وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے موسم سرما میں توانائی کے غیر ضروری استعمال سے گریز اور بچت کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کے استعمال میں معمولی احتیاط بھی قیمتی زرمبادلہ کی بچت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں متاثر ہوئیں، تاہم عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتے ہی عوام کو بھی فوری ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
نجی یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے مقبول فیصلوں کے بجائے ملکی زرمبادلہ کے تحفظ کو ترجیح دی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے وسائل ان افراد پر مرکوز رکھے جو اس امداد کے سب سے زیادہ مستحق تھے اور آبنائے ہرمز کے بحران کا دیگر ممالک کے مقابلے میں کم نقصان کے ساتھ سامنا کیا۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ 12 سے 13 ملین مستحق افراد کو جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر سبسڈائزڈ پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال نے سب کو متاثر کیا ہے۔ مختلف ممالک کو اپنی معیشتیں چلانے کے لیے مہنگا تیل، گیس، ایل پی جی اور دیگر ایندھن خریدنے کی خاطر قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ عوام کو بھی اپنے خاندانوں کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا بحران اپنی شدت اور وسعت کے اعتبار سے غیر معمولی رہا ہے اور اس کے مسلسل جاری رہنے سے مختلف ممالک کی استعداد آزمائش سے گزری ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ الحمدللہ پاکستان نے وہ معاشی استحکام برقرار رکھا ہے جس کے حصول کے لیے سب نے محنت کی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں شفافیت لائی گئی ہے اور تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جا رہی ہیں تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں بہتری آنے پر اس کا فائدہ خود بخود عوام کے گھروں تک پہنچ سکے۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ موسم سرما میں توانائی کے غیر ضروری استعمال سے گریز اور بچت کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ توانائی کے استعمال میں معمولی احتیاط بھی ملکی قیمتی زرمبادلہ بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔









