خدشات سے صارفین کے اعتماد تک، پشاور کی نایاب کا منفرد سفر

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور سے تعلق رکھنے والی نایاب نے کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک ایسے پیشے کو اپنا ذریعہ معاش بنایا جہاں عموماً مرد ہی کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

نایاب نہ صرف لیپ ٹاپس کی مرمت کرتی ہیں بلکہ سافٹ ویئر سے متعلق کام بھی انجام دیتی ہیں اور اپنی فنی مہارت سے اس تاثر کو غلط ثابت کر رہی ہیں کہ ٹیکنیکل کام صرف مرد ہی کرسکتے ہیں۔

نایاب نے خوشحال خان خٹک یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی سے ان کی دلچسپی 9ویں جماعت ہی سے شروع ہوگئی تھی، جو وقت کے ساتھ شوق سے آگے بڑھ کر ان کے پیشہ ورانہ سفر میں تبدیل ہوگئی۔

ایف اے اور ایف ایس سی کے بعد انہوں نے کمپیوٹر سائنس میں اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور اب پشاور کے گل جی پلازہ میں لیپ ٹاپس کی مرمت اور سافٹ ویئر سے متعلق کام کر رہی ہیں۔

نایاب کے لیے اس شعبے میں قدم رکھنا آسان نہیں تھا، وہ ایک ایسے ماحول میں کام کرنے آئیں جہاں زیادہ تر دکانوں اور ورکشاپس میں مرد ہی موجود تھے اور کسی خاتون کا کمپیوٹر کی مرمت جیسے تکنیکی کام سے وابستہ ہونا لوگوں کے لیے غیر معمولی بات تھی۔

ابتدا میں انہیں نہ صرف سماجی رویوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بعض لوگ انہیں کام کرنے کا موقع دینے سے بھی ہچکچاتے تھے۔ ان کے بقول، لوگ یہ سوچ کر انہیں اپنے لیپ ٹاپ یا دیگر آلات کو ہاتھ لگانے نہیں دیتے تھے کہ وہ ایک لڑکی ہیں اور شاید یہ تکنیکی کام نہیں کرسکیں گی۔

تاہم نایاب نے ان رویوں سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے اپنی مہارت بہتر بنانے پر توجہ دی، ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی کام میں جتنا زیادہ سیکھا جائے اور تجربہ حاصل کیا جائے، اتنی ہی مہارت اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کی محنت رنگ لائی اور جو لوگ ابتدا میں ان سے کام کروانے سے ہچکچاتے تھے، آج وہی اپنی تکنیکی ضروریات کے لیے خود ان کے پاس آتے ہیں۔

نایاب اپنے اس سفر میں والدین کی حمایت کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں، ان کے مطابق والدین نے کبھی یہ فرق نہیں کیا کہ وہ لڑکی ہیں اور کسی مردانہ ماحول میں کام نہیں کرسکتیں، ان کی بھرپور حوصلہ افزائی اور اعتماد ہی کی بدولت وہ مشکلات کے باوجود اپنے شوق کو پیشے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

نایاب کے پاس آنے والی خواتین صارفین کی تعداد بھی خاصی ہے، ان کا کہنا ہے کہ خواتین اپنے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کی مرمت کے لیے انہیں ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ اپنے ذاتی ڈیٹا اور معلومات کے حوالے سے ان کے پاس زیادہ اطمینان محسوس کرتی ہیں۔

یوں نایاب کی فنی مہارت نہ صرف انہیں ایک کامیاب پیشہ ورانہ شناخت دے رہی ہے بلکہ خواتین صارفین کے لیے بھی سہولت اور اعتماد کا ذریعہ بن رہی ہے۔

اپنے تجربے کی روشنی میں نایاب دوسری لڑکیوں کو بھی پیغام دیتی ہیں کہ زندگی میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ ملتے ہیں، لیکن مشکلات یا دوسروں کی باتوں سے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق اگر انسان ابتدا ہی میں ہمت ہار جائے تو آگے بڑھنا مشکل ہوجاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اپنے مقصد پر توجہ رکھی جائے، سیکھنے کا عمل جاری رکھا جائے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جائے۔

نایاب کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ اگر شوق، محنت، مستقل مزاجی اور گھر والوں کا تعاون حاصل ہو تو خواتین کسی بھی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکتی ہیں اور معاشرتی تصورات کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا