… pic.twitter.com/UGZ0YHD39K
— rekomendasifilm (@rkmndsfilm) November 1, 2026
رپورٹ کے مطابق جنگلاتی اور زمینی آگ کے دھوئیں سے ہونے والی اموات کے علاوہ شہری اور صنعتی فضائی آلودگی کے باعث بھی ایک ہزار 750 افراد ہلاک ہوئے۔
آگ سے متاثرہ جزیرے بورنیو کے علاقے کلیمانتن میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں 94 سے 99 فیصد حصہ جنگلاتی آگ کے زہریلے دھوئیں کا تھا، جبکہ سماٹرا میں یہ شرح 80 فیصد سے زیادہ رہی۔ اس کے برعکس جاوا کے جنوبی جزیرے میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کی بڑی وجہ شہری اور صنعتی آلودگی رہی۔
یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا میں آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد 2 نئے جزیرے نمودار
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر کے دوران انڈونیشیا میں 5 کروڑ 80 لاکھ افراد کو غیر صحت بخش سے لے کر انتہائی خطرناک فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کلیمانتن میں شدید آلودگی کے دنوں میں خطرناک درجے کی آلودہ ہوا میں سانس لینے والے افراد کی تعداد 28 لاکھ سے بڑھ کر 64 لاکھ ہوگئی۔
ایل نینو موسمی اثرات اور شدید خشک سالی کے باعث انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی، جس سے جنگلات کو نقصان پہنچنے کے ساتھ زہریلا دھواں جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک تک بھی پھیل گیا۔ ملائیشیا، سنگاپور، فلپائن اور مشرقی تیمور بھی اس دھوئیں سے متاثر ہوئے۔
آگ پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات پر تنقید کے بعد انڈونیشیا کی حکومت نے بتایا کہ آگ بجھانے اور مصنوعی بارش برسانے کے لیے 72 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں 2 ہزار 100 سے زیادہ ڈاکٹر اور طبی کارکن بھیجنے کے علاوہ 53 لاکھ ماسک تقسیم کیے گئے ہیں۔










