بلاول بھٹو نے وزارتِ عظمیٰ کی پیشکش مسترد کر دی، قمر زمان کائرہ

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومت سازی کے لیے مذاکرات کے دوران بلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ پہلی بار انکار کے باوجود بلاول بھٹو کو دوبارہ پیشکش کی گئی کہ وہ ڈھائی سال کے لیے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیں۔

لیکن قمر زمان کائرہ کے مطابق، بلاول بھٹو نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اگر وہ اس پیشکش پر رضامند ہو جاتے اور یہ بات معاہدے میں درج کر دی جاتی تو لوگ پہلے دن سے ہی نئی حکومت کو ڈھائی سالہ حکومت کہنا شروع کر دیتے۔

قمر زمان کائرہ کے مطابق بلاول بھٹو چاہتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کمزور نہ ہو بلکہ پوری طاقت کے ساتھ اپنی پالیسیاں نافذ کرنے کے لیے کام کرے۔

بلاول بھٹو نے شہباز شریف سے کہا کہ وہ ہمارے 5 سال کے لیے وزیراعظم ہیں۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو وزیراعظم ضرور بنیں گے، لیکن اس وقت جب عوام انہیں ووٹ دیں گے، وہ کسی بارگیننگ کے ذریعے وزیراعظم نہیں بنیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا