محبت کا ایک مبینہ قصہ اس وقت سنگین جرائم کے مقدمے میں بدل گیا جب ایک تاجر نے اپنے بیٹے اور اس کی گرل فرینڈ کے چار اہل خانہ پر کوٹ لکھپت میں واقع اپنے گھر سے 70 تولے سونا چرانے کا الزام عائد کر دیا۔
کوٹ لکھپت پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق، مدعیِ مقدمہ علی رحمان نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے عمان نے مبینہ طور پر گھر سے خفیہ طریقے سے سونے کے زیورات نکال کر اپنی گرل فرینڈ کے خاندان کے حوالے کیے، جنہوں نے وہ سونا لاہور اور قصور کے صرافوں (سناروں) کو فروخت کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے لمحوں میں لاکھوں کا سونا چوری، کیمرہ دیکھتا ہی رہ گیا
مقدمے کے متن کے مطابق، مدعی کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ نے گھر کی الماری میں ایک ہینڈ بیگ کے اندر تقریباً 70 تولے سونے کے زیورات چھپا کر رکھے تھے۔ اس چوری کا انکشاف اس وقت ہوا جب جوڑے نے بیگ کھول کر دیکھا تو زیورات غائب تھے۔
علی رحمان کے مطابق، انہیں اپنے بیٹے پر شک ہوا تو انہوں نے گمشدہ قیمتی اشیا کے بارے میں اس سے پوچھ گچھ کی۔
تفتیش کے دوران مشتبہ بیٹے نے اعتراف کیا کہ وہ ایک لڑکی سے تعلق میں ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، بیٹے نے اپنے باپ کو بتایا کہ لڑکی کے گھر والوں نے ہی اسے ترغیب دی تھی کہ وہ اپنے گھر سے قیمتی زیورات چرا کر انہیں فروخت کے لیے دے دے۔
لڑکی کے اہل خانہ نے مبینہ طور پر اسے کہا تھا کہ چونکہ وہ ایک کم عمر نوجوان ہے، اس لیے وہ خود مارکیٹ میں زیورات نہیں بیچ سکے گا۔
یہ بھی پڑھیے عمرے کی ادائیگی سے واپسی پر خاتون 20 تولہ سونا چوری کے الزام میں گرفتار
مدعی نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد ملزم بیٹے نے باری باری ٹکڑوں کی شکل میں زیورات گھر سے نکالے اور لڑکی کے رشتہ داروں کے حوالے کیے، جنہوں نے لاہور اور قصور میں اپنے ذاتی رابطوں کے ذریعے وہ سونا فروخت کر دیا۔










