خیبرپختونخوا: پولیس نے دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے 40 ارب روپے مانگ لیے، یہ رقم کہاں خرچ ہوگی؟

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا پولیس نے صوبے کے دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں پولیسنگ کو مؤثر بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے 40 ارب روپے کا اضافی پیکج مانگ لیا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد صوبے کے سابقہ قبائلی اضلاع سمیت 12 مخصوص اضلاع میں سیکیورٹی بہتر بنانے اور پولیس کی استعدادِ کار بڑھانے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس پر 40 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ ہفتوں اور مہینوں میں ہوگا، زیادہ وقت نہیں لگے گا، رانا ثنااللہ

پولیس نے یہ منصوبہ وفاق کو ارسال کرکے 40 ارب روپے مانگ لیے ہیں۔ پولیس کے مطابق لکی مروت، کرک، ڈی آئی خان، ٹانک اور ضم شدہ اضلاع میں پولیس کو جدید سہولیات کی فراہمی سمیت اس کی استعدادِ کار بڑھانا مقصود ہے۔

40 ارب روپے کہاں خرچ ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور سابقہ قبائلی اضلاع سمیت دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، جن کے لیے ایک الگ کونسل اور انتظامی امور کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جو ان علاقوں کی ترقی پر کام کریں گے۔ جبکہ ان علاقوں میں پولیسنگ بہتر بنانے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس نے بھی ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید چوہدری نے 12 مخصوص اضلاع کے لیے خصوصی منصوبے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئے منصوبے میں ایمرجنسی والے 12 اضلاع پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور پیکج ان اضلاع میں پولیسنگ پر خرچ ہوگا۔

ان کے مطابق وفاق کو ارسال کیے گئے منصوبے میں پولیس نظام کو جدید بنانے، انفراسٹرکچر اور وسائل کی فراہمی، جدید سازوسامان اور گاڑیوں کی فراہمی شامل ہے، جس کے لیے 40 ارب روپے درکار ہوں گے۔

ذوالفقار حمید کے مطابق دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں پولیس کی استعدادِ کار بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید اسلحہ، ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری سازوسامان کی فراہمی کو اعلیٰ ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاق کو ارسال کیے گئے منصوبے میں ان تمام ضروریات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ اس منصوبے میں ان 12 اضلاع کے سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل اور انہیں فعال کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ آئندہ ایک سال کے دوران ان اضلاع میں سیف سٹی منصوبے مکمل کیے جائیں۔

ان کے مطابق صوبے کے سابقہ قبائلی اضلاع میں پولیس کا باقاعدہ انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا، اس لیے اب وہاں منظم طور پر پولیس کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا ہے، جبکہ جن علاقوں میں پولیسنگ کمزور ہے یا اس میں کسی قسم کی خامیاں موجود ہیں، انہیں دور کرکے مزید مضبوط بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

کیا وفاق 40 ارب روپے دے گی؟

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد وفاق نے صوبے میں امن و امان پر خصوصی توجہ دینے اور دہشتگردی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ گورنر راج کے بعد وزیراعظم میاں شہباز شریف بھی پشاور آئے اور پولیس کو ہر قسم کی جدید سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

گورنر خیبر پختونخوا، جو اس وقت صوبے کے سربراہ بھی ہیں، نے بھی پولیس کی تنخواہوں میں اضافے سمیت جدید سہولیات کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع وفاق کے کنٹرول میں، ایڈمنسٹریٹر کو صوبائی کابینہ کے اختیارات حاصل ہوں گے

پولیس حکام کے مطابق وزیراعظم نے پشاور کے دورے کے دوران صوبے کو 160 ارب روپے کا پیکج دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم 40 ارب روپے اس کے علاوہ ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق 160 ارب روپے کا پیکج پورے صوبے کے لیے ہے، جبکہ 40 ارب روپے صرف دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا